کرپشن کے خلاف نعرے اور فارن فنڈنگ کیس؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 07 / جنوری / 2022
- 8630
کسی بھی قوم نے اگر آگے بڑھنا ہے تو شرط اولین یہ ہے کہ وہ نان ایشوز میں الجھنے کی بجائے اپنے اصل ایشوز کو لے کر پالیسیاں بنائے اور عمل پیرا ہو۔ دوسرے نعرے بازی کی بجائے ٹھوس لائحہ عمل کا تعین کرے۔
اپنےوژن یا پروگرام کی مطابقت میں نعرے نکالنا بری چیز نہیں لیکن اگر ٹارگٹ عام آدمی کو بے وقوف بناتے ہوئے محض اس کو لبھانے کےلئے جذباتی سلوگنز کا استعمال ہو تو اس کی تحسین کیسے کی جا سکتی ہے؟ یوں عامۃ الناس کوبھڑکا کر یا اپنے پیچھے لگا کر نعرے باز وقتی طور پر اپنا الو تو سیدھا کر لیتا ہے لیکن قوم کو سوائے مایوسی کے اورکچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہاں بالعموم چونکہ شعور کی بجائے جذباتیت کو زیادہ پسند کیا جاتاہے، اس لئےہمارے ہیروز بھی بالعموم ایسے لوگ ہی قرارپاتے ہیں جو جذباتی طور پر قوم کا زیادہ سے زیادہ استحصال کرتے ہیں۔
درویش نے دو دہائیاں قبل ایک آرٹیکل تحریر کیا تھا کہ ہماری قوم کو روز اول سے دو بظاہر خوبصورت مگر جذباتی نعروں نے بہت نقصان پہنچایا ہے جن میں سے ایک اسلامائزیشن کا نعرہ ہے اور دوسرا ہے کرپشن کے خلاف احتساب کا واویلا۔ بظاہر دونوں بڑے شاندار اور دلربا سلوگنز ہیں۔ اپنےعقیدے پر جان چھڑکنے والاکونسا انسان ہے جو اس کی ترویج و سربلندی کا خواستگار نہ ہو اور قومی تعمیر و ترقی کا کون سا ایسا آرزومند ہے جو کرپشن اور لوٹ مار کا خاتمہ نہ چاہتا ہو۔ ایسے نعرے بازوں کے اندرونی عزائم جو بھی ہوں وہ کس قدر خود غرض طمع خور، اقتدار کے حریض، بھوکے یا لالچی ہوں عام عوام یہ دیکھے یا پرکھے بغیر بالعموم ایسے ڈگڈگی باز کے پیچھے ہو جاتے ہیں۔ اگروہ لچھے دار تقاریر کر سکتا ہو پھر تو مقبولیت کے کیا کہنے!
ہمارے لوگ اس مداری کو اپنا نجات دہندہ خیال کرنے لگتے ہیں۔ سات دہائیوں پر محیط ہماری مختصر تاریخ میں اگرچہ ہمارے عوام ایسے شعبدہ باز سپیروں سے متعدد بار ڈسے جا چکے ہیں لیکن ان تلخ تجربات سے سیکھنے کی بجائے حالت آج بھی یہ حالت ہے کہ یہاں مفادات کے پجاری ریاست مدینہ کے خوشنما نعروں سے لچھے دارتقاریر کرتے گلا خشک نہیں ہونے دیتے اور ساتھ ہی اس بات پر زور لگاتے ہیں کہ ہم کرپشن کے خلاف احتساب کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ پاکستانیو! میرے سوا باقی سب چور لٹیرے ہیں، میں انہیں نہیں چھوڑوں گا، چوری کا مال ان کے پیٹوں سے نکالوں گا ، کسی کو بھاگنے نہیں دوں گا بلکہ بھاگے ہوئے کو واپس لاؤں گا اور قوم کی لوٹی ہوئی ساری رقوم برآمد کرواؤں گا۔ تازہ ارشاد ہےکہ مدینہ کی ریاست دنیا کی تاریخ کا سب سے کامیاب ماڈل تھی جب کرپشن کو ختم کیا جائے تو قوم کو فائدہ ہوتاہے۔ پچیس سال سے کہہ رہا ہوں کہ ملک کاسب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، سابق حکمرانوں نے سڑکوں کا ایک ہزار ارب چرالیا ہے۔
جب پوچھا جاتاہے کہ حضور آپ نے گزشتہ ڈھائی دہائیوں سے کرپشن کرپشن کا اس قدر واویلا کیاہے۔ اب آپ ساڑھے تین سالوں سے برسر اقتدار ہیں، پوری خلائی و ماورائی طاقتیں آپ کی پشت پر کھڑی رہی ہیں، تمام تر احتسابی ادارے آپ کے زرخرید غلام بنے رہے ہیں مگر بشمول میاں صاحب کسی بھی سیاستدان کے خلاف آپ دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں کر سکے تو جواب ملتاہے کہ ’کیا کریں انہوں نے اپنے خلاف کہیں کوئی ثبوت تو چھوڑا نہیں ہے‘۔ اس پر اگلا فوری سوال یہ بنتا ہے کہ جب آپ کے پاس کسی کےخلاف کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ہے تو معزز سیاستدانوں کے خلاف یہ نفرت انگیز واویلا کس چکر میں کر رہے ہیں؟
ریاست مدینہ کا نام جپنے والے کو کیا شرم نہیں آنی چاہیے کہ بلا ثبوت اگر وہ کسی پر الزام لگاتا ہے تو ایساشخص قذف کا مرتکب قرار پاتا ہے۔ اب آپ خود ہی نوٹ فرما لیں کہ آپ کے خلاف ریاست مدینہ میں رجم کے علاوہ کتنے کوڑے سزا بنتی ہے۔ آج فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے جو حقائق قوم کے سامنےآئےہیں کرپشن کا واویلا کرنے والوں کو کیا اس آئینے میں دکھنے والے چہرے پہچاننے نہیں چاہئیں؟ صادق و امین کے مفاداتی خطابات بانٹنے والے آج کہاں ہیں؟ لوگ جانناچاہتے ہیں کہ پانامہ میں کچھ ثابت نہ ہونے پر اقامہ کے تحت محض اس الزام پر کہ بیٹے سے جو تنخواہ نہیں لی گئی، اسے ظاہر نہ کرنے پر وزیراعظم کو رخصت کیا جا سکتا ہے تو اس کے متعلق کیا خیال ہے جس کے حسابات میں 31کروڑ کی خرد برد قوم کے سامنے ہے۔ یہ انصاف کا کیسا معیار ہے کہ پانامہ کیس میں چار سولوگوں کے نام آئے مگر اتنے سالوں میں سوائے ایک کے کسی کی نشاندہی ہوئی نہ انگلی اٹھائی گئی۔ یہی صورت حال پینڈورا پیپرز کی بھی رہی تب احتساب کی شتابی تھی مگر اب کے فارن فنڈنگ کیس میں کیسے سات سال بیت گئے؟۔
تب کہا جارہا تھاکہ جس کے خلاف الزام ہو شفاف احتساب کیلئے اسے اپنے عہدے پر رہنےکا حق نہیں ہے۔ آج یہ اصول کہاں گیا؟ کہا جاتا تھا کہ جب مہنگائی ہوتی ہے تو وزیراعظم چور ہوتا ہے۔ آج مہنگائی کا جو عالم ہے، کیا تب کی تشویش کرنے والے آج من وسلویٰ کھارہےہیں؟ کیا دس ہزار درہم اکتیس کروڑ سے زیادہ بھاری تھے؟۔ اگر کسی پارٹی یا تنظیم کیلئے فارن کمپنی سے عطیات لینا جرم ہے توپھر اس کےمرتکب ہر پارٹی لیڈر کو کیوں قانون کے شکنجے میں نہیں آنا چاہیے؟۔ یہاں کیسے کیسے حقائق منکشف ہو رہے ہیں خیرات ، صدقات کی رقوم کس طرح جوا خانوں میں ہاری گئیں، کیسے کیسے وجیہہ وثقہ لوگ کیاکچھ بتا رہےہیں کہ پہلے گھر کا خرچہ تیس لاکھ دیا جاتا تھاجو پچاس لاکھ کر دیا گیاتھا۔ تحائف کے نام پر کس کس نے کیا کیا خدمات سرانجام دیں اور مابعد کیا کیا وصولیاں کیں، کن کن لوگوں کو کیسے کیسے نوازا گیا۔
جنگلہ بس کا رونا رویا جاتا تھا مگر پشاور میں ایسی سکیم پر قومی خزانے کی کس طرح بربادی کی گئی۔ سرسبز پاکستان کے نام پر کےپی میں کتنے درخت فائلوں میں اگائے گئے؟ کہاں کہاں کتنی سڑکیں کھائی گئیں، الزامات عائد کرنے میں کیا مشکلات ہیں، جب بلاثبوت ہانکنی ہو تو کیا الجھن ہے۔ لہٰذا کیایہ بہتر نہیں ہے کہ اپنے مخصوص مقاصد کیلئے دوسروں کے خلاف بری زبان استعمال کرنے کی بجائے تہذیب وشائستگی اور متانت و وقارکے ساتھ ساری قومی قیادت کا احترام پیش نظر رکھا جائے اوور سمارٹ بننے کی بجائے قومی اخلاقیات کی پاسداری کرتے ہوئے تہذیبی تقاضے ملحوظ خاطر رکھےجائیں۔
سچائی تو یہ ہے کہ ہماری اجتماعی زندگی میں چور چور کا زیادہ واویلا کرنے والابالعموم خود بڑا چور ہوتاہے کسی کو زیادہ پارسائی کے نعرے لگاتے دیکھیں تو سمجھ لیں کہ دھوکے بازی کا کوئی کرشمہ ہونےوالاہے۔ صلاحیتوں سے عاری نااہل لوگ بالعموم انہی دو نعروں کا سہارا لیتے پائے جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم کے اصل ایشوز غربت، مہنگائی، جہالت، نفرت اور جنونیت کا خاتمہ کرنے کے لئے آئین، جمہوریت اور انسانی حقوق کی سربلندی کے ذریعے انسانی دکھوں کا مداوا کیاجائے، قومی سطح پر ایسے شفاف سسٹم کا اہتمام کیا جائے جس میں کرپشن کے مواقع کم سے کمتر ہوتے چلے جائیں نان ایشوز کو چھوڑ کر ایشوز میں بھی ترجیحات کا تعین ہو جس سے سسٹم میں مضبوطی آئے اورشخصی صوابدید کی اپروچ ختم ہو۔
کیا آئین شکنی سے بڑی کرپشن بھی کوئی ہو سکتی ہے؟ اس کے خلاف تو آپ نے کبھی لب کشائی نہیں فرمائی۔ مذہبی و عسکری بے اصولی و بے ایمانی کے خلاف تو سپریم ادارے بھی ریمارکس سے احتراز فرماتے ہیں۔ لہٰذا فضول اور لاحاصل نعرے بازی کی بجائے ایشوز پر بات فرمائیں۔