مری میں بڑی سڑکیں کلیئر کردی گئیں، ریسکیو آپریشن تاحال جاری
- اتوار 09 / جنوری / 2022
- 3690
پاکستان کے مشہور سیاحتی مقام مری میں شدید برف باری کے باعث سڑکوں پر پھنس کر ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 22 ہو گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مری کی تمام مرکزی شاہراہوں کو کلیئر کردیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق مری کی بڑی شاہراہوں پر شدید برف باری کی وجہ سے 20 سے 25 بڑے درخت گرے تھے جس کی وجہ سے راستے بلاک ہو گئے تھے۔ وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر شہباز گِل نے ایک بیان میں کہا کہ مری کی تمام مرکزی شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے کلیئر کر دیا گیا ہے۔ ان کے بقول مری سے رات گئے 600 سے 700 گاڑیوں کو نکالا گیا۔
راولپنڈی اسلام آباد سے مری آنے والے راستوں پر پولیس موجود ہے البتہ راستے اتوار کو بھی بند رہیں گے۔
خیال رہے کہ جمعہ اور ہفتے کو سیاحتی مقام مری اور گلیات کے مختلف علاقوں میں شدید برف باری ہوئی تھی جس کے باعث سڑکیں بند ہو گئی تھی اور سیاحوں کی ہزاروں گاڑیاں سڑکوں پر پھنس گئی تھیں۔ شدید برف باری کے باعث مری میں سڑکوں پر پھنسنے والے 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حکام کے مطابق اس واقعے میں جان سے جانے والوں میں 10 بچے بھی شامل ہیں جب کہ ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد اس واقعے میں زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق حکام نے بتایا کہ زیادہ تر افراد کی موت ہائپو تھرمیا کی وجہ سے ہوئی۔ ایک پولیس افسر عتیق احمد کے مطابق مرنے والوں میں ایک پولیس افسر اور ان کے خاندان کے سات افراد بھی شامل ہیں۔ پنجاب پولیس کے مطابق مری کی تمام اہم شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے کلیئر کر دیا گیا ہے جب کہ سیاحوں کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔
پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق مری میں برف باری تھم گئی ہے۔ سڑکوں کی بحالی اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ رپورٹس کے مطابق مرکزی سڑکوں کی بحالی کے بعد سیاحوں کی مری سے واپسی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ البتہ مری اور گلیات میں اندرونی سڑکیں اب بھی بند ہیں۔ اسسٹننٹ کمشنر مری عمر مقبول نے ہفتے کو بتایا تھا کہ مری میں درجۂ حرارت منفی آٹھ ڈگری تک پہنچ گیا تھا۔
علاقے میں پھنس جانے والے افراد کے لیے پنجاب یونیورسٹی خانس پور کیمپس کو ریلیف کیمپ بنا گیا ہے اور یونیورسٹی کے اسٹاف کو ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے مری کو آفت زدہ قرار دیتے ہوئے وہاں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی جب کہ حکام نے امدادی کاموں کے لیے فوج اور خصوصی ملٹری ماؤنٹین یونٹ کو بھی طلب کر لیا تھا۔
فوج نے آرمی کے زیرِ انتظام چلنے والے اسکولوں کو ریلیف کیمپ میں تبدیل کر دیا ہے جہاں سیاحوں کو پناہ اور خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر فلاحی اداروں کی جانب سے بھی امدادی کام جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پر مری کے نام سے ہیش ٹیگ بھی ٹاپ ٹرینڈ پر ہے اور لوگ حکومت پر تنقید کرنے کے ساتھ واقعے پر افسوس کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔
'اے پی' کے مطابق ریسکیو سروس سے منسلک عبد الرحمٰن کا کہنا ہے کہ کئی افراد ہائپوتھرمیا جب کہ دیگر افراد کاربن مونو آکسائیڈ کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گئے۔ کار میں طویل دورانیے تک ہیٹرز چلنے کے بعد گاڑیوں میں کاربن مونو آکسائیڈ بھر گئی جس سے ہلاکتیں ہوئیں۔ ہفتے کی رات گئے تک ہونے والی ہلاکتوں میں 10 مرد، 10 بچے اور دو خواتین شامل تھیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مری کے برفباری سے متاثرہ علاقوں کا فضائی معائنہ اور متاثرہ علاقوں میں جاری ریلیف آپریشن کا مشاہدہ کیا۔ ریلیف کمشنر و سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے ریلیف آپریشن کے بارے بریفنگ دی۔
خیال رہے کہ مری میں شدید برفباری، درختوں کے گرنے اور بڑی تعداد میں سیاحوں کے گاڑیوں میں پہنچنے سے سڑکیں بلاک ہوگئی تھیں جس کے پیشِ نظر سے جمعے سے مری میں داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔ سڑکیں بلاک ہونے کے سبب جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب سیاح اپنے گاڑیوں کے اندر برف میں پھنس کر رہ گئے تھے اور دم گھنٹنے، سردی کی وجہ سے 22 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔