آئی ایم ایف کی شرط ماننے سے سیکیورٹی پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے: وزیراعظم
- جمعہ 14 / جنوری / 2022
- 4290
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب بھی عالمی مالیاتی فنڈ کے پاس جاتے ہیں مجبوری میں جاتے ہیں اور قرض لینے کے لیے شرائط ماننے سے سیکیورٹی پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔
اسلام آباد میں قومی سلامتی پالیسی کے پبلک ورژن کے اجرا کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ارتقا بہت غیر محفوظ حالات میں ہوا ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری سیکیورٹی فورسز نے ملک کو محفوظ بنایا اس کے مقابلے میں دیگر مسلمان دنیا کے ممالک مثلاً لیبیا، صومالیہ، شام، افغانستان کی افواج اپنے ملک کی حفاظت نہیں کرسکیں۔
سیکیورٹی کے بہت سے پہلو ہیں، اگر ایک ہی پہلو پر توجہ دی جائے تو ہمارے پاس سوویت یونین کی مثال ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور فورسز بھی سوویت یونین کو اکٹھا نہ رکھ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہماری حکومت، عوام ایک سمت میں چلیں۔ اگر معیشت درست نہ ہو تو آپ اپنے آپ کو طویل عرصے تک محفوظ نہیں رکھ سکتے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگر ہر کچھ عرصے بعد آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی سیکیورٹی متاثر ہوگی کیوں کہ ہمارے پاس کبھی بھی مشترکہ نیشنل سیکیورٹی کا تصور نہیں رہا۔ جب بھی آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں مجبوری میں جاتے ہیں کیوں کہ آخری حل کے طور پر صرف آئی ایم ایف مدد کرنے والا رہ جاتا ہے جو سب سے سستا قرض دیتا ہے۔
آئی ایم ایف سے قرض لینے کے لیے ان کی شرائط ماننی پڑتی ہیں اور جب شرائط مانتے ہیں تو کہیں نہ کہیں سیکیورٹی کمپرومائز ہوتی ہے جو لازمی نہیں کہ سیکیورٹی فورسز ہوں بلکہ اس کا مطلب یہ کہ آپ کو اپنے عوام پر بوجھ ڈالنا پڑتا ہے اور سب سے بڑی سیکیورٹی یہ ہوتی ہے کہ عوام آپ کے ساتھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے قومی سلامتی پالیسی میں جامع نمو کا تصور دیا گیا ہے یعنی جب تک ہم بحیثیت قوم ترقی نہیں کریں گے اور صرف ایک طبقہ ترقی کرجائے تو وہ قوم ہمیشہ غیر محفوظ رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اس وقت ہوتی ہے جب سب سمھجتے ہیں کہ ہم اس قوم کا حصہ ہیں، اس لیے جامع نمو کا پہلا تصور ریاست مدینہ میں آیا تھا جب فیصلہ کیا گیا کہ ریاست ہر کمزور طبقے کی ذمہ داری لے گی۔ اسلامی فلاحی تصور سب سے زیادہ اسکینڈے نیوین ممالک میں دیکھا گیا ہے۔ ہر طرح ایک ریاست اپنے کمزور طبقے کی ذمہ داری لیتی ہے جو پھر اس ریاست کو بچانے کے لیے اسٹیک ہولڈر اور اصل طاقت بن جاتا ہے۔
جب بھارت میں افغانستان سے افواج آتی تھیں تو انہیں کہیں مزاحمت نہیں ملتی اور سیدھا پانی پت پر لڑائی ہوتی تھی کیوں کہ وڈیرہ نظام تھا یعنی جو اوپر بیٹھا ہوتا تھا ساری طاقت، پیسہ اس کے پاس ہوتا تھا اور نچلے طبقے کا ملک میں کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا اس لیے ان کی زندگیوں میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا چاہے کوئی بھی اوپر آجائے۔ اس کے برعکس قبائلی علاقوں، افغانستان میں جمہوری طریقہ کار تھا، جرگہ نظام میں لوگوں کو انصاف دیا جاتا اور اپنی آزادی کی قدر کی جاتی تھی اس لیے وہ اپنے اوپر حملہ کرنے والوں کی مزاحمت کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ جامع نمو کا تصور یہ ہے کہ سب سے کمزور طبقے کی زندگی کو محفوظ بنایا جائے اور اسی مقصد کے لیے ہر خاندان کو ہیلتھ انشورنس دے کر محفوظ بنایا گیا ہے جو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا کہ اس پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لیے ریاست کے تمام ستونوں، وفاق، صوبوں، عسکری قیادت سمیت ہر شعبے کے اتفاق رائے کی ضرورت تھی اس لیے اس میں وقت لگا۔ ہمیں اس پالیسی کی اس لیے ضرورت تھی کہ ایک ایسی دستاویز کی کمی تھی جو چھتری کی طرح مجموعی طور پر قومی سلامتی کے پیراڈائم کو سمت اور رہنمائی فراہم کرے۔