بدانتظامی نے مری سانحے کو جنم دیا
- سوموار 10 / جنوری / 2022
- 5900
مری میں امدادی کام کرنے والے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری محکمے اور مقامی انتظامیہ بروقت کارروائی کرتی تو ہمیں مری میں اس پیمانے کا سانحہ نہ دیکھنا پڑتا۔
کارروائیوں میں رضاکاروں کے ایک گروہ کی سربراہی کرتے ہوئے قاری عبدالواجد عباسی نے کہا کہ یہ حکومت کی مکمل ناکامی اور صریح بدانتظامی تھی کہ محکمہ موسمیات کے انتباہ اور مسلسل برفباری کے باوجود کسی نے پہاڑی علاقے میں سیاحوں کی حالت دیکھنے کی زحمت نہ کی۔
یاد رہے کہ جمعہ کی شب مری میں شدید برفباری کے باعث سڑکوں پر کر بچوں سمیت 20 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ عبدالواجد عباسی نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر معاملہ منظرِ عام پر آجانے کے بعد پھنسے ہوئے مسافروں کو ہفتے کو نکالا جاسکتا تھا تو جمعہ کی شب ہی کوئی کارروائی کیوں نہ کی گئی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہیں اس سانحے کا علم سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ لوگ پھنسی ہوئی کاروں میں وفات پاگئے ہیں تو میں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے اپنے دوستوں سے رابطہ کیا۔ میں نے رضاکاروں کا ایک گروپ تشکیل دیا، بسکٹس اور خشک میوہ جات خریدے اور پھنسی ہوئی کاروں کو نکالنے کے لیے بھوربن سے جھیکا گلی اور کلڈنہ آئے۔
رضاکار جھیکا گلی سے کلڈنہ پیدل سفر کرتے ہوئے آئے اور وہاں متعدد لوگوں کی مدد کی۔ عبدالواجد عباسی نے بتایا کہ جب تک ہم وہاں پہنچے بہت سے خاندانوں کو نکالا جاچکا تھا۔ ہم نے سیاحوں کی ان کی کاروں سے نکلنے میں مدد کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں اس علاقے میں اس سے بھی زیادہ برفباری ہوچکی ہے لیکن اس سال بدانتظامی کی وجہ سے سانحہ ہوا۔ مجھے یاد ہے کہ اکیسویں صدی کے اوائل میں مری میں اس سے بھی زیادہ برفباری ہوئی تھی، اس مرتبہ تو میں جھیکا گلی سے پیدل چل کر اپنے گھر پہنچ گیا۔ قاری عبدالواجد نے ریسکیو آپریشن میں فعال طریقے سے حصہ لینے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر اور کھانا فراہم کرنے پر مقامی آبادی کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں مقامی افراد نے مختلف علاقوں میں ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا اور سیاحوں کو کھانا اور سر چھپانے کی جگہ بھی فراہم کی، جبکہ کچھ ہوٹل مالکان نے بھی سیاحوں کو کھانا اور مفت قیام کی پیشکش کی۔ تاہم ایسے ہی وقت میں کچھ ہوٹل مالکان نے صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور ایک رات کے لیے فی کمرہ 20 ہزار روپے کرایہ بھی لیا۔
امدادی رضاکار نے مری کے نام نہاد ’مددگاروں‘ پر بھی تنقید کی جنہوں نے مالکان سے ہزاروں روپے لینے کے بعد ان کی پھنسی ہوئی گاڑیاں نکلوائیں۔ زنجیریں اور دیگر آلات رکھنے والے لالچی لوگوں نے پھنسے ہوئے لوگوں سے ڈیل کرنے کے بعد ہی ان کی مدد کی۔ ایسے لوگ مری کے مہمان نواز لوگوں کے منہ پر دھبہ ہیں جنہوں نے برف میں پھنسی کاروں کو دھکا لگانے کے لیے 5 سے 20 ہزار روپے وصول کیے۔
خیال رہے کہ مری اور گلیات میں شدید برفباری کی پیش گوئی کے باوجود انتظامیہ نے جمعہ تک کوئی اقدامات نہیں کیے۔ حکام نے برفباری کے 4 روز کے دوران ایک لاکھ سے زائد گاڑیوں کو مری میں داخل ہونے کی اجازت دی جس کے نتیجے میں علاقے میں رش ہو گیا۔