خدا کے ہوتے ہوئے، ناخدا کے ہوتے ہوئے
- تحریر ارشاد احمد صدیقی
- منگل 18 / جنوری / 2022
- 5270
سانحہ مری پاکستان کے دل پر ایک نہ مٹنے والا گھاؤ ہے۔ اب خدا جانے کب تک تاویلیں ہوتی رہیں گی اور گھاؤ رستا رہے گا۔
سوال در سوال، قطار اندر قطار یہ پوچھا جاتا رہے گا کہ قصور کس کا ہے؟ عمران خان خوش ہیں کہ ملک ترقی کر رہا ہے، سیاحت کو عروج میسر ہے اور مخالفین ناخوش ہیں کہ حکومت وقت نااہل ہے:
یاں اہل جنوں یک بہ جگر دست و گریباں
واں جشن ہوس تیغ بکف درپے جاں ہے
گناہ گاہوں درِپشیمانی تک ہجوم در ہجوم استادہ ہیں لیکن بس ابنوہ میں پہلا پتھر مارنے والا کوئی نظر نہیں آ رہا۔ اگر کوئی حقیقت سامنے آتی ہے تو وہ محکمہ موسمیات کی پیشنگوئی ہے کہ مری کے علاقے میں شدید طوفان برپا ہونے والا ہے۔ آفرین صد آفرین محکمہ موسمیات کہ آپ نے بروقت اطلاع پہنچا دی۔ موسمی پیشگوئی کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے یورپ میں خاصا عرصہ گزارا، موسمی پیشگوئی ہمارے دن کا اہم جزو تھا۔ جب ایسی خبر آتی تو ہر بشر اس علاقے سے دور تر رہنے کی سعی کرتا تھا۔ خاص سڑکیں عام ٹریفک کے لئے قبل از وقت بند کر دی جاتی تھیں۔
موسموں کی تعظیم لازم ہے۔ موسم ناگزیر ہیں۔ ان کا اپنی راہ الگ بنانا مقدور ہے۔ اب ذرا اس سارے سانحہ کی بڑی تصویر پر نظر ڈالئے۔ محکمہ موسمیات نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ یہ عیاں تھا کہ مری میں برف باری کا طوفان آنا تھا اور وہ دھڑلے سے آیا۔ کہا جاتا ہے کہ مری میں برف باری دیکھنے کے لئے کوئی ڈیڑھ لاکھ کاریں در آئیں۔ سوال یہ ہے کہ انتظامیہ کو کاروں کا یہ اژدہام نظر نہ آیا۔ مری کا داخلہ محدود ہے، مری بذات خود محدود جگہ ہے۔ لیکن ہماری انتظامیہ اپنے آپ میں گم، کوئی بندوبست موجود ہی نہ تھا اور نتیجہ یہ المناک واقعہ تھا۔
اب ذرا مری کے باسیوں پر نظر ڈالتے ہیں، مری کے باسی انگریزوں کی پیداوار ہیں، مری انگریزوں کا منظور نظر ہل اسٹیشن تھا، محدود تھا۔ آبادی کے پھیلاؤ کے ساتھ اس میں اضافہ ہوتا رہا لیکن زیادہ اضافے کی گنجائش کم تھی۔ مقامی لوگوں کی زندگی کا آسرا موسم گرما تھا۔ موسم گرما مقامی لوگوں کے لئے کمائی کا واحد موقع تھا۔ یہ سوچ مقامی لوگوں کے دل میں بیٹھ گئی اور وہ اس حد تک کہ ”اگر دن ہے تو آج کا دن ہے“ اگر حصول کا دن ہے تو وہی ہے۔ اور یہ حصول ان کی فطرت کا حصہ بن گئی۔ جس کی عریاں مثال اس سانحہ نے آشکار کردی۔ یعنی پانچ ہزار کا کمرہ پچاس ہزار میں بکنے لگا۔ سلام اس مرغی کے انڈے کو جس کی قیمت پانچ سو روپے لگ گئی یعنی اس دوران مری میں واقعی جنگل کے قانون کی سرپرستی تھی۔
ہم مری کے باسیوں کو سراسر مورد الزام نہیں ٹھہراتے۔ دو سال ہا سال سے ایسا کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ یہ ان کا طرز زندگی ہے۔:
جو رنگ در و دیوار پر پریشان ہیں
یہاں سے کچھ نہیں کھلتا کہ یہ پھول ہیں یا لہو
گلے بہت ہیں کس کس پہ انگلی اٹھائیں۔ اب ذرا دیکھیں کہ پاکستانی حکام نے کیا کیا۔ انہوں نے مری نتھیا گلی کی ساری سڑکیں بند کردیں کوئی طوفان ایسا نہ ہو، کہا جاتا ہے کہ ایسا تو ہر سال گرمیوں، سردیوں میں ہوتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے پاس موسم کا پورا ریکارڈ محفوظ ہے۔ کیا یہ ضرور نہیں کہ موجود ریکارڈ پر عمل کیا جائے۔ سیاحوں کی آمد پر کنٹرول کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے اور اگر ضروری ہو تو سڑکیں بالکل بند کردی جائیں۔ انہیں یقین ہے کہ ایسا کرنے سے کوئی واویلا نہ مچے گا۔ کوئی طوفان نہ اٹھے گا۔ بلکہ ایسا کرنے سے بہت سی زندگیاں مسکراتی رہیں گی۔ بہت سے پھول موسم بہار میں کھلتے رہیں گے:
جاتے جاتے ذرا غور کرتے جائیں کہ قصوروار کون ہے؟
محکمہ موسمیات۔۔۔۔۔۔ نہیں
انتظامیہ۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں
پولیس۔۔۔۔۔۔۔نہیں
مقامی آبادی۔۔۔نہیں
تو پھر ہے تو کون ہے جس کو قصوروار ٹھہرائیں۔ ذہن میں صرف اور صرف ایک بات آتی ہے۔ وہ یہ کہ آج کے دور میں ہر پاکستانی دن کے اٹھارہ گھنٹے ناک کو اپنے سیل فون میں دبائے کسی نہ کسی تلاش میں سرگرداں ہے۔ وہ سیاست، جرائم، کھیلوں، تفریح اور موسم کی پیشگوئیوں سے سراسر باعلم ہے۔ تو ان کے ذہن میں یہ بات کیوں نہیں آئی طوفان کی طرف جانا دانشمندی ہے یا آنے والے طوفان سے دوری دانش مندی ہے:
اب اگر جاؤ پئے عرض و طلب ان کے حضور
دست و کشکول نہیں کاسۂ سر لے کے چلو