اس سے بہتر نظام کیا ہو
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 15 / جنوری / 2022
- 5800
بندوبست تو پکا تھا مگر برا ہو اس میڈیا کا، اس کے پیٹ میں کوئی بات ٹکتی ہی نہیں۔ متاثرہ لڑکی نے ٌ اپنی مرضی ٌسے عدالت میں بیان حلفی دیا کہ میں نے ملزموں کو شناخت کیا اور نہ میں مزید اس مقدمے میں مزید حاضر ہو سکتی ہوں۔ مگر میڈیا اور سوشل میڈیا نے بات کا بتنگڑ بنا دیا۔
شام ڈھلے اس قدر شور مچا کہ حکومت نے آگے بڑھ کر یقین دلایا کہ اب ریاست اس مقدمے کی پیروی کرے گی۔ جنسی ہراسگی اور جنسی جرائم کے جانے کتنے کیسز میں طاقت ور ملزمان دھونس، دولت اور قانونی موشگافیوں کے اس آزمودہ طریقے کو آئے روز آزماتے ہیں، اور ٹھک سے مقدمے کے غبارے سے ہوا نکال کر خود کو سب کے سامنے صاف بچا کر نکال لے جاتے ہیں۔ دستور کچھ یوں ہے کہ ملزمان دھن دولت اور دھونس سے لدے پھندے ہوں تو پولیس، پراسیکیوشن اور قانونی معاونت آپ سے آپ انہیں راستے سجھاتے چلے جاتے ہیں۔ اور کچھ بھی نہ ہو تو ہمارے نظام عدل کی ایک ٌخوبی ٌ ملزموں کے لئے بہترین ڈھال اور مدعیوں کے لئے بدترین وبال ہے یعنی مقدمے کی طوالت۔
معاملہ اگر جنسی جرائم یا جنسی ہراسگی کا ہو تو روز روز کی ذلت آمیز پیشیاں اور عدالت میں جرح کا مرحلہ متاثرہ خاتون کو سر عام رسوا کرکے جیتے جی مار دیتا ہے۔ جرح کے نام پر سوال و جواب کی کراہت دیکھنے والوں کو پانی پانی کر دیتی ہے مگر آفرین ہے اس نظام پر جس میں ملزمان کے وکلا ء کو انصاف کے تقاضوں کے نام پر یہ کھلی چھٹی حاصل رہتی ہے۔ گزشتہ سال جولائی میں ایک ویڈیو اچانک وائرل ہوئی۔ اسلام آباد کے ایک اپارٹمنٹ میں چار غنڈوں نے بندوق کی نوک پر ایک نوجوان لڑکے اور لڑکی کو ہراساں کیا، برہنگی اور نازیبا حرکات پر مجبور کیا اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ کرنا خدا کا کہ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ا ور یوں انتظامیہ کو حرکت کی مجبوری آن پڑی۔ ہائی پروفائل کیس بن جانے کی وجہ سے یہ کیس میڈیا کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوا۔ اب ٹرائل شروع ہوا تو وہی آزمودہ طریقہ آزمایا گیا کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ نہ ہوگی مدعیہ نہ ہو گا مقدمہ، اب عدالت اور میڈیا کیا کر لے گا۔
یہ سب انتہائی فلمی انداز اور پراسرار طریقے سے ہوا۔ ذرا سی بھی عقل سلیم ہو تو سمجھنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگتا کہ پسِ پردہ دھونس، دولت، مجبوری اور خوف نے متاثرہ لڑکی کو اس بیان پر مجبور کیا۔ پسِ پردہ تماشے اور جبر کا تصور ذہن میں لائیں تو بدن میں جھرجھری سی آ جائے۔ متاثرہ لڑکی نے جج کے سامنے بیان داخل کیا کہ وہ اس کیس کی پیروی نہیں کرنا چاہتی ہے، اسے حاضری سے مستقل استثنیٰ دیا جائے، اور یہ کہ وہ اس مقدمے کی شکایت کنندہ نہیں ہے۔ پولیس نے اس سے سادہ کاغذ پر انگوٹھے لگوا ئے۔ اس کیس میں ملزم کے وکیل نے لڑکی کو کراس ایگزامین کرنا تھا۔ جج کی اجاز ت کے باوجود ملزم کے وکیل نے کہا لڑکی کے اس بیان کے بعد اب اس کی ضرورت نہیں رہی!!
ملزم کے وکیل کی بات بالکل بجا ہے۔ ہمارے نظام انصاف میں واقعی طاقت ور ملزم اور مجرم کے لئے اتنی کشادگی ہے کہ دن دیہاڑے ہونے والے جرم کا مجرم بھی عدم ثبوت کی بناء پر بری ہو جاتا ہے۔ دور کیا جانا، کوئٹہ میں ساڑھے تین سال قبل ایک ٹریفک وارڈن کی ایم پی اے مجید خان اچکزئی کی گاڑی سے سرعام ہلاکت کی ویڈیو وائرل ہوئی۔ سب کچھ سامنے ہوا، ویڈیو میں کوئی جھول نہ واقعہ ہونے میں کوئی شک شبہ مگر بھلا ہو اس نظام کا کہ موصوف عدم ثبوت کی بناء پر باعزت بری ہو گئے۔ اب کسی کو کہاں یاد ہوگا کہ مقتول ٹریفک وارڈن کی فیملی نے اسی وقت کئی انٹرویوز میں اپنی بے بسی پر کیا کیا داد فریاد نہ کی۔
اسی ہفتے اگر میڈیا پر شور نہ مچتا تو قتل کے جرم میں سزا یافتہ شاہ رخ جتوئی بھی بڑے سکھ چین سے ہسپتال میں ٌ جیل کاٹ ٌ ر ہا تھا۔ بات چلی تو عقدہ کھلا کہ ایک شاہ رخ جتوئی ہی نہیں درجنوں اور بھی ہیں دولت اور طاقت جن کی چاکری پر مامور ہے اور یوں وہ جیل کی بجائے ہسپتالوں میں شانتی سے جیل کاٹ رہے ہیں۔ اس سے قبل چیف جسٹس نے خود چھاپہ مار کر ہسپتال میں شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں برآمد کیں۔ دیکھنے والوں نے پھر یہ کمال بھی دیکھا کہ فارنزک میں ان بوتلوں کو شہد اور تیل کی موجودگی کی سند ملی۔
بہت سے لوگوں نے متاثرہ لڑکی کے بیان حلفی کے پس ِ پردہ عثمان مرزا اور ان کے ساتھیوں پر تنقید کی۔ ہمارا بھی پہلا ری ایکشن کچھ ایسا ہی تھا مگر پھر غور کیا تو رائے بدلنے پر مجبور ہو گئے۔ عثمان مرزا کی کرشماتی دھونس اور اس نظام کی جادوئی طاقت نے اشرافیہ کے ان تمام لوگوں کا مان رکھ لیا ہے جو چھوٹی سے چھوٹی بدمعاشی اور بڑے سے بڑا جرم اس اعتبار پر کرتے ہیں کہ کس مائی کے لال کی جرات ہے کہ ان پر ہاتھ ڈال سکے۔ ظاہر جعفر کی مثال سامنے ہے۔ قتل اور بھیانک ترین تشدد کے بعد بھی اسے یقین تھاکہ اس کے پاس دوہری شہریت اور پیسہ ہے، اسے کون ہاتھ لگائے گا۔ بہترین وکلا ء اس کا کیس لڑ رہے ہیں۔ حیرت نہیں ہوگی کل کلاں اگر دماغی خلل یا کوئی اور نادیدہ سہارا اس کی گلو خلاصی کو آئے۔
اللہ نہ کرے کسی کو پولیس یا کچہری سے واسطہ پڑے، خاص طور پر و ہ جو سفید پوش بھی ہو اور مقابل کوئی بدمست طاقتور ہو۔ اس نظامِ انصاف کا نقشہ اشرافیہ اور کرپشن کی کئی دِہائیوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ اس نتیجے کے مطابق ورلڈ جسٹس کے رول آف لاء انڈکس 2021 میں دنیا کے139 ممالک میں پاکستان 130 ویں نمبر پر رہا۔ پورے جنوبی ایشیاء میں رول آف لاء کیٹیگری میں ہم افغانستان سے ایک درجہ اوپر دوسرے نمبر پر پائے گئے۔ نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش ہم سے بہتر سمجھے گئے۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ اشرافیہ کے لئے اس سے بہتر کوئی نظام ہوسکتا ہے!