بھارتی مسلمانوں کی نسل کشی : دنیا کو آنکھیں کھولنا ہوں گی

نسل کشی کے خلاف کام کرنے  والی  ایک عالمی تنظیم کے  بانی سربراہ  گریگوری  اسٹنٹن نے بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی انتہاپسند ہندو حکومت کے دور میں متعدد ایسے اقدامات کئے گئے ہیں جن سے بھارت میں  وسیع پیمانے پر مسلمانوں کے قتل و غارت گری کا اندیشہ پیدا ہوچکا  ہے اور دنیا کو اس بارے میں  سنجیدگی سے صورت حال کا جائزہ لے کر اس  انسانیت سوز ذہنیت کی روک تھام کے اقدامات کرنے چاہئیں۔

کافی عرصہ سے بھارت سے اقلیتوں کے بارے میں تشویشناک خبریں موصول ہورہی ہیں۔ لگ بھگ  ڈیڑھ ارب  نفوس پر مشتمل اس  ملک میں مسلمانوں کے علاوہ دوسری مذہبی اقلیتوں کی صورت حال کبھی بھی مثالی نہیں رہی  بلکہ انہیں مسلسل اپنے حقوق کے حوالے سے مشکلات و مصائب کا سامنا رہا ہے۔  تاہم 2014 میں نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے خاص طور سے  مذہبی اقلیتوں کو ٹارگٹ کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔  ہندو انتہا پسندوں کو بطور خاص مسلمانوں سے  زیادہ پریشانی لاحق ہے کیوں کہ ان کی تعداد 20 کروڑ کے لگ بھگ ہے اور  وہ ملک  میں اہم اقلیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔  ہندوستان پر مسلمانوں کی سینکڑوں برس پر پھیلی ہوئی حکومت کی وجہ سے بھی ہندو انتہاپسندی پر یقین رکھنے والے عناصر  مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں اور ملک کی پر امن مسلمان آبادی کو نشانہ بنانے  کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔

تاہم بھارتی آئین میں چونکہ سیکولر ازم کو بنیادی اصول کے طور پر اختیار کیا گیا ہے اور بھارتی مسلمان لیڈروں نے بھی سیکولر نظام پر مکمل اعتماد و یقین کا اظہار کیا ہے، اس لئے   کسی حد تک مسلمانوں کے خلاف ہونے والے کسی بھی ظلم کے خلاف  سیاسی لحاظ سے آواز ضرور اٹھائی جاتی رہی ہے۔ ملک کا  طاقت ور سیکولر طبقہ اور دانشور بھی مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور زندگی کی حفاظت کے لئے سرگرم  رہے تھے۔ تاہم  بھارتی جنتا پارٹی کی مقبولیت اور مرکز میں گزشتہ 7 برس کے دوران  اقتدار پر قابض رہنے کی وجہ سے سیکولر آوازیں اور ملکی نظام کی وہ بنیادیں کمزور ہوئی ہیں  جو مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو  تحفظ فراہم کرنے کے لئے اہم تھیں۔ ان میں خاص طور سے پولیس اور ملک کے عدالتی نظام کا ذکر کیا جاسکتا  ہے۔ 

عدالتی سطح پر اکا دکا ذیادتی کے باوجود بھارت کی اعلیٰ عدلیہ نے اقلیتوں کی حفاظت پر کبھی مفاہمت نہیں کی اور ملک کے انتہا پسند ہندو لیڈروں اور گروہوں کو کبھی قانون کو ہاتھ میں لینے اور اقلیتوں کو براہ راست نشانہ بنانے کا حوصلہ نہیں ہؤا۔ نریندر مودی کی حکومت میں ایک طرف ملک گیر سطح پر ہندو انتہا پسند تنظیموں کو پھلنے پھولنے اور  مالی طور سے توانا ہونے کا موقع دیا گیا   ۔ مکمل سیاسی پشت پناہی  کے ذریعے انہیں بے باک ، بے خوف اور  نڈر بنا دیا گیا۔  تو دوسری طرف  پولیس اور  قانون نافذ کرنے والے دیگر عناصر کو یہ واضح اشارے دیے گئے کہ مسلمانوں کے خلاف سرزد ہونے والے جرائم سے  چشم پوشی کی جائے اور ایسے معاملات میں ملوث مجرموں کو قانون کی گرفت میں نہ لایا جائے۔ نریندر مودی کی عیار اور انتہا پسند حکومت نے مسلمانوں کو مجبور اور کمزور کرنے کے لئے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ میڈیا کو سرکاری اختیار اور اثر و رسوخ میں لاکر  مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف  جرائم کو رپورٹ نہ کرنے اور اس بارے میں خبروں یا تبصروں کی حوصلہ شکنی  پر آمادہ کیا گیا۔ اس کے باوجود جن  مٹھی بھر صحافیوں  نے پابندیوں اور بندشوں کے باوجود  مسلمانوں پر ہونے والے مظالم   پر  بات کرنے کی کوشش کی ان کے خلاف سوشل میڈیا پر کردار کشی کی شرمناک مہم جوئی کے ذریعے اقلیتوں کی حفاظت کے لئے اٹھنے والی ہر آواز کو مدھم یا خاموش کیا  گیا۔

تاہم مودی حکومت کا سب سے خطرناک حملہ ملکی عدالتی نظام پر  کیا گیا ہے۔ نچلی سطح کی عدالتوں میں پہلے بھی مذہبی بنیاد پر جرائم   کے خلاف شنوائی نہیں ہوتی تھی لیکن میڈیا کے دباؤ اور ملک کے سیاسی بیانیہ کی وجہ سے کسی حد تک عدالتوں  میں کام کرنے والے ججوں کو یہ خوف رہتا تھا کہ  صریح قانون شکنی کی صورت میں ان کے خلاف کوئی انتظامی اقدام   ہوسکتا ہے۔ یا  میڈیا عوامی رابطہ مہم کے ذریعے ایسی ناانصافی کا پردہ فاش کرسکتا ہے۔ البتہ مودی  دور میں یہ دباؤ یکسر ختم کردیا گیا۔ بلکہ ملکی میڈیا کے بہت بڑے  حصے کو اکثریت کے ’حقوق‘  کے نام پر ہندو ازم کے پرچار اور اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلانے پر مامور کردیا گیا۔ نچلی سطح کی عدالتوں میں ججوں کو اس صورت حال میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف جرائم پر کوئی اقدام کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔  یوں بھی پولیس    براہ راست  ریاستوں کے اختیار میں ہے اور  قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے مرکزی حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ ان دونوں سطح پر سیاسی قیادت نے  پولیس اور دیگر انتظامی اداروں   کو   مذہبی اقلیتوں اور خاص طور سے مسلمانوں کے خلاف ہندو انتہا پسندوں کے ظلم و ستم کی حفاظت  کے فرض سے’ سبکدوش‘ کردیا۔  جب پولیس  ہی کسی جرم کے بعد  مستعدی نہیں دکھائے گی یا مجرموں کی حفاظت  کرے گی تو   نفرت و تعصب کی بنیاد  سرگرم عناصر کے بے لگام ہونے میں دیر نہیں لگتی۔

پسندیدیدہ ججوں  کی تقرریوں   یا ججوں کو نوازنے کے ہتھکنڈے اختیار کرکے بھارت کی اعلیٰ عدالتوں کو بھی  مرکزی   حکومت کے دباؤ میں  لایا گیا ہے۔ اس کی  بہت نمایاں مثال   سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانجن گوگوئے کی دی جاسکتی  ہے۔ انہوں نے  اپنی ریٹائرمنٹ سے چند ہفتے پہلے نومبر 2019 میں بابری مسجد کیس میں مسلمانوں کے خلاف فیصلہ دیا اور چند ماہ بعد  مارچ 2020 میں   صدر رام ناتھ کوند نے انہیں راجیہ سبھا کا رکن نامزد کردیا۔  اس سطح پر کسی جج کو نوازنے کی اس  شرمناک اور افسوسناک کوشش سے اعلیٰ عدالتوں کو  حکومتی مرضی کےمطابق چلانے کی مودی سرکاری کی پالیسی واضح ہوتی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ نریندر مودی کی حکومت نے 5 اگست 2019 کو  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی  آئینی  حیثیت اور ریاستی اسٹیٹس ختم کرکے اسے  وفاق کے زیر انتظام علاقے میں  تبدیل کردیا۔ کشمیریوں کے سخت احتجاج کے باوجود ابھی  تک بھارتی سپریم کورٹ  مودی حکومت کے اس ناجائز  اور مسلمان دشمن فیصلہ کے بارے میں  کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکی۔

اسی طرح بھارتی حکومت نے دسمبر 2019 میں ملکی شہریت قانون میں ترمیم کے ذریعے  نسل پرستانہ اور مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ فیصلے کئے ۔ اس ترمیم کے بعد متعدد ملکوں سے آنے والے غیر مسلم شہریوں کو تو بھارتی شہریت لینے کا حق دیا گیا ہے لیکن  کسی مجبوری کی بنا پر ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو اس حق سے محروم کردیا گیا۔ اس ترمیم کا اصل مقصد  آسام میں بنگلہ دیش سے 1971 کی خانہ جنگی کے دوران آنے والے تیس چالیس لاکھ مسلمانوں کو  بھارت  میں قیام کے حق سے محروم کرنا تھا۔  گزشتہ پچاس سال سے بھارت میں آباد اس گروہ سے کہا جارہا ہے کہ وہ  دستاویزی طور سے ثابت کریں کہ  1971 سے پہلے ہی یہاں آباد تھے یا انہیں بھارت میں رہنے کا قانونی  حق  حاصل ہے۔   اس طرح  کثیر تعداد میں مسلمانوں کو  صرف ان کے عقیدہ کی وجہ بے وطن کرنے اور انہیں اپنے پیدائشی  ملک میں رہنے کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

امریکی کانگرس میں ہونے والی ایک سماعت کے دوران  ماہرین نے اس صورت حال کو  بھارتی مسلمانوں کے لئے شدید پریشانی کا سبب  قرار دیا۔ نسل پرستی کے خلاف کام کرنے والی عالمی تنظیم کے بانی اور نسل پرستی کے معاملات کے ماہر  ڈاکٹر گریگوری  اسٹنٹن کا کہنا تھا کہ  بھارت آسام میں آباد بنگلہ دیشی مسلمانوں کے ساتھ  میانمار کے روہنگیا مسلمانوں جیسا سلوک کرنا چاہتا ہے۔ میانمار کی حکومت  نے  ملک میں آباد روہنگیا کو صرف ان کے عقیدے اور نسل کی وجہ سے بے وطن کرنے اور ذبردستی ملک  سے نکالنے کا  اقدام کیاہے۔ سرکاری  سرپرستی میں بدھ مسلح گروہوں نے  روہنگیا بستیوں پر حملے کرکے قتل و غارت گری کا سلسلسہ شروع کیا تھا جسے میانمار کی حکومت اور فوج کی مکمل سرپرستی حاصل تھی۔ ڈاکٹر اسٹنٹن کا کہنا ہے کہ اب بھارت میں بھی یہی صورت حال پیدا کی جارہی ہے اور بھارتی معاشرہ دراصل  ملک کے بیس کروڑ مسلمانوں کی باقاعدہ نسل پرستی کی طرف قدم بڑھا رہا ہے لیکن  دنیا  بھارت جیسے ملک میں ا س خطرناک صورت حال   پر خاموشی اختیار نہیں کرسکتی۔

 ڈاکٹر اسٹنٹن نے  اس سے پہلے   اسّی کی دہائی میں رونڈا  میں توتسی قبائل کی نسل کشی کے بارے میں متنبہ کیا تھا۔ 1994 میں اپریل اور جولائی کے دوران مسلح گروہوں نے دس  لاکھ کے لگ بھگ  توتسی  قبائل کو  ہلاک کیا تھا۔   نسل کشی کے خلاف کام کرنے والے اس ماہر کا خیال ہے کہ  نریندر مودی کی سربراہی میں بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے  ویسے ہی حالات پیدا کررہی ہے۔ انہوں نے  دسمبر کے دوران ہریدوار میں ہندو انتہاپسندوں کے ایک اجتماع کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ اس اجتماع میں ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور انہیں تہ تیغ کرنے  پر اکسایا گیا لیکن حکومت ایسے لیڈروں کے  خلاف کوئی کارروائی کرنے سے قاصر ہے ۔ حتی کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ان اشتعال انگیز اور نفرت سے بھرپور بیانات کے بارے میں ایک لفظ کہنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔  اگرچہ گزشتہ روز لکھنو سے موصول ہونے والی خبر کے مطابق  ہریدوار میں یہ بیان دینے والے ہندو لیڈر  یاتی نرسنگھ آنند کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ تاہم بھارت  میں موجودہ انتہاپسندانہ ذہنیت اور اس کی سرکاری سرپرستی کی صورت  حال میں اس شخص کو سزا ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

گریگوری  اسٹنٹن نے واضح کیا ہے کہ  بھارت میں ایک ہندو انتہا پسند نریندر مودی اس وقت برسر اقتدار ہے اور وہ اپنا اختیار  مذہبی انتہاپسندی اور نفرت کو فروغ دینے کے لئے استعمال کررہا ہے۔  اس کام کا آغاز  کشمیر اور آسام میں مسلمانوں کے خلاف اقدامات سے کیاجاچکا ہے اور باقی ماندہ ملک میں بھی مسلمانوں کی نسل کشی  کے لئے ماحول سازگار بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے  متنبہ کیا کہ دنیا بھارت میں مسلمانوں کی وسیع پیمانے پر قتل و غارتگری کی متحمل نہیں ہوسکتی۔  ایک عالمی ماہر کی یہ وارننگ دنیا کے اہم دارالحکومتوں کے لئے قابل غور ہونی چاہئے۔

بھارت کے حجم اور سیاسی و معاشی اہمیت کی وجہ سے امریکہ اور دیگر مغربی  ممالک ابھی تک بھارت میں اقلیتوں کے خلاف جرائم کے بارے میں کھل کر بات کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ تاہم   یہ خاموشی انسانیت کے خلاف  مجرمانہ غفلت کی علامت بن رہی ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والے اجلاس میں  بھارت کے سنگین حالات کے دستاویزی ثبوت  دیے  گئے ہیں اور ماہرانہ رائے سامنے آئی ہے۔ اس بارے میں خاموشی اور بے عملی  ہمارے عہد کے سب سے بڑے المیہ کا  باعث بن سکتی ہے۔