زیادہ کرائے وصول کرنے پر مری کے 15 ہوٹل سیل کردیے گئے
- بدھ 12 / جنوری / 2022
- 4300
راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے سیاحوں سے زیادہ چارج کرنے کی شکایات پر مری میں 15 ہوٹل سیل کر دیے ہیں۔
راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ اوور چارجنگ کی شکایات سوشل میڈیا اور مری کنٹرول روم میں وصول ہوئی تھیں۔ ہوٹلوں میں ابو ظبی روڈ، گلڈنہ روڈ، اپر جھیکا گلی روڈ اور بینک روڈ پر واقع ہوٹل شامل ہیں۔ ہوٹلوں کو سیل کرنے کی کارروائی اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) مری نے کی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہوٹل سیل کرنے کا فیصلہ مری میں شدید برف باری کے نتیجے سیاحوں سے زیادہ قیمتیں وسول کرنے کی شکایات کے بعد کیا گیا۔ سیاح شدید برف باری کے دوران ٹریفک میں پھنس گئے اور گاڑیاں کے اندر بیٹھے ہوئے 22 سیاح وہی دم توڑ گئے تھے۔
سیاحوں کی طرف سے ہوٹلوں کے مایوس کن رویے کی شکایت کی گئی تھی۔ سیاحوں نے کہا تھا کہ ہوٹل انتظامیہ نے موسم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاحوں سے زیادہ چارج کیا۔
راولپنڈی پولیس نے مری میں سیاحوں سے رقم اینٹھنے والا ایک ملزم بھی گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس نے بیان میں کہا کہ مری میں سڑک پر برف پھینک کر سیاحوں سے مدد کے بہانے رقم اینٹھنے والا ملزم گرفتار کرکے ان کے زیر استعمال جیپ بھی قبضے میں لے لی ہے۔
دوسری جانب حکومت پنجاب کی جانب سے مری کی پہاڑیوں میں برفانی طوفان کے دوران 22 سیاحوں کی ہلاکت کی وجوہات اور غلطیوں کی تحقیقات کے لیے اعلان کردہ پانچ رکنی کمیٹی نے باقاعدہ طور پر اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ ظفر نصر اللہ کر رہے ہیں۔ ان معاونت صوبائی حکومت کے سیکریٹریز علی سرفراز اور اسد گیلانی کررہے ہیں، ان کے علاوہ پنجاب پولیس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل فاروق مظہر اور ایک منتخب رکن شامل ہیں۔ کمیٹی اراکین تحقیقات کے لیے آئندہ 2 روز میں مری پہنچیں گے۔