ثاقب نثار آڈیو کیس: فرانزک تجزیے کیلئے غیر ملکی مستند اداروں کے نام طلب
- جمعہ 14 / جنوری / 2022
- 3170
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق چیف جسٹس ثاقب کی مبینہ ویڈیو کی پرتال کروانے کے لئے اٹارنی جنرل اور پاکستان بار کونسل سے غیر ملکی مستند فرانزک ایجنسیوں کے نام طلب کرلیے ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس ایچ سی بی اے) اور سندھ سے تعلق رکھنے والے جوڈیشل کمیشن کے رکن کی دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی۔ درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی تھی کہ ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کی تحقیقات کے لیے آزاد کمیشن تشکیل دیا جائے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ اوریجنل آڈیو موجود ہے یا نہیں یہ بھی نہیں معلوم اور آڈیو مصدقہ ہے یا نہیں اس حوالے سے بھی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ کوئی احتساب عدالت اس ہائی کورٹ کے ایڈمنسٹریٹو کنٹرول میں نہیں ہے، اس ہائی کورٹ سے متعلق ایسی کونسی چیز ہے جس پر آپ انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ تمام معاملات ایک زیرالتوا اپیل سے متعلق ہیں۔ آپ انکوائری چاہتے ہیں اور اس کا زیر التوا اپیلوں پر بھی اثر ہوگا، اگر عدالت انکوائری کا حکم دیتی ہے تو اپیلوں پر کیا اثر پڑے گا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس عدالت کے بینچز کوئی اور بناتا ہے، کوئی ایک معمولی سا بھی ثبوت ہے کہ اس عدالت کا کوئی بینچ کسی اور نے بنایا۔ سیاسی بیانیوں پر کیسز کے فیصلے نہیں کیے جا سکتے۔
ایڈووکیٹ صلاح الدین نے کہا کہ ایک آڈیو موجود ہے جس میں یہ معلوم نہیں کہ ثاقب نثار کس سے گفتگو کر رہے ہیں، یہ بھی معلوم نہیں کہ کال پر دوسری جانب کوئی جج ہے بھی یا نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو بادی النظر میں اپنا کیس تو بنانا ہوگا کوئی معمولی ثبوت ہی لے آئیں، اگر ثبوت نہیں تو یہ عدالت پر عوام کا اعتماد ختم کرنے کی کوشش ہے۔ ثبوت لائیں تو اس عدالت کو کمیشن بنانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر اس آڈیو کلپ کا فرانزک کرائیں تو اس کا خرچہ کون برداشت کرے گا؟ ایڈووکیٹ صلاح الدین نے کہا کہ وزارت قانون اس کا خرچہ اٹھا سکتی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کے پیسے اس پر کیوں خرچ ہوں؟ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ تاریخ واقعی تلخ ہے، ججز نے ماضی میں چیزوں کو تسلیم کیا، یہاں معاملہ مختلف ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کسی بھی مستند فرانزک ایجنسی کا نام تجویز کریں جس سے اس آڈیو کلپ کا فرانزک کرایا جائے۔ جس پر ایڈووکیٹ صلاح الدین کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل نے مجھے کہا کہ میں کسی کی پراکسی ہوں، میں کوئی نام تجویز نہیں کروں گا۔ آپ اس حوالے سے اٹارنی جنرل سے ہی کسی مستند فرانزک ایجنسی کا نام معلوم کر لیں۔
بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کا فرانزک تجزیہ کرانے کے لیے اٹارنی جنرل اور پاکستان بار کونسل سے غیر ملکی مستند فرانزک ایجنسیوں کے نام طلب کرلیے۔ سماعت 28 جنوری تک ملتوی کردی۔