اسلام آباد کا مونال ریسٹورنٹ فوری طور سے سیل کرنے کا حکم

  • منگل 11 / جنوری / 2022
  • 5520

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مارگلہ ہلز پر قائم معروف ریسٹورنٹ مونال کو آج ہی سیل کرنے کا حکم دیا ہے۔ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو نیوی گالف کلب کا قبضہ لینے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

عدالت نے ملٹری ڈائریکٹوریٹ فارمز کا 8 ہزار ایکڑ اراضی پر دعویٰ بھی غیرقانونی قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ 8 ہزار ایکڑ زمین مارگلہ نیشنل پارک کا حصہ سمجھی جائے۔ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں غیرقانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف کیسز پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا ہےاس لیے وہ پیش نہیں ہو سکے۔ عدالت نے سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی کو مخاطب کرکے کہا کہ کیا آپ کا کام صرف درخت لگانا ہے، وزارت نے خود مانا ہے کہ ریاست کی زمین پر پرائیویٹ لوگوں نے تجاوزات کیں، یہ عدالت کیا کرے، جو کچھ ہو رہا ہے حیران کن ہے۔

سیکریٹری داخلہ سے مکالمے میں چیف جسٹس نے کہا کہ اس 14 سو مربع میل میں لاقانونیت ہے، مسلح افواج کے 3 سیکٹرز بن گئے ہیں۔ مسلح افواج کو کسی طور متنازع نہیں ہونا چاہیے، یہ عوامی مفاد میں نہیں۔ قانون میں موجود ہے کہ مسلح افواج کی زمینیں کیسے اور کون مینیج کرے گا، یہ عدالت کسی کو مسلح افواج کو متنازع نہیں بنانے دے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نیشنل پارک ایریا محفوظ شدہ علاقہ ہے، اس میں کوئی سرگرمی نہیں ہو سکتی۔ نیشنل پارک ایریا میں کوئی گھاس بھی نہیں کاٹ سکتا۔ جس زمین کا کوئی استعمال نہیں، وہ کہاں جائے گی یہ طے کرنا ایگزیکٹو کا اختیار ہے۔  کوئی پراپرٹی کسی ادارے کے نام پر نہیں ہو سکتی۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ مونال کی 8 ہزار ایکڑ زمین کا دعویٰ کون کر رہا ہے؟ اس عدالت کو نیشنل پارک کا تحفظ کرنا ہے، وہ 8 ہزار ایکڑ زمین اب نیشنل پارک ایریا کا حصہ ہے، جسے اب 1979 کے قانون کے تحت مینج کیا جائے گا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ مسلح افواج خودمختار ادارے نہیں ہیں۔ تمام آرمڈ فورسز کو وزارت دفاع کنٹرول کرتی ہے اور سیکریٹری دفاع یہاں موجود ہیں۔ پاکستان نیوی نے تجاوزات کر کے گالف کورس بنایا جو اچھی بات نہیں، ہر شہری مسلح افواج کی عزت کرتا ہے۔ اگر وہ یہ کریں گے تو اچھا پیغام نہیں جائے گا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ہمیں سب سے پہلے اپنا احتساب کرنا ہے، لاقانونیت کی وجہ سے غریب غریب رہ گیا ہے۔ چیف جسٖٹس نے سیکریٹری دفاع کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ گالف کورس غیرقانونی ہے۔ گالف کورس کی زمین آج ہی سی ڈی اے کے حوالے کریں۔

دورانِ سماعت چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ ہم نے نیوی کو سیلنگ کلب گرانے کا نوٹس دے دیا ہے۔ پنجاب حکومت بھی کچھ زمینوں کا دعویٰ کرتی ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ نیشنل پارک کو ریگولرائز کر کے تباہ کر دیا گیا۔ جو پارک باقی رہ گیا ہے اس کو کس طرح بچایا جا سکتا ہے، نیشنل پارک ایریا کا تحفظ ہماری آئندہ نسلوں کے لیے ضروری ہے۔

عدالت نے مونال ریسٹورنٹ کو آج ہی سیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے چیف کمشنر اسلام آباد کو ہدایت کی کہ آج ہی جا کر مونال کو سیل کریں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت وسیع عوامی مفاد کا تحفظ کرے گی۔ عدالت نے حکم دیا کہ مونال کی لیز ختم ہو چکی ہے تو اسے سیل کریں۔ ساتھ ہی تحفظ ماحولیات کے ادارے کو تعمیرات سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگا کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔