پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی سے پارٹی پر تنقید کی وضاحت طلب

  • منگل 18 / جنوری / 2022
  • 4490

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے حال ہی میں قومی اسمبلی میں اپنی ہی پارٹی کی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بنانے والے پشاور سے منتخب قانون ساز نور عالم خان کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق پارٹی نے نور عالم خان کو ایوان میں اپنی ہی پارٹی پر تنقید کرنے پر نوٹس جاری کیا ہے۔ کابینہ کے ایک رکن نے ڈان کو بتایا کہ نور عالم خان کو پورے میڈیا کی موجودگی میں قومی اسمبلی کے فلور پر پارٹی پر تنقید کرنے کے بجائے پارٹی کے اندورنی اجلاس میں اپنے تحفظات کا اظہار کرنا چاہیے تھا۔

نور عالم خان کورونا وائرس سے بھی متاثر ہوگئے ہیں، یہ بات ان تمام لوگوں کے لیے بھی باعث تشویش ہے جنہوں نے ان سے ایوان زیریں کے حالیہ اجلاس کے دوران ملاقات کی۔ ڈان سے بات کرتے ہوئے ایم این اے نے وزیر اعظم عمران خان کے خود احتسابی کے وژن پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ لوگوں کے تحفظات اٹھانے پر انہیں شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔

جمعہ کے روز ہونے والے اجلاس میں نور عالم خان نے قومی اسمبلی میں صف اول کی تین حکومتی نشستوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان پر ملک کے مسائل کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے اگلی نشستوں پر موجود وزیر اعظم عمران خان سمیت تمام لوگوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی بقا کا یہی واحد راستہ ہے۔

ہفتے کے شروع میں ایک اور صف اول کے پی ٹی آئی رہنما وزیر دفاع پرویز خٹک کی بھی حکمران اتحاد کے حالیہ پارلیمانی پارٹی اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان کے ساتھ نوک جھونک ہوئی تھی۔

نور عالم خان نے پورے خیبر پختونخوا میں اور خاص طور پر ان کے اپنے علاقے پشاور میں نئے گیس کنکشنز پر عائد پابندی کا معاملہ بھی اٹھایا تھا۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب، جو کہ پارٹی کے انفارمیشن سیکر یٹری بھی ہیں، سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ نور عالم خان کو شوکاز نوٹس جاری ہوچکا ہے لیکن نوٹس اب تک رکن قومی اسمبلی کو پیش نہیں کیا گیا۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایم این اے کو نوٹس جاری کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے فرخ حبیب نے کہا کہ انہوں نے کھلے عام پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے۔ جب پوچھا گیا کہ کیا نور عالم خان کی پارٹی رکنیت معطل کردی گئی ہے تو وزیر نے جواب دیا کہ معطلی کے حوالے سے وہ یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن ان سے جواب ضرور طلب کیا گیا ہے۔