قومی اسمبلی کی کمیٹی نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کی منظوری دے دی

  • منگل 11 / جنوری / 2022
  • 3450

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اپوزیشن اراکین کی تجویز کردہ چند تبدیلیوں کے ساتھ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) ترمیمی بل 2021 کی منظوری دے دی۔

پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے فیض اللہ کی سربراہی میں کمیٹی کو وزیر خزانہ شوکت ترین نے یقین دلایا کہ اس بل میں مرکزی بینک کی مکمل خود مختاری کا تصور نہیں بلکہ صرف اس کی آزادی کو بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بورڈ آف ڈائریکٹرز کا تقرر کرے گی جو مرکزی بینک اور اس کی اعلیٰ انتظامیہ کو کنٹرول کرے گی۔ اگر کسی بھی وقت حکومت نے محسوس کیا کہ مالیاتی شعبے کا ریگولیٹر مکمل اختیارات کا لطف اٹھا رہا ہے تو اس کے پاس پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت کے ساتھ مجوزہ قانون میں ترمیم کرنے کا اختیار ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک کے گورنر کو سینئر مینجمنٹ کے تقرر یا برطرف کرنے کا مکمل اختیار نہیں ہوگا جبکہ حکومت کے پاس ایسے فیصلوں کا جائزہ لینے کے اختیارات ہوں گے۔ تاہم حزب اختلاف کے ارکان کے اصرار پر کمیٹی نے بل میں تین بڑی تبدیلیوں کی سفارش کی: اسٹیٹ بینک کے گورنر کے عہدے پر دوہری شہریت کے حامل افراد کے تقرر پر پابندی، کسی ایسے ادارے میں گورنر کی ملازمت پر دو سال کی پابندی جس کے ساتھ اس نے بات چیت کی ہو اور گورنر اور بینک کی اعلیٰ انتظامیہ کو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ بنانا۔

قائمہ کمیٹی کی جانب سے بل کی منظوری وزارت خزانہ کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد ہوئی کہ اس نے 'عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے چھٹے جائزے کی منظوری کے لیے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کو جنوری کے آخر تک دوبارہ شیڈول کرنے کی باضابطہ درخواست کردی ہے'۔

ایک بیان میں وزارت نے کہا کہ آئی ایم ایف کو درکار دونوں بلز اسمبلی میں پیش کردیے گئے ہیں اور 'جیسے ہی قانون سازی کا عمل مکمل ہوگا، آئی ایم ایف بورڈ منظوری کے لیے اس پر غور کرے گا'۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی طریقوں کے مطابق اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کو بڑھا رہی ہے البتہ اسے مکمل طور پر خود مختار نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہ غلط فہمی ہے کہ حکومت کا مرکزی بینک کے چلانے میں کوئی کردار نہیں ہوگا یا وہ معیشت پر کنٹرول کھو دے گی۔