افغانستان کا مستقبل پاکستان کے ساتھ طالبان کے تعلقات اور مغربی امداد پر منحصر ہے
- سوموار 10 / جنوری / 2022
- 7440
امریکی مرکزی ادارے کی دو حالیہ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور دیگر ممالک کی امداد اور طالبان حکومت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات افغانستان کے مستقبل کو تشکیل دیں گے۔
ان رپورٹوں میں واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے امریکی انسٹی ٹیوٹ آف پیس (یو ایس آئی پی) نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو یاد دہانی کرائی ہے کہ صرف انسانی بنیادوں پر کی گئی امداد افغانستان میں معاشی انہدام نہیں روک سکتی۔ یو ایس آئی پی نے رواں ہفتے ایک بڑی تحقیقاتی رپورٹ، جو کہ 2021 میں افغانستان اور دیگر معاملات سے متعلق تیار کی تھی، کے خلاصے کے طور دو رپورٹس جاری کی ہیں۔
رپورٹ لکھنے والی ایلزبتھ تھرلکیلڈ کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کو اب سے مستقبل میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے دی گئی امداد ملک کے مستقبل کی شکل واضح کرے گی۔ افغانستان کو بیرونی ذرائع سے ملنے والی مدد کی حد، خاص طور پر پاکستان کی جانب سے ملنے والی سپورٹ افغانستان کے مستقبل کے تعین میں فیصلہ کن عنصر ثابت ہوگا۔
افغان اور پاکستانی ماہرین کے انٹرویوز پر مشتمل ایک رپورٹ ان کلیدی عوامل کی نشاندہی کرتی ہے جو ان ممالک کے درمیان تنازعات اور تعلقات کے درمیان موجود ہیں۔ کیسے دوطرفہ تعلقات افغانستان میں مستقبل کے نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں۔ رپورٹ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر پاکستان کے ساتھ ایک مثبت تعلق استحکام کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
تاہم رپورٹ میں خبردار بھی کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان شکایات اور شدید تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے برعکس نتائج بھی برآمد ہوسکتے ہیں۔ مصنف نے دلیل دی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ایک دوسرے کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظات دور کرکے افغانستان اور پاکستان خطے کے استحکام اور اپنے شہریوں کی بہتری کے لیے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کر نے کے بہترین امکانات رکھتے ہیں۔
ان اہم معاملات میں سے ایک ڈیورنڈ لائن کا تنازع بھی ہے جو رواں ہفتے بھی پاکستان اور طالبان بارڈر گارڈز کے درمیان جھڑپ کی طرف لے گیا تھا۔ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان، ڈیورنڈ لائن کو عالمی سرحد کے طور پر تسلیم کرے جبکہ طالبان سابقہ حکومت کی طرح اس کو سرحد تسلیم کرنا نہیں چاہتے۔
رپوٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ان عوامل کی وجہ سے، جو کہ 100 سال سے بھی زیادہ پرانے ہیں، کشیدہ ہی رہیں گے۔ اس تناؤ اور کشیدگی کے 5 عوامل ہیں جن میں خود مختاری سے متعلق تحفظات، سلامتی کے مفادات، خطے کے سیاسی عوامل، سرحد کے دونوں طرف کی رشتہ داریاں اور رابطے، تجارت ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر افغانستان اور سرحدی خطے میں استحکام کے مستقبل کے امکانات کی شکل کو واضح کریں گے۔
دوسری رپورٹ میں ڈاکٹر ولیم بائرڈ نے لکھا ہے کیسے افغانستان کے معاشی اور انسانی بحران کو کم کیا جائے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ افغانستان کے لیے بنیادی دھچکا اس کی اچانک سالانہ 8 ارب ڈالرز کی امداد کا بند ہونا اور افغانستان کے 9 ارب ڈالرز کے زرمبادلہ کے ذخائر کا منجمد ہونا تھا۔ حالیہ دنوں میں اقوام متحدہ اور امریکا دونوں نے طالبان پر عائد اپنی پابندیوں میں نرمی کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔
ڈاکٹر بائرڈ نے خبردار کیا ہے کہ صرف انسانی امداد افغان معشیت کو محفوظ نہیں بنا سکتی، انہوں نے نجی کاروبار اور کمرشل سرگرمیوں کا احاطہ کرنے والی پابندیوں کے خاتمے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے دلیل دی ہے کہ طالبان کی مدد کرنے کا خطرہ اس خطرے سے کم ہے جو جاری معاشی تباہی کی صورت میں ظاہر ہوگا۔
ڈاکٹر بائرڈ نے کابل پر بھی زور دیا کہ وہ وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کی آزادی کو بحال کرے اور اہم عہدوں پر تجربہ کار و قابل ٹیکنوکریٹ لوگوں کو مقرر کرے۔ انہوں نے رواں سال کے قومی بجٹ کو عوامی سطح پر دستیاب اور قابل اعتماد بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔