برآمدات میں اضافہ نہ ہؤا تو ایک بار پھر آئی ایم ایف سے مدد لینا پڑے گی: وزیر اعظم

  • بدھ 12 / جنوری / 2022
  • 3680

وزیراعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ملکی برآمدات میں تیزی سے اضافہ نہ ہوا تو حکومت کو ایک بار پھر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے پاس جانا پڑے گا۔

راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام 14ویں انٹرنیشنل چیمبرز سمٹ 2022 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ برآمدات اور ٹیکس وصولی ملک کی معیشت کو فروغ دینے کے اہم محرک ہیں جس پر حکومت کی توجہ مرکوز ہے۔ وزیر اعظم نے معیشت میں بہتری کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ وراثتی معاشی بحران، کورونا وائرس کے اثرات اور درآمدی افراط زر باوجود تمام معاشی اشارے بلندی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے اپنی برآمدات میں اضافہ نہ کیا تو دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا۔ وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت کے کورونا وائرس سے نمٹنے اور کاروبار کو کھلا رکھنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی پیروی برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت برآمد کنندگان، سرمایہ کاروں اور تاجروں کو درپیش رکاوٹوں اور انہیں دور کرنے اور برآمدات کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ ماضی میں معیشت کے ان شعبوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جو دولت کی تخلیق کے لیے ضروری ہیں۔  برآمدات کا شعبہ ماضی میں جمود کا شکار تھا لیکن موجودہ حکومت، برآمد کنندگان کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔

کانفرنس میں 50 سے زائد ریگولر چیمبرز، 10 چھوٹے چیمبرز، 13 ویمنز چیمبرز اور ڈیولپمنٹ پارٹنرز کے نمائندے، بین الاقوامی بزنس کمیونٹی، وزارتوں، حکومتی اداروں اور سیاسی جماعتوں کے صدور شرکت کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے منی بجٹ کو معیشت کو دستاویز کرنے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کل تخمینہ شدہ 11 کھرب روپے کی خوردہ مارکیٹ میں سے صرف 3 کھرب روپے کی مارکیٹ رجسٹرڈ ہے۔ حکومت ٹیکس آٹومیشن پر بھی کام کر رہی ہے۔

انہوں نے اسکینڈی نیوین ممالک کی طرح ٹیکس کلچر کو فروغ دینے پر زور دیا جہاں ٹیکس کا تناسب سب سے زیادہ ہے اور کہا کہ اس سال پاکستان میں 6 ہزار ارب روپے کا ریکارڈ ٹیکس ریونیو اکٹھا کیا گیا ہے۔

وزیرا عظم نے بتایا کہ ملکی برآمدات تاریخ میں پہلی بار 31 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں اور غیر ملکی ترسیلات زر 32 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ صنعت کی توسیع ملکی معیشت کے لیے بہت ضروری ہے، پاکستان میں بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کارپوریٹ منافع 9 کھرب 30 روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ نجی شعبے کی خریداری ایک ہزار 138 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔

عمران خان نے دعویٰ کیا کہ بھارت اور خطے کے دیگر ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے مقابلے میں پاکستان اب بھی ایک سستا ملک ہے۔