مری میں شدید برف باری، 21 افراد جاں بحق
- ہفتہ 08 / جنوری / 2022
- 3680
مری میں شدید برف باری کے باعث دم گھٹنے سے ایک خاندان کے 8 اور دوسرے خاندان کے 5 افراد سمیت 21 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔
بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد کی وجہ سے حالات انتہائی خراب ہو گئے ہیں ٹریفک رواں نہ ہونے کے باعث گاڑیوں میں شدید ٹھنڈ سے کئی سیاح گاڑیوں میں ٹھٹھر کر ہلاک ہوگئے۔ مری اور گلیات کے علاقوں میں ہونے والی شدید برف باری اور رش کے سبب پنجاب حکومت نے مری میں ایمر جنسی نافذ کر دی ہے۔ جب کہ وفاقی حکومت نے فرنٹیئر کور (ایف سی)، پنجاب رینجرز اور فوج کی مدد طلب کر لی ہے۔
فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس کے انجینئرنگ کے شعبے کے اہلکار اور مشینری راستے کھولنے کے لیے متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے ہیں۔ مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مری کی حدود میں گزشتہ چند دن میں ایک لاکھ سے زائد گاڑیاں داخل ہوئیں اور لوگ سڑکوں پر گاڑیاں کھڑی کر کے گھومنے چلے گئے جس کے سبب امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے صورتِ حال کے پیشِ نظر سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مری اور گلیات میں اتنی بڑی تعداد میں سیاح آ چکے ہیں کہ وہ گزشتہ 12 گھنٹوں میں راستہ کھولنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ مری جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں البتہ اس کے باوجود سیاحوں کی ایک بہت بڑی تعداد وہاں موجود ہے جن کو شدید سردی کا سامنا ہے۔
موجودہ صورتِ حال میں سول آرمد فورسز کی مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا تا کہ لوگوں کو نکالا جا سکے۔ مری کے مقامی لوگوں سے درخواست بھی کی کہ وہ وہاں پھنسے سیاحوں کو گاڑیوں میں کمبل اور خوراک فراہم کریں۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ایک ٹوئٹ کے مطابق گزشتہ رات 23 ہزار سے زائد گاڑیاں علاقے سے نکالی گئی ہیں اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدی کا سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہنا تھا کہ مری اور دیگر بالائی مقامات کے لیے ایک جم غفیر رواں دواں ہے۔ لاکھوں گاڑیاں ان علاقوں کی طرف جا رہی ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے لیے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو سہولیات پہنچانا نا ممکن ہے۔
اس سے قبل رواں ماہ پانچ جنوری کو فواد چوہدری نے کہا تھا کہ سیاحت میں یہ اضافہ عام آدمی کی خوش حالی اور آمدنی میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
وزیر داخلہ شیخ رشید نے سردی کے باعث دم گھٹنے سے کم از کم 16 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ملکہ کوہسار کا رخ نہ کریں۔
ایک ویڈیو پیغام میں وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلی بار سیاحوں کی اتنی بڑی تعداد نے مری کا رخ کیا ہے جس سے ایک بڑا بحران پیدا. اور ہمیں مری کی جانب بڑھنے والے ٹریفک کو بند کرنا پڑا۔ رات سے اب تک ایک ہزار گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ گاڑیوں میں تقریباً 16 سے 19 اموات ہوئی ہیں، علاقہ مکینوں نے گاڑیوں میں متاثرین کو خوراک اور کمبل پہنچائے ہیں۔ مری جانے والے تمام تر راستے بند کردیے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مری میں شدید برفباری اور سیاحوں کے رش کی وجہ سے صورتحال انتہائی خراب ہونے کے بعد ملکہ کوہسار میں ایمرجنسی نافذ کردی۔ اور شہر کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔
حکومت پنجاب کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مری اور ملحقہ علاقوں میں تمام ریسٹ ہاؤسز اور سرکاری اداروں کو سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اپنا ہیلی کاپٹر بھی ریسکیو سرگرمیوں کے لیے دے دیا ہے جو موسم بہتر ہوتے ہی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے گا۔