قومی سلامتی پالیسی پر سیاست نہ کی جائے: معید یوسف

  • ہفتہ 15 / جنوری / 2022
  • 3680

وزیر اعظم کے مشیر قومی سلامتی امور ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ قومی سلامتی پالیسی پر مثبت تنقید کی جاسکتی ہے لیکن اس پر سیاست نہ کی جائے ۔ پالیسی کی روح کو کوئی بھی حکومت تبدیل نہیں کرسکتی۔

لاہور میں گورنر ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان اب بھی افغانستان میں موجود ہے۔  تاہم   تحریک طالبان افغانستان میں رہ کر پہلے جیسا نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے۔پاکستان افغانستان کے ساتھ تجارت میں بہتری کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کے ساتھ باڑ کا مسئلہ بات چیت سے حل کریں گے ۔ ہماری خواہش ہے کہ پڑوسی ملک میں بھی پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسا منصوبہ شروع ہوناچا ہیے۔

معید یوسف نے واضح کیا کہ قومی سلامتی پالیسی پر مثبت تنقید کی جاسکتی ہے لیکن اس پر سیاست نہ کی جائے کیونکہ پالیسی کی روح کو کوئی بھی حکومت تبدیل نہیں کرسکتی۔کسی بھی حکومت کی جانب سے اس پالیسی پر نظر ثانی کی گنجائش موجود ہے لیکن قومی سلامتی پالیسی متفقہ پالیسی ہے۔

وزیر اعظم کے مشیر قومی سلامتی امور نے پارلیمانی کمیٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے ہمیں بلایا مگر سب حاضر نہیں تھے لیکن کمیٹی جب بھی بلائے گی ہم بریفنگ کے لیے تیار ہیں۔معید یوسف نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی تمام اسٹیک ہولڈر کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے۔

انہوں نے سی پیک کے حوالے مثبت نتائج کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک پر کام جاری ہے، پاکستان کا اگر جی ایس پی پلس کا درجہ ختم ہوجائے تو ہماری ایکسپورٹ آدھی رہ جائے۔معید یوسف نے کہا کہ غیر ملکوں کو سرمایہ کاری کے لیے شہریت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔  بھارت اب بھی اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ ملک ہے، کشمیر اہم مسئلہ ہے اسے نطر انداز نہیں کیا جاسکتا۔