قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ایک اور رکن کی حکومت پر تنقید
- ہفتہ 15 / جنوری / 2022
- 4950
پاکستان تحریک انصاف کے ایک رہنما نے قومی اسمبلی کے فلور پر خیبرپختونخوا کو نظر انداز کرنے پر حکومت پر تنقید کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کابینہ کے اعلیٰ اراکین بشمول وزیرا عظم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالا جائے۔
رپورٹ کے مطابق ایم این اے نور عالم خان نے حکومتی بنچوں کی اگلی قطاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 'پہلی تین قطاروں میں براجمان افراد ہی ملک میں افراتفری کے اصل مجرم ہیں، لہٰذا ان کے نام ای سی ایل میں ڈالیں، پاکستان بچ جائے گا'۔ ایک روز قبل وزیر دفاع پرویز خٹک وزیراعظم پر تنقید کرچکے ہیں۔
حکمران جماعت کے رکن قومی اسمبلی نے بھی خیبر پختونخوا، خاص طور پر صوبائی دارالحکومت پشاور میں گیس کے نئے کنکشن پر پابندی کا معاملہ اٹھایا۔ این اے 27 سے تعلق رکھنے والے نور عالم خان نے اپنے آبائی شہر کا وزیر اعظم کے حلقے سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ پشاور اس ملک کا ضلع نہیں ہے بلکہ میانوالی اور سوات ہیں۔
حکومت میں کسی کا نام لیے بغیر نور عالم خان نے حکمرانوں سے کہا کہ وہ اپنے پرتعیش خول سے باہر نکلیں اور عوام کی مشکلات پر توجہ دیں۔انہوں نے کہا کہ 'براہ کرم اپنے ہوائی جہاز، اپنی لینڈ کروزر اور بی ایم ڈبلیو سے باہر نکلیں اور لوگوں کی حالت دیکھیں'۔
دریں اثنا اپوزیشن نے دعویٰ کیا تھا کہ حکمران جماعت پی ٹی آئی کو اپنی صفوں میں ٹوٹ پھوٹ کا سامنا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ 'پی ٹی آئی کے اندر ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو گیا ہے'۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے رہنما نے ایسے ہی ریمارکس دیے جو مبینہ طور پر وزیر دفاع پرویز خٹک نے حکمران اتحاد کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کہے تھے، انہوں نے کہا تھا کہ کیا میں پاکستانی نہیں ہوں، کیا میں یہاں صرف اپنا ووٹ ڈالنے آیا ہوں؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر دفاع نے مؤقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخوا کے لوگوں کو بنیادی سہولیات بھی نہیں دی گئیں اور صوبے میں گیس کے نئے کنکشن پر پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔
انہوں نے تنبیہ کی تھی کہ اگر ان کے صوبے کے مسائل حل نہ ہوئے تو وہ وزیر اعظم کو ووٹ نہیں دیں گے، جس پر وزیر اعظم خان نے مبینہ طور پر پرویز خٹک سے کہا تھا کہ وہ انہیں بلیک میل نہ کریں۔
بونیر سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما شیر اکبر خان نے ضرورت سے زیادہ بلنگ کا مسئلہ اٹھایا اور مالاکنڈ ڈویژن میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ ڈویژن کو ٹیکس فری زون قرار دیا گیا تھا لیکن ان علاقوں کے لوگ مختلف ٹیکس دینے پر مجبور ہیں۔