مسلم لیگ (ن) میں پھوٹ پڑ رہی ہے، وزیر اطلاعات کا دعویٰ
- سوموار 17 / جنوری / 2022
- 3530
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کم از کم 4 رہنما پارٹی قیادت کی تبدیلی کے لئے خفیہ ذرائع سے رابطے کررہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے چار سینیئر رہنماؤں نے کسی سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ اگر نواز شریف نے ملک کے ساتھ بہت بڑا ظلم کیا ہے تو وہ ان پر متبادل کے طور پر غور کیوں نہیں کرتے۔ لاہور پریس کلب میں میڈیا سے بات چیت کے دوران فواد چوہدری سے جب ان چار رہنماؤں کے نام پوچھے گئے تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ سب انہیں جانتے ہیں کیونکہ وہ پارٹی کی نمایاں صفوں میں شامل ہیں۔
جیو نیوز کے مطابق وزیر اعظم کے معاون برائے سیاسی امور شہباز گل نے فیصل آباد میں پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف چار لوگوں کے لیے ڈیل کا مطالبہ کررہے ہیں، جن چارافراد کی ڈیل مانگی گئی ان میں شہبازشریف، ان کا بیٹا، نواز شریف اور ان کی بیٹی شامل ہیں۔ درخواست کی جارہی ہے کہ مریم نواز، شہباز شریف اور ان کے بیٹے کو بھی باہر جانے دیا جائے جبکہ شاہد خاقان عباسی یہیں رہیں گے۔
اس سے قبل وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن جماعت کے ساتھ کسی بھی ڈیل کے تاثر کی تردید کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو کسی قسم کی ڈیل کی جھوٹی امیدیں تھیں لیکن وہ یہ واضح کرنا چاہیں گے کہ اس بار ان کے لیڈروں کو احتساب میں نہ ڈیل ملے گی اور نہ ہی ڈھیل ملے گی۔
وزیر اطلاعات نے اپوزیشن کے آنے والے مہینوں میں لانگ مارچ یا اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے اعلان کو بھی رد کردیا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ تین بڑی اپوزیشن جماعتیں جوایک دوسرے پر بھروسہ بھی نہیں کرتیں وہ پی ٹی آئی حکومت کے پہلے ہی سال سے حکومت کے خلاف اپنے اعصاب توانا رکھنے کی مشقیں کر رہی ہیں۔
اگر ایک اپوزیشن پارٹی کی قیادت آگے پیچھے ہو تو دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنما اس خدشے کا اظہار کرنا شروع کردیتے ہیں کہ شاید وہ 'ڈیل' کے چکرمیں ہیں ۔
اس سلسلے میں جب مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے چار رہنماؤں کی کسی سے ملاقات کے بارے میں وزیر اطلاعات کے بیان کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے ’غیرحقیقی‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر ’کسی‘ سے مراد اسٹیبلشمنٹ یا واضح طور پر آرمی چیف ہیں تو ان سے پیشگی اطلاع اور ایجنڈے کے بغیر کوئی مل ہی نہیں سکتا۔
ڈان سے بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت میں تیزی سے گراوٹ سے خوفزدہ یا چھوڑ جانے کے لیے تیار بیٹھے تحریک انصاف رہنماؤں کا اعتماد بڑھانے کے لیے فواد چوہدری کہانیاں بنا رہے ہیں کہ پی ٹی آئی اب بھی مضبوط ہے اور اب بھی اس کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلق قائم ہے۔ پی ٹی آئی قیادت اپنے سیاسی اتحادیوں کو بھی تسلی دے رہی ہے۔