معید یوسف کی قیادت میں پاکستانی وفد کابل کا دورہ کرے گا
- ہفتہ 08 / جنوری / 2022
- 5600
پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف رواں ماہ ہمسایہ ملک افغانستان کا دورہ کریں گے۔ یہ فیصلہ جمعرات کو افغانستان کے بارے میں اسلام آباد میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کر رہے تھے۔
قومی اسمبلی سے جاری بیان کے مطابق افغانستان کے حوالے سے بین الاوزارتی کوارڈینیشن سیل کے اجلاس کو بتایا گیا کہ معید یوسف کی سربراہی میں پاکستان کا اعلیٰ سطحی وفد جلد کابل کا دورہ کرے گا۔ پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر کا یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب طالبان کی جانب سے پاک افغان سرحد (ڈیورنڈ لائن) پر سے باڑ ہٹائے جانے کے واقعات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے۔
افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مسلسل ایسی ویڈیوز گردش کرتی رہی ہیں جن میں سرحد پر سکیورٹی کے لیے نصب خاردار تاروں کو اکھاڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس تنازعے پر پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے بدھ کو کہا تھا کہ پاکستان افغان سرحد پر باڑ لگانے کا عمل نہ صرف مکمل ہوگا بلکہ قائم رہے گا۔ گزشتہ ہفتے پاکستان کے وزیرِخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اس امید کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان اور افغانستان ڈیورنڈ لائن پر باڑ اُکھاڑنے کے معاملے کو سفارتی ذرائع سے حل کر لیں گے۔
افغانستان پاک افغان سرحد کو متنازع معاملہ قرار دیتے ہوئے پاکستان کی طرف سے سرحد پر باڑ لگانے پر معترض رہا ہے۔ لیکن پاکستان کابل کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکا ہے کہ سرحد پر باڑ نصب کرنا سرحدی سیکیورٹی کے لیے ضروری ہے۔
پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر کا یہ دورہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کا کابل کا پہلا دورہ ہوگا۔
اس سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور اس وقت کے انٹیلی جنس چیف جنرل فیض حمید بھی افغانستان کے دورے میں طالبان قیادت سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔
قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کے دورے کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے پر بھی بات چیت کا امکان ہے۔