پاکستان میں میڈیا کنٹرول کیا گیا ہے: ہیومن رائیٹس واچ

  • جمعہ 14 / جنوری / 2022
  • 6260

ہیومن رائٹس واچ نے تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت کی طرف سے 2021 میں میڈیا، سرگرم کارکنوں اور سیاسی مخالفین کی پکڑ دھکڑ کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا.

رپورٹ کے مطابو اس کا مقصد یہ تھا کہ حکومت پر ہونے والی تنقید کو روکا جا سکے۔ اسی طرح افغانستان میں، ادارے کے مطابق، خواتین کے حقوق اور میڈیا کی آزادی میں جو پیش رفت گزشتہ دو دہائیوں میں ہوئی، وہ طالبان کے آنے کے بعد رک گئی ہے۔ جمعرات کو جاری ہونے والی ’ورلڈ رپورٹ 2022’ میں ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ پاکستان نے پہلے ہی میڈیا پر دباؤ ڈال رکھا تھا اور اگست میں حکومت نے ایک نئی میڈیا ریگولیٹری ایجنسی کی تشکیل کے لیے بل تجویز کیا جسے میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے وسیع تر اختیارات دیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے متعدد ایسے کیبل آپریٹرز اور ٹیلی ویژن چینلز کو بلاک کر دیا جنہوں نے حکومت سے متعلق تنقیدی پروگرام نشر کیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق حکومتی عہدیداروں نے غیر سرکاری تنظیموں کو ہراساں کرنے اور ان کی نگرانی کے عمل میں بھی اضافہ کیا اور حزب اختلاف کے اراکین اور حامیوں کے خلاف بھی پکڑ دھکڑ جاری رکھی۔ پاکستان کی حکومت خواتین اور لڑکیوں اور احمدی کمیونٹی کے خلاف تشدد کو روکنے میں بھی ناکام رہی۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا چیپٹر کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر پیٹریشیا گوسمین نے کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت کی طرف سے اظہار رائے اور اجتماع کی آزادی پر پابندیوں اور صحافیوں، سرگرم کارکنوں اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں ایک ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو سال 2022 میں ان پریکٹسز کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے وگرنہ انسانی حقوق کی صورتحال مزید ابتری کا شکار ہو گی۔

رپورٹ میں پیمرا کے سابق چیئرمین اور صحافی ابصار عالم پر اپریل اور اسد علی طور پر دو ہزار اکیس میں نامعلوم افراد کے حملوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ اسی طرح معروف اینکر حامد میر کے پروگرام 'کیپیٹل ٹاک' کی معطلی کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے اسد طور پر حملے کےخلاف احتجاجی ریلی سے خطاب کیا تھا اور اس کے بعد ان کا پروگرام آف ایئر کر دیا گیا تھا ۔

خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد، جنسی زیادتی، تیزاب سے حملوں، گھریلو تشدد اور کم عمری کی زبردستی شادیوں کے واقعات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔ اس ضمن میں وفاقی دارالحکومت میں نور مقدم کیس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس پر ملک بھر میں سخت ردعمل سامنے آیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احمدی مکتبہ فکر کے افراد کے خلاف تشدد اور اہانت مذیب کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ مذہبی آزادیوں کے پیرائے میں انسانی حقوق کے ادارے نے اگست میں رحیم یار خان میں ایک ہندو مندر پر ہجوم کے حملے اور ایک آٹھ سالہ بچے پر اہانت مذہب کے الزام میں مقدمے کی رپورٹ کو حوالہ بنایا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی تازہ ترین ورلڈ رپورٹ 2022 میں افغانستان کی صورتحال کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں حکومت پر طالبان کے قبضے نے ملک میں انسانی حقوق کے بحران میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مذہبی عسکریت پسندوں کے گروپ نے خواتین کے حقوق کے ضمن میں ہونے والی پیش رفت اور میڈیا کی آزادی کو لپیٹ دیا ہے۔ ایشیا پروگرام کی ڈائریکٹر پیٹریشیا گوسمین نے کہا ہے کہ افغان عوام طالبان کے جبر اور بھوک کے خطرے میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ حکومتیں جو گزشتہ دو دہائیوں سے افغانستان کے اندر مصروف عمل تھیں ان کو چاہیے تھا کہ وہ انسانی امداد اور بنیادی سروسز کے لیے، بشمول صحت اور تعلیم کے، فنڈز فراہم کرتیں اور طالبان کی طرف سے حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے سابقہ حکومتیں اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکام حکومت کے باغیوں کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر کارروائیاں کر رہے ہیں اور میڈیا پر بھی پابندیاں عائد کر رہے ہیں اس طرح صحافیوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور ملک کے اندر ستر فیصد افغان ٹیلی ویژن اور دیگر خبر رساں ادارے بند ہو گئے ہیں۔ افغانستان میں میڈیا کی آزدی اور خواتین کے حقوق میں پیش رفت کا کریڈٹ افغانستان کے اندر دو دہائیوں تک بین الاقوامی موجودگی کو دیا جا رہا تھا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کو ''بے بنیاد'' قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی ایک ٹویٹ کے ذریعے ردعمل میں کہا ہے کہ افغانستان کے عوام کے تمام حقوق اسلامی امارت (طالبان) کے حکومت میں آنے کے بعد محفوظ ہیں۔ ان کے بقول ایسی رپورٹیں ان بے بنیاد معلومات پر مبنی ہیں جو بعض دشمن حلقوں نے بطور پروپیگنڈہ پھیلا رکھی ہیں۔ انہوں نے کسی فریق کا نام نہیں لیا۔