پوری ریاست مری واقعے کی ذمے دار ہے: اسلام آباد ہائی کورٹ

  • جمعرات 13 / جنوری / 2022
  • 3380

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ مری واقعے کی انکوائری کی ضرورت ہی نہیں۔ پوری ریاست اس کی ذمے دار ہے لیکن انگلیاں 'این ڈی ایم اے' کی جانب اُٹھتی ہیں۔

مری کے رہائشی حماد عباسی کی درخواست پر جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سانحہ مری پر سماعت ہوئی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ جب بڑی تعداد میں سیاح مری میں داخل ہو رہے تھے تو اُنہیں ٹول پلازہ پر کیوں نہیں روکا گیا۔ لہذٰا ذمے داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

چیف جسٹس نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے حکام کو عدالت میں طلب کر لیا جس پر این ڈی ایم اے کمیشن کے رُکن ادریس محسود عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے این ڈی ایم اے حکام کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا کیا مطلب ہے؟ یہ ادارہ پارلیمنٹ نے بنایا ہے۔ اگر سانحہ مری جیسے حالات ہوں تو ایسے مواقع پر این ڈی ایم اے کی کارکردگی سب کو نظر آنی چاہیے تھی۔

عدالت نے این ڈی ایم اے حکام سے استفسار کیا کہ مری میں ہونے والی 22 اموات کا ذمے دار کون ہے؟ این ڈی ایم اے کا آخری اجلاس کب بلایا گیا تھا جس پر این ڈی ایم اے کمیشن کے رُکن نے عدالت کو بتایا کہ کمیشن کا آخری مرتبہ اجلاس 2018 میں ہوا تھا۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر وزیرِ اعظم نے این ڈی ایم اے کا اجلاس نہیں بلایا تھا تو اس کے اراکین ہی خود میٹنگ کر لیتے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لوگوں کی مدد کرنا مری کے عوام کی نہیں بلکہ ریاست کی ذمے داری تھی۔ اس معاملے میں اُنگلی این ڈی ایم اے کی جانب اُٹھتی ہے۔

خیال رہے کہ سات اور آٹھ جنوری کی درمیانی شب مری اور اس کے گردونواح میں شدید برف باری اور طوفان کے باعث سیاحوں کی سینکڑوں گاڑیاں برف میں پھنسنے سے 22 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ ان میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سماعت کے بعد این ڈی ایم اے کے رکن ادریس محسود نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی ایم اے نے 31 دسمبر کو مقامی انتظامیہ کو ممکنہ خطرات سے متعلق وارننگ جاری کی تھی اور پانچ جنوری کو یہ وارننگ دوبارہ جاری کی گئی۔ وارننگ کے بعد مقامی انتظامیہ اور حکومت کو منصوبہ بندی کرنی چاہیے تھی۔

دوسری جانب سانحہ مری کی تحقیقات کے لیے پنجاب حکومت کی جانب سے بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کے اراکین مری میں موجود ہیں۔ کمیٹی پانچ جنوری کو شدید برف باری کی پیش گوئی کے بعد انتظامیہ کی تیاریوں اور سانحے کے روز تک کے واقعات کے دوران اقدامات اور ردِعمل سے متعلق رپورٹ پیش کرے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دی ا ہے کہ وزیراعظم کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا اجلاس بلا کر ذمہ داروں کا تعین کریں۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ کو روسٹرم پر بلاکر نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) سے متعلق قوانین پڑھنے کی ہدایت کی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ اتنی بڑی باڈی ہے جس میں سارے متعلقہ لوگ موجود ہیں، اپوزیشن بھی ہے، کیا اتنی بڑی باڈی کی کبھی بھی کوئی میٹنگ ہوئی ہے؟