عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے یہودی عبادت گاہ میں لوگوں کو یرغمال بنانے والا شخص ہلاک

  • اتوار 16 / جنوری / 2022
  • 5860

امریکی ریاست ٹیکساس کے علاقے کولی ول میں یہودی عبات گاہ کانگریشن بیت اسرائیل میں عبادت کرنے والوں کو یرغمال بنانے والا شخص مارا گیا۔

امریکی حکام نے اعلان کیا کہ تمام یرغمالیوں کو 12 گھنٹے  بعد عبادت گاہ سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن ( کے ڈیلاس دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہودی ربی سیمت چاروں یرغمالیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، واقعہ کسی مستقل خطرے کا حصہ نہیں ہے۔

عبادت گاہ کی جانب سے زور دار دھماکے اور فائرنگ کی آواز سنائی دینے کے تقریباً 20 منٹ بعد ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے ٹوئٹ کیا کہ 'دعائیں رنگ لے آئیں، تمام یرغمالی زندہ اور محفوظ ہیں'۔ ایف بی آئی نے کہا کہ عبادت گاہ کی حدود کی خلاف ورزی کے دانستہ فیصلے سے قبل یرغمال بنانے والے شخص کے ساتھ ان کے مذاکرات کار مسلسل رابطے میں تھے۔

قریبی شہروں فورٹ ورتھ اور ڈیلاس کے میڈیا نے اطلاع دی کہ یرغمال بنانے والا شخص مرچکا ہے جس نے اپنا نام محمد صدیقی بتایا تھا۔ عبادت گاہ پر حملہ آور شخص نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ عافیہ صدیقی کا بھائی ہے اور اس نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ پاکستانی نژاد امریکی نیورو سائنسدان عافیہ صدیقی کو نیویارک کی ایک عدالت نے 2010 میں افغانستان میں امریکی افسران کے قتل کی کوشش کے الزام میں 86 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

تاہم ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی نمائندہ وکیل نے کہا کہ یرغمال بنانے والے واقعے سےعافیہ صدیقی کا قطعی طور پر کوئی تعلق نہیں ہے اور مجرم ان کا بھائی نہیں تھا۔ ماروا ایلبیلی نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عافیہ صدیقی ہرگز یہ نہیں چاہتی کہ کسی انسان کے خلاف کوئی تشدد ہو، خاص طور پر ان کے نام پر تو ہرگز نہیں۔ یقینی طور پراس واقعے کا ڈاکٹر عافیہ یا ان کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مشتبہ شخص کانگریشن بیت اسرائیل میں اس وقت داخل ہوا جب عبادت گاہ میں شبت کی صبح کی عبادت فیس بک پر براہِ راست نشر کی جارہی تھی۔ 12 گھنٹے سے زائد وقت گزر جانے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی۔ براہِ راست نشریات ہٹائے جانے سے قبل اس میں اس واقعے کا کچھ حصہ ریکارڈ ہوگیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے سی این این کو بتایا کہ انہوں نے اس لائیو اسٹریم کا جائزہ لیا اور اس کی مدد سے اس واقعے اور اس میں ملوث افراد کا سراغ لگایا۔

قانون نافذ کرنے والے دو اہلکاروں نے سی این این کو بتایا کہ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ مجرم ڈاکٹر عافیہ کی رہائی چاہتا تھا۔ مشتبہ شخص کی درخواست پر عبادت گاہ کے ربی نے نیویارک شہر کے ایک معروف ربی کو بھی بلایا۔

حکام نے بتایا کہ مبینہ حملہ آور کا ربی سے کوئی تعلق نہیں تھا، اس نے انہیں بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ کو پھنسایا گیا ہے۔ اور وہ ان کی رہائی چاہتا ہے۔ ایک امریکی ریاست میں فری ڈاکٹر عافیہ موومنٹ اور مسلمانوں کے حقوق کے لیے سرگرم گروپ کونسل آن امریک اسلامک ریلیشنز نے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کے بھائی کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے ہیوسٹن چیپٹر کے سربراہ اور ڈاکٹر عافیہ کے بھائی کے قانونی مشیر جان فلائیڈ نے کہا  کہ ایک عبادت گاہ پر یہود مخالف دشمنی کا یہ حملہ ناقابل قبول ہے۔  ہم یہودی برادری کے ساتھ ہیں۔

میڈیا کی جانب سے مشتبہ شخص کی موت کی اطلاع دینے سے قبل کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز اور ڈاکٹر عافیہ کے خاندان کے قانونی مشیر نے اس پر زور دیا کہ یرغمالیوں کو فوری طور پر رہا کرو اور خود کو پولیس کے حوالے کردو۔

دوسری جانب امریکی صدر صدر جو بائیڈن نے ملک میں یہود دشمنی اور انتہا پسندی کے خلاف کھڑے ہونے کا عہد کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ہر سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انتھک محنت کا مشکور ہوں جنہوں نے یرغمالیوں کو بازیاب کرانے کے لیے تعاون اور بے خوفی سے کام کیا۔

یہودی کمیونٹی ریلیشن کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ کسی کو بھی اپنی عبادت گاہ میں جمع ہونے کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔