خارجہ پالیسی کے چیلنجز

پاکستان کو خارجہ پالیسی کے تناظر میں مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیں ریاستی و حکومتی سطح پر مختلف طرز کی سیاسی، سفارتی حکمت عملیوں سمیت داخلی محاذ سے جڑے معاملات سے بھی موثر انداز میں نمٹنا ہوگا۔

خارجہ پالیسی جس میں دنیا کی سیاست سمیت علاقائی سیاست سے جڑے مسائل ہیں ان کا ایک بڑا حل داخلی سلامتی سے بھی جڑا ہوا ہے۔پاکستان کی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی ”جیو اسٹرٹیجک سے جیو معیشت“ کو فوقیت دینا ہے۔ کیونکہ جب تک ہم اپنی معاشی صلاحیتوں کو بہتر نہیں بنائیں گے خارجی یاعلاقائی    سطح  پر چیلنجز بھی موجود رہیں گے اور ان مسائل سے نمٹنا بھی آسان نہیں ہوگا۔پاکستان کو جہاں خارجی معاملات سے نمٹنا ہے وہیں ہمیں  ایک بڑی اہم جنگ سفارتی یا ڈپلومیسی کے محاذ پر لڑنی ہے۔ کیونکہ دنیا میں اس سوچ اور فکر کو نمایاں کرنا ہے کہ ہماری موجودہ خارجہ پالیسی کی سمت درست بھی ہے اور وہ کسی ٹکراؤ یا تنازعات کی بجائے تمام ممالک سے امن اور تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔

اس وقت ہمیں پانچ سطحوں پر چیلنجز کا سامنا ہے۔ اول افغانستان کا بحران اور خطہ میں امن کی سیاست میں ہمارا مجموعی کردار، دوئم پاکستان بھارت تعلقات میں بہتری اور مسئلہ کشمیر کا پرامن حل، سوئم پاکستان امریکہ تعلقات اور پاکستان چین تعلقات جو کسی ٹکراؤ کے بغیر مثبت طور پر آگے بڑھیں، چہارم پاکستان سعودی عرب اور ایران تعلقات، پنجم دہشت گردی کے خاتمہ میں پاکستان کی کوششوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا  جیسے امور شامل ہیں۔ایک بنیادی نقطہ علاقائی سیاست کا استحکام ہے۔ کیونکہ جب تک ہم یا علاقہ کے دیگر ممالک اپنے اندر موجود تضادات ، تنازعات او رٹکراؤ جیسے مسائل سے باہر نکل کر مفاہمت کا بڑا سیاسی ایجنڈا تشکیل نہیں دیں گے تو کوئی بھی ملک بشمول پاکستان دنیا کی خارجہ پالیسی میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کرسکے گا۔اس لیے ہماری خارجہ پالیسی کا اہم نقطہ ہی علاقائی سطح پر موجود سیاست میں استحکام پیدا کرکے دو طرفہ سیاسی، سماجی اور معاشی تعلقات کو یقینی بنانا ہونا چاہیے۔ اس کا واحد حل طاقت کے استعمال کی بجائے مزاکرات او رمفاہمت کی کنجی ہے اور یہ ہی تمام ممالک کا سیاسی ہتھیار بھی ہونا چاہیے۔یہ کام عملا روائتی طور کی حکمت عملیوں سے ممکن نہیں اس کے لیے ہمیں موجودہ فریم ورک سے باہر نکل کر کچھ غیر معمولی فیصلے کرکے   دوسرے ممالک کی حمایت بھی حاصل کرنا ہوگی۔

افغانستان کے بحران کا حل ہماری علاقائی سیاست کی کنجی ہے۔ کیونکہ محض پاکستان ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر علاقہ کی پرامن سیاست، ترقی اور خوشحالی کا بھی بڑا دارومدآر بھی افغان بحران کے حل سے جڑا ہوا ہے۔جب کچھ لوگ یہ تنقید کرتے ہیں کہ پاکستان افغانستان کے معاملات میں کچھ زیادہ ہی حساسیت رکھتا ہے تو یہ غلط فکر نہیں۔کیونکہ ہمیں اندازہ ہے کہ افغان بحران میں اگر بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ منفی اثر بھی پاکستان پر ہی پڑے گا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان افغان بحران کے حل میں زیادہ گرم جوش اور فعال کردار ادا کرتا ہوا نظر آتا ہے، اس لیے اس عمل کو پاکستان کی کمزوری نہیں بلکہ ایک مثبت حکمت عملی کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ افغان بحران کا حل سیاسی تنہائی میں تو ممکن نہیں اس کے لیے ہمیں دنیا کی بڑی طاقتوں کو باور کروانا ہوگا کہ اگر افغانستان میں بڑا بگاڑ پیدا ہوگا تو اس کی نشانہ محض علاقائی سیاست یا ممالک پر ہی نہیں بلکہ عالمی دنیا بھی اس بگاڑ سے محفوظ نہیں رہے گی۔ داعش مسلسل ایک بڑا خطرہ بن کر سامنے آرہا ہے اور یہ خطرہ ہم سب کو  لپیٹ میں لے سکتا ہے۔داعش سے نمٹنا ایک بڑی حکمت عملی کا تقاضہ کرتا ہے اور یہ حکمت عملی بڑی اور چھوٹی طاقتوں کی مد د سے ہی تشکیل دی جاسکتی ہے۔ہمیں دنیا کو افغان بحران کے حل میں جوڑنا ہے تو اسے طالبان کو بھی باو ر کروانا ہوگا کہ وہ عالمی تحفظات کو نظرانداز کرنے کی بجائے اس کو اہمیت دے او روہ حکمت عملی اختیار کرے جو عالمی ممالک کا تقاضہ بھی ہے۔کیونکہ افغان حکومت سیاسی تنہائی میں کچھ بھی نہیں کرسکے گی۔

ایک مسئلہ امریکہ کے بارے میں بھی ہے۔ کیونکہ اگر واقعی امریکہ افغان بحران کا حل چاہتا ہے تو اس کا عملی اظہار ہونا چاہیے او ریہ کام وہ تمام فریقین کو ساتھ ملا کر ہی حل کرسکتا ہے۔ محض ڈکٹیشن یا طاقت کی بنیاد پر اپنے ایجنڈے کو مسلط کرنا مسئلہ کا حل نہیں ہوگا۔لیکن بظاہر لگتا ہے کہ افغان حل میں امریکہ کی پالیسی میں یا تو الجھاو ہے یا وہ واقعی مسائل کو حل کرنے کی بجائے اسے بگاڑنے کی پالیسی رکھتا ہے۔ پاک امریکہ تعلقات میں جہاں ایک بڑی وجہ افغان بحران ہے تو دوسری طرف ایک مسئلہ پاکستان چین تعلقات پر بھی ہے۔امریکہ کو لگتا ہے کہ پاکستانی   جھکاو چین کی طرف بڑھ رہا ہے اور وہ اس کی مدد سے ہمیں خطہ کی سطح پر کمزور کرنا چاہتا ہے۔ اس تناظر میں یقینی طور پر ہماری خارجہ پالیسی کا یہ چیلنج اہم ہے کہ ہم کیسے امریکہ او رچین کے تناظر میں توازن پر مبنی پالیسی اختیار کرکے امریکی تحفظات کو کم کرسکیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں طاقت کے مراکز میں نئی سیاسی شفٹ سامنے آرہی ہے اور علاقائی سطح پر نئے اتحاد بن رہے ہیں ایسے میں ہمارا مجموعی کردار او رزیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ ہم تعلقات میں بگاڑ کی بجائے تعلقا ت کو استوار کرنے کی حکمت عملی کو مضبوط بنائیں۔بالخصوص سی پیک جیسے اہم منصوبہ کی تکمیل ہماری اہم ترجیح کا حصہ ہونا چاہیے۔

علاقائی سیاست میں ایک بڑی مشکل پاک بھارت تعلقات میں بہتری کا ہے۔ اس تناظر میں بداعتمادی کا ماحول کیسے ختم ہو ایک مشکل سوال لگتا ہے۔کیونکہ تواتر سے پاکستان کی جانب سے بھارت کو تعلقات کی بہتری کی دعوت او راقدامات کے باوجود ہمیں بھارت کی طرف سے مفاہمت کی بجائے مزاحمت کا ماحول زیادہ غالب نظر آتا ہے۔ہم نے دنیا کو یہ باور بھی کروایا ہے کہ پاکستان ماضی سے باہر نکل کر مستقبل کی طرف جانا چاہتا ہے جس میں پاک بھارت تعلقات میں بہتری کا ایجنڈا سرفہرست ہے۔ ایک ٹکراو مسئلہ کشمیر پر ہے او ربھارت اس مسئلہ پر کوئی ایسی لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں جو دو طرفہ بات چیت یا مذاکرات کا راستہ کھول سکے۔افغان بحران میں بھی بھار ت کا کردار کافی منفی ہے اور و ہ وہاں معاملات کو سلجھانے کی بجائے بگاڑ پیدا کررہا ہے۔بھارت اس بحران کے حل میں نہ خود کوئی پیش رفت کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی اس مسئلہ کے حل میں کسی کی ثالثی کے لیے تیار ہے۔امریکہ کا اہم اتحادی بھی اس علاقائی سیاست میں بھارت ہے اور وہ اسے مستحکم کرکے چین کے تناظر میں اہمیت دیتا ہے۔ لیکن امریکہ پاکستانی تحفظات پر بھارت پر دباو ڈالنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا اور یہ ہی عمل یقینی طور پر بھارت کی سیاسی ہٹ ڈھرمی کو نمایاں کرتا ہے۔

ہمیں اپنی خارجہ پالیسی میں اس نقطہ کو زیادہ فوقیت دینا ہوگی کہ ہماری سرزمین نہ تو کسی ملک کے خلاف دہشت گردی کے طو رپر استعمال ہوگی اور نہ ہی کسی او رملک کی سرزمین ہمارے خلاف دہشت گردی کے طور پر استعمال ہونی چاہیے۔تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی سے جو بات چیت افغان حکومت کی خواہش پر شروع ہوئی تھی وہ آگے نہیں بڑھ سکی۔ کیونکہ جو شرائط ٹی ٹی پی نے دی تھیں پاکستان کے بقول ان کو قبول کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں تھا۔ آئی ایس پی آ رکے بقول اب ان کے خلاف ہماری جنگ ان کے منطقی انجام تک جاری رہے گی۔ اس جنگ سے نمٹنا بھی ہماری سیاسی اور عسکری حکمت عملی کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔

خارجہ پالیسی کی یہ جنگ تقاضہ کرتی ہے کہ پاکستان سفارت کاری یا ڈپلومیسی کے محاذ پر جو بھی ہماری کمزوریاں ہیں ان کو ختم کرنا اور روائتی عمل سے باہر نکل کر جدید انداز میں سفارت کاری کے محاذ کو مضبوط، مربوط او رفعالیت دینی ہوگی۔ اسی طرح سفارت کاری کی یہ جنگ سمیت ہم مجموعی طور پر خارجہ پالیسی کی جنگ کو داخلی سطح پر ایک بڑے سیاسی اور معاشی استحکام کی بنیاد پر جیت سکیں گے۔اس کے لیے میڈیا کے محاذ پر بھی ہمیں اپنے سیاسی بیانیہ کو مضبوط بنانا ہوگا او ربالخصوص عالمی میڈیا میں اپنے بیانیہ کی درست انداز میں تشہیر کرنا ہوگی۔ جو غلطیاں ہماری داخلی سیاست سے جڑی ہیں ان کو تسلیم کرکے آگے بڑھنا اور تمام فریقین کو ساتھ ملا کر ہی ہم اس خارجہ پالیسی کی جنگ میں اپنی مشکلات کو کم کرسکتے ہیں۔