آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ نہیں کیا: وزیراعظم

  • جمعہ 07 / جنوری / 2022
  • 4870

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انہوں نے اب تک آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں نہیں سوچا۔

وزیراعظم نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سال ابھی شروع ہوا ہے اور نومبر بہت دور ہے۔  ابھی سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں  ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے فوجی قیادت کے ساتھ مثالی تعلقات ہیں۔

ان سے مسلم لیگ (ن) اور فوج کے درمیان ممکنہ ڈیل اور حکومت کو گھر بھیجنے کی افواہوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا انہیں کسی بھی جانب سے خطرہ محسوس ہوا، تو وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر کسی قسم کے دباؤ میں نہیں ہیں۔ انہیں حکومتی اتحادیوں کی حمایت حاصل ہے اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کی حکومت اپنے مینڈیٹ کے پانچ سال مکمل کرے گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اپوزیشن کی بڑی شخصیات پر بدعنوانی کے الزامات پر ابھی تک مقدمہ نہیں چلا اور کمزور پراسیکیوشن کی وجہ سے وہ آزاد گھوم رہے ہیں۔ قومی احتساب بیورو (نیب) عدالت میں مقدمات لے جاتا ہے لیکن ان پر کارروائی نہیں ہو رہی۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف بدعنوانی کے ثبوت ہونے کے باوجود ان کے خلاف کارروائی نہ کرنا ان کی حکومت کی سب سے بڑی کوتاہی ہے۔ تاہم وہ اس حوالے سے پُرامید دکھائی دیے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) جو تازہ کیس لے کر آیا ہے اس میں وہ سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا میں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی شکست کو 'بڑا نقصان' قرار دیا۔ وزیراعظم سے پوچھا گیا کہ پی ٹی آئی نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے کیسی منصوبہ بندی کی ہے تو انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پر اعتماد کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ جب پنجاب میں انتخابات ہوں گے تو ان کی پارٹی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔