آئین شکنی کی عبرت ناک سزا
- تحریر الطاف حسن قریشی
- جمعہ 07 / جنوری / 2022
- 5130
پاکستان کے ابتدائی سال دو اِعتبار سے یاد رَکھے جاتے ہیں۔ ایک طرف وہ قوم کی غیرمعمولی کامیابیوں کی ایک شاندار دَاستان کے امین ہیں اور دُوسری طرف اُن کے دامن میں ایسے واقعات سمٹے ہوئے ہیں جو آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی ارتقا میں سدِراہ بنے رہے۔
کامیابیاں ایسی جن کی جدید تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی اور تباہ کاریاں بھی ایسی کہ سر شرم کے مارے اوپر اُٹھتا ہی نہیں۔ ایک دنیا یہ دیکھ کر حیرت زدہ رَہ گئی تھی کہ کٹا پھٹا پاکستان چند ہی برسوں میں اِس قدر مستحکم ہو گیا تھا کہ عالمی برادری میں اُس کا وزن بڑھتا جا رہا تھا اور اُس کا ازلی دشمن، جو چھ ماہ میں اُس کے انہدام کی پیش گوئیاں کر رہا تھا، اُسے منہ کی کھانا پڑی تھی۔ بدقسمتی سے اُنہی برسوں میں انتخابات میں دھاندلی کی بدعت شروع ہوئی جو ہمارے سیاسی نظام کی رگ و پے میں اتر چکی ہے۔ اپنے سیاسی حریفوں کو غدار کہنے کا رواج بھی اُنہی دنوں میں پڑا۔ اُسی دور میں دینی اور لادینی عناصر کے درمیان جنگ زوروں پر رہی جو آج بھی نت نئے انداز میں جاری ہے۔ اُسی زمانے میں عدلیہ میں سول اور ملٹری بیوروکریسی نے مداخلت کی اور اُس کے سائے گہرے ہوتے گئے۔ منتخب وزیرِاعظم کی برطرفی کا حادثہ بھی اُسی عہد میں رونما ہوا اَور دَستورساز اسمبلی کی تحلیل کا جانکاہ وَاقعہ بھی اُنہی برسوں میں پیش آیا۔ اہلِ وطن نے مارشل لا کا ذائقہ بھی ابتدائی برسوں میں ہی چکھ لیا تھا جو آگے چل کر جان کا روگ بنتا گیا۔
ہم جب اُن خرابیوں کے ذمےداروں کی چھان بین کرتے ہیں، تو کُھرا ملک غلام محمد اور میجرجنرل اسکندر مرزا کی جانب جاتا ہے۔ گورنرجنرل ملک غلام محمد جب سیاہ و سپید کے مالک تھے اور اَختیارات کا بےرحم استعمال کر رہے تھے، مگر وہ شدید ذہنی اور جسمانی اذیت میں مبتلا تھے۔ اُس کا اعصاب شکن احوال اُن کے سیکرٹری جناب قدرت اللّٰہ شہاب نے اپنی آپ بیتی ‘شہاب نامہ’ میں بیان کیا ہے۔27اکتوبر 1954 کو اُن کا تقرر گورنرجنرل کے سیکرٹری کی حیثیت سے ہوا۔ گورنمنٹ ہاؤس میں اُن کی ملاقات ایک ایسے گورنرجنرل سے ہوئی جو اپنے سہارے چل سکتے، نہ کچھ لکھ سکتے تھے، نہ کوئی شخص اُن کی بات آسانی سے سمجھ سکتا تھا۔ اُن کی پرائیویٹ سیکرٹری مس بورل ہی اُن کی غوں غوں کی آوازیں سننے کے بعد بتاتی تھی کہ ہز ایکسی لینسی کیا فرما رہے ہیں۔ جناب شہاب صاحب نے گورنرجنرل کی بچگانہ حرکتوں، بےلگام خواہشوں اور اُن کے اردگرد خوشامدیوں کے ٹولوں کا تفصیلی ذکر کیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُس وقت نظامِ حکومت کیسے بدقماش افراد کے ہاتھ میں تھا۔
شہاب نامہ میں ایک مقام پر ایک ایسا ہولناک منظرنامہ اُبھرتا ہے جسے دیکھ کر عذابِ الٰہی کی ہیبت طاری ہو جاتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ”خدا خدا کر کے اُنہوں نے کسی قدر بیزاری سے فیڈرل کورٹ کا مشورہ تسلیم کر لیا اور اَیک آرڈیننس کے ذریعے نئی دستورساز اسمبلی قائم کرنے کا فیصلہ ہو گیا۔ جس روز آرڈیننس تیار ہو رہا تھا، مجھے غلام محمد نے حکم دیا کہ جس وقت بھی کاغذات مکمل ہو کر آ جائیں، مَیں فوراً اُن سے دستخط کروا لوں۔ اگر وہ سوئے ہوئے بھی ہوں، تب بھی اُنہیں جگا کر دستخط لے لیے جائیں۔ کاغذات آدھی رات کے وقت مکمل ہوئے۔
مَیں اُنہیں لے کر غلام محمد کی خواب گاہ میں گیا۔ وہ اَپنے بستر پر گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔ اُس وقت اُن کی قوتِ ارادی کا ڈائینمو بند تھا اور اُن کا جسم بوسیدہ ہڈیوں کے ڈھانچے کی طرح پلنگ پر بکھرا ہوا تھا جیسے پرانی قبر نے اپنے مردے کو اُبل کر باہر پھینک دیا ہو۔ ذاتی ملازم کی مدد سے بڑی مشکل سے اُنہیں جگایا۔ بیداری کی لہر اُن کے تن بدن میں اِس طرح رک رک کر، ٹھہر ٹھہر کر داخل ہوئی جیسے بہت سی چیونٹیاں روٹی کے ٹکڑے کو گھسیٹ گھسیٹ کر دیوار پر چڑھاتی ہیں اور وُہ باربار اُن کی گرفت سے پھسل کر نیچے گرتا رہتا ہے۔ غلام محمد کافی دیر تک اپنی پھیلی پھیلی آنکھیں جھپکا کر خلا میں گھورتے رہے، پھر اچانک اُنہوں نے مجھے پہچانا اور کاغذ پر دستخط کر دیے۔
اِس بھیانک تصویر سے پوری طرح اندازہ ہوتا ہے کہ ملک غلام محمد کو اُس کی زندگی ہی میں قدرت اُس کے گھناؤنے کرتوتوں کی سزا دَے رہی تھی۔ اُس کے خلاف عوام و خواص میں نفرت کا یہ عالم تھا کہ جب اُسے علاج کے لیے زیورچ بھیجنا ضروری ہو گیا، تو کسی ناخوشگوار صورتِ حال سے بچنے کے لیے اُسے خفیہ راستے سے طیارے تک پہنچایا گیا۔ جبکہ اُس کی کار میں شہاب صاحب کو کالی جناح کیپ پہنا کر بٹھایا گیا۔ کچھ عرصے بعد غلام محمد واپس کراچی آیا، تو اُس کی ذہنی حالت اور بھی قابلِ رحم تھی۔ وہ صبح سویرے سوٹ بوٹ پہن کر کیبنٹ روم میں آ جاتا، ہر روز ایک نئی کابینہ سے حلف لیتا اور اُس کے بعد گھنٹوں تقریر کرتا جو کسی کی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ جب اُس کی بدحواسیاں ناقابلِ برداشت ہو گئیں، تو اُس سے جان چھڑانے کے لیے بڑوں کا اجلاس اسکندر مرزا کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا جس میں گھنٹوں غوروخوص ہوا۔ ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی کہ قدرت اللّٰہ شہاب گورنرجنرل سے استعفے کے کاغذ پر آسانی سے دستخط کروا سکتے ہیں، اِس لیے یہ کام اُن کے ذمے لگایا جائے۔ اُنہوں نے جوابی مشورہ دِیا کہ یہ کام سیاست دانوں کو سرانجام دینا چاہیے۔
بڑی مشکل سےغلام محمد کو اِستعفا دینے پر تیار کیا گیا۔ وہ جب گورنمنٹ ہاؤس سے اپنی بیٹی کے گھر منتقل ہو رہا تھا، تو ایک آنکھ بھی اشکبار نہیں تھی بلکہ سب سُکھ کا سانس لے رہے تھے۔ یہ بھی تاریخ کا ایک تازیانہ ہے کہ جب ملک غلام محمد کا انتقال ہوا، تو اُس کی تعزیت کے لیے سب سے پہلے آنے والے جناب خواجہ ناظم الدین تھے جو مرحوم کے غیرآئینی حکم کے سبب اقتدار سے محروم ہوئے تھے۔ وقت کے فرعون کی داستانِ عروج و زوال سے ایک ہی سبق ملتا ہے کہ جو اَربابِ اختیار اَپنے عوام کے حقوق پر شب خون مارتے ہیں، وہ اِنتہائی برے انجام سے دوچار ہوتے ہیں اور قبریں اُبل کر مردے باہر پھینک دیتی ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)