بھارت، اقلیتیں اور ہندوتوا
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 07 / جنوری / 2022
- 4140
اگرچہ بھار ت میں اقلیتوں کے ساتھ جو متصبانہ، تعصب اورمذہبی بنیادوں پر تفریق کا مسئلہ نیا نہیں۔ لیکن نریندر مودی کی حکومت او ر ہندوتوا کی بنیاد پر جو سیاست آج بھارت میں کی جارہی ہے اس سے اقلیتوں سمیت عالمی سطح پر موجود انسانی حقوق کے ادارے اپنی سنگین تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔
بھار ت میں آج محض مسلمان ہی نہیں بلکہ عیسائی، سکھ، دلتوں کو بھی ہندو سخت گیر انتہا پسند وں سے مختلف نوعیت یا سطحوں پر تشدد کا سامنا ہے۔سب سے زیادہ سخت گیر ہندو او ر انتہا پسند عناصر مسلمانوں کو ٹارگٹ کررہے ہیں۔ اس کی ایک جھلک ہمیں بھارت کے معروف ادکار نصیر الدین شاہ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ’بھار ت میں مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنایا جارہا ہے۔ ان کے بقو ل جو لوگ بھی بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کی بات کررہے ہیں وہ دراصل ملک میں خانہ جنگی شروع کرنا چاہتے ہیں۔‘اسی طرح کا ان کا یہ بھی موقف ہے کہ یہ جو کچھ انتہا پسند کررہے ہیں ان کو اوپر کی سطح سے تحفظ حاصل ہے او را س کا مقصد مسلمانوں میں خوف پیدا کرنا ہے او رجو لوگ یہ سب کچھ کررہے ہیں ان کے خلاف ریاستی یا حکومتی سطح پر کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔
نصیر الدین شاہ نے جن خدشات کا اظہار کیا ہے وہ محض رومانوی پہلو نہیں یا محض ان کی رائے نہیں بلکہ یہ سب کچھ بھارتی انتہا پسند عناصر کے عملی اقدام کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ہندوں کے مقدس شہر ہرید وار میں 17سے 19دسمبرکے دوران ہونے والے تین روزہ دھرم سنسدمذہبی اجتماع میں مسلمانوں کی نسل کشی پرمبنی تقریروں کا ردعمل ہے۔اس اجتماع میں زہر الود مسلم دشمنی پر مبنی تقرریں کی گئی او رمسلمانوں کا قتل عام کی دھمکیاں دی گئیں۔ اسی اجتماع میں ہندو انتہا پسندوں سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ اسلحہ خریدیں او رمسلح جدوجہد کے لیے تیار ہوں او راگر اسلحہ نہیں ہے تو تلواریں خریدیں تاکہ مسلمانوں کو ٹھکانے لگایا جائے۔جہاں جہاں ہندو انتہا پسند طاقت یا اکثریت میں ہیں وہاں مسلمانوں کو عبادت سے بھی روکا جارہا ہے اور ان کے کاروبار کو بھی نقصان پہنچایا جارہا ہے۔یہ دھمکیاں بھی سامنے آئی ہیں کہ اگر کسی بھی اقلیت نے عملی طور پر بھارت میں رہنا ہے تو اسے ہندو توا کی سیاست کی بالادستی کو قبول کرنا ہوگا۔
اسی طرح بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور اقلیتوں کے ساتھ تفریق کے پہلوؤں پر بھارتی مسلح افواج کے پانچ سابق سربراہوں، اعلی سرکاری افسران اور دیگر ممتاز شہریوں سمیت ایک سو سے زائد افراد کی جانب سے صدر رام ناتھ کوونداور وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیجے جانے والا وہ خط ہے جس میں مختلف تقریبات کے اندر جن میں سے ہریدوار اور دہلی کی حالیہ تقاریب خا ص طور پر قابل زکر ہیں۔ان کے بقول اگر انتہا پسند ہندوراہنماوں کی تقاریر میں ’مسلمانوں کی نسل کشی کی کھلی کال‘ کے حوالے سے خبردار کیا گیا ہے کہ اس رجحان کا سدباب نہ کیا گیا تو ایک متحد قوم کی حیثیت سے بھارت کا وجود ختم ہوسکتا ہے۔ان افراد کے بقول مسلمان سمیت عیسائیوں، دلت او رسکھوں کو بھی ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایاجارہا ہے جس سے تشدد کی یہ کالیں اندرونی طور پر بدامنی کا سبب بن سکتی ہیں۔اسی طرح ہندو انتہاپسند طبقہ کے بقول’بھارت کو ہندومملکت بنایا جائے گا خواہ اس کے لیے جنگ اور قتل و غارت بھی کرنا پڑے۔ان سابق فوجی افسران میں سابق چیف آف سٹاف ایڈمرل لکشمی نرائن داس، سابق ایڈمرل وشنو بھاگوت، سابق ایڈمرل ارون پرکاش، سابق ایڈمرل آر کے دھوون اور اسی طرح سابق ایئر چیف مارشل ایس پی تیارگی او رلیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈوجے اوبرائے سمیت کئی سرگردہ لوگ شامل ہیں۔ یہ خط صدر اوروزیر اعظم سمیت نائب صدر، لوک سبھا کے اسپیکر اور مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت کو بھی روانہ کیا گیا ہے۔ایک دوسرا خط بھارت کی اعلی عدلیہ سپریم کورٹ کے 76وکلا نے بھی چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کو خط لکھا تھا جس میں اعلی عدالت سے تشدد کی کالوں کا ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ان کے بقول پولیس کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے عدالت کو اس معاملہ میں مداخلت کرنا ہوگی۔یہ خبریں یقینی طور پر بھارت کے اقلیتوں کے تناظر میں ان کے داخلی بحران کی سنگینی کو نمایاں کرتی ہے۔
اسی طرح برطانیہ کی پارلیمان کے 28ارکان نے مشترکہ طور پر لکھے گئے خط میں لندن میں قائم بھارتی ہائی کمیشن سے مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور جواب طلب کیا ہے۔ ان کے بقول بے گناہ کشمیریوں کو مبینہ طور پر دہشت گرد بنا کر بھارتی فورسز کے ہاتھوں قتل کردیا جاتا ہے جو کہ دہشت گرد نہیں بلکہ عام شہری ہوتے ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومین رائٹس واچ اور یورپی یونین سمیت بہت سے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سمیت عالمی میڈیا نے بھی بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کی سنگین اور بدتر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی کئی رپورٹس جاری کی ہیں۔لیکن ان معاملات پر بھی عالمی نے حسی کا غلبہ ہے۔ جب بھارت نے پانچ اگست 2019کومقبوضہ کشمیر کی خودمختاری پرشپ خون مارااور آرٹیکل 370اور 35 اے کا خاتمہ کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا جس کے تحت کشمیریوں کو اپنا علیحدہ آئین، علیحدہ پرچم او رتمام قانونی و آئینی معاملات میں علیحدہ نقطہ نظر رکھنے کی کم ازکم آئینی طور پر ہی سہی مکمل آزادی تھی، لیکن ان آرٹیکل کے خاتمہ کے بعد یہ آزادی او رزیادہ سلب کرلی گئی۔ پانچ اگست2019سے لے کر اب تک بھارت نے پانچ سو پندرہ کشمیریوں کو شہید کیا جاچکا ہے جبکہ اسی نوجوانوں کو دوران حراست شہید کیاگیا۔ڈھائی سالہ لاک ڈاون کے دوران 191 بچوں کو یتیم اور 113عورتوں کو بیوہ کیا گیا۔
سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ جو کچھ اتنہا پسند ہندو عناصر بھار ت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتو ں کے ساتھ کررہے ہیں اس پر ریاستی یا حکومتی سطح سے وہ اقدامات نہیں کیے جارہے جو ان اتنہا پسندوں کو قانون کے کٹہرے میں لایاجاسکے۔ یہ شواہد بھی موجود ہیں کہ جو کچھ انتہا پسند ہندو طبقہ کررہا ہے اسے کسی نہ کسی شکل میں ریاستی وحکومتی سرپرستی حاصل ہے۔یہ ہی وہ پہلو ہے جو بھارت کی داخلی سنگینی کے پہلو کو نمایاں کرتا ہے او راسی پر اقلیتوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے عالمی اداروں میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔خاص طو رپر جو کچھ بھارت کے میڈیا میں مسلم دشمنی یا اقلیتوں کے حوالے سے نفرت انگیزی پائی جاتی ہے اس نے اقلیتوں کو عملی طور پر بھارت میں غیر محفوظ بنادیا ہے۔ اگرچہ بھارت میں ایسی آوازیں ہیں جو مودی حکومت کی انتہا پسندی یا ہندواتہ کی سیاست کو چیلنج کررہے ہیں لیکن ان کی نہ تو میڈیا میں کوئی بڑی پزیرائی نظر آتی ہے او رنہ ہی ریاستی و حکومتی سطح پر ان کے بیانیہ کو تحفظ دیا جارہا ہے۔
یہ ساری صورتحال عالمی طاقتوں، انسانی حقوق کے اداروں اور سیاسی جماعتوں سمیت سول سوسائٹی و میڈیا کو بھی جنجھورٹی ہے کہ وہ ان تمام معاملات پر اپنی خاموشی کو توڑیں او رایک مضبوط بیانیہ بھارت میں اقلیتوں کے تحفظ کے تناظر میں پیش کریں۔انفرادی سطح پر آوازیں تو اٹھ رہی ہیں لیکن ان انفرادی آوازوں کو اجتماعی آوازوں میں تبدیل کرنا ہوگا۔خاص طور پر بھارت کی سول سوسائٹی اور دیگر سماجی طبقات جن میں فن کار، اداکار، شاعر، ادیب، صحافی اور دانشوروں سمیت تمام مذاہب کے پرامن قیاد ت کو باہر نکلنا ہوگا او رمودی حکومت پر دباو بڑھانا ہوگا کہ وہ ہندوتوا کی سیاست کے مقابلے میں تمام مذاہب یا اقلیتوں کے لیے تحفظ پر مبنی ماحول کو پیدا کرے۔جو لوگ بھی انتہا پسندی یا ہندو مذہب کو بنیاد بنا کر تشدد پر مبنی پالیسی اور عملدرآمد یا ایکشن کو یقینی بنا کر اقلیتوں کو دباو میں لارہے ہیں یاان میں خوف پیدا کرنا یا پرتشدد عمل کی مدد سے لوگوں کی جان ومال کو ختم کرنے کا ایجنڈ ا رکھتے ہیں یا اس کا سرعام پرچار کررہے ہیں ان کے خلاف ریاست کو بلاتفریق کاروائی کرنا ہوگی۔ عالمی دنیا کو بھی بھارت کی موجودہ قیادت پر دباو ڈالنا چاہیے کہ ان کامسلمانوں سمیت اقلیتوں کے تحفظ کا ایجنڈا نہ صرف بھارت کے لیے بلکہ عالمی دنیا میں بھی تشویش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔