کیا ہم سانحہ مری سے کچھ سیکھ سکیں گے؟

سانحہ مری کوئی نیا واقعہ نہیں کیونکہ اس طرح کی نااہلی، بدانتظامی اور حادثات ہماری روزمرہ کی ذندگی کا معمول بن گیا ہے۔ ان ہی واقعات کی بنیاد پر نہ صرف ہمیں مالی طور پر بڑا نقصان اٹھانا پڑتا ہے بلکہ معصوم اور بے گناہ انسانی جانوں کا ضیاع بھی بڑا المیہ ہے۔

ہم ریاستی، حکومتی یا معاشرتی سطح پر ان واقعات یا حادثات کا ماتم یا دکھ کا اظہار بھی کرتے ہیں اور حکمرانی کے نظام کی خرابیوں پر بھی خوب برستے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم مجموعی طور پر ریاست سے جڑے تمام فریقین ان واقعات، حادثات اور اپنی نااہلی سے جڑے معاملات پر نہ تو شرمندہ ہوتے ہیں اور نہ ہی اپنی ان غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ہمارا مجموعی مزاج ردعمل کی سیاست سے جڑا ہوا ہے۔ یعنی واقعہ یا حادثہ ہونے پر ہماری پھرتیاں خوب ہوتی ہیں لیکن ان حادثات سے قبل معاملات کی درستگی کے لیے جو ریاستی، حکومتی،ادارہ جاتی اور معاشرتی ردعمل ہمارا ہونا چاہیے اس کا فقدان غالب نظر آتا ہے۔

اگرچہ حکومتی سطح پر سانحہ مری کے حادثہ کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے گئی ہے او راس کی ابتدائی رپورٹ بھی منظر عام ٖپر آگئی ہے۔لیکن اس کمیٹی کا نتیجہ بھی ماضی میں بننے والی کمیٹیوں یا کمیشنوں سے مختلف نہیں ہوگا۔کیونکہ یہاں تحقیقاتی کمیٹیاں بنانے کا مقصد معاملات کی درست نشاندہی یا ان کو جوابدہ بنانے کی نہیں بلکہ اس میں تاخیری حربے اختیار کرنا یا محض لوگوں کی دلجوئی کے لیے کمزور لوگوں کو قربانی کا بکرا بنانے تک محدود ہے۔اصل کرداروں کو ہم مختلف سیاسی سمجھوتوں کے باعث جوابدہ بنانے کے لیے تیار نہیں یا جو لوگ ذمہ دار ہوتے ہیں وہ ریاست یا حکومت کے مقابلے میں زیادہ طاقت ورہوتے ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ اصل ذمہ داران قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہیں۔بظاہر یہ ہی لگتا ہے کہ ہمارا ریاستی نظام ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں اور اس کی ایک بھاری قیمت مجموعی طور پر ملک او رافراد کو دینی پڑتی ہے۔

 سانحہ مری کو سمجھنے کے لیے ہمیں محض جذباتی انداز میں تجزیہ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ان حالات کا سیاسی، انتظامی اور معاشرتی تجزیے کی ضرورت ہے۔ ہمیں چارپہلوؤں سے مسائل کو سمجھنا ہوگا۔اول ہمارا مجموعی بحران گورننس کا ہے اور ہمیں ریاستی وحکومتی امور کو چلانے کے لیے جو جدیدت پر مبنی گورننس کا نظام درکار ہے اس کو یا تو ہم سمجھنے کے لیے تیار نہیں یا سیکھنا یا بدلنا ہی نہیں چاہتے۔بالخصوص سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کی نچلی سطح پر عدم تقسیم او رمقامی نظام حکومت کو نظرانداز کرنے کی پالیسی مسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ دوئم انتظامی سطح پر بیوروکریسی کا نظام اپنی افادیت کھوچکا ہے ان کی نگرانی، شفافیت اور جوابدہی کا عدم نظام اور مختلف اداروں کی سطح پر رابطہ کاری کا کمزور نظام، اس میں موجود نااہلی او ربدعنوانی جیسے معاملات کی بالادستی گورننس کے نظام کو کمزور کررہی ہے۔ سوئم ملک کی مجموعی ریگولیٹری کا نظام جو عملی طور پر اداروں کی نگرانی اور جوابدہی سمیت لوگوں کی معاونت کرتا ہے نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم نے لوگوں کو اداروں یا حکومتوں کے مقابلے میں مخصوص افراد یا نجی شعبہ کو بغیر کسی ریگولیٹ کرکے عوام کو ایک بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ یہ شعبہ ناجائز منافع خوری او رلوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر اپنی من مانی سے نظام چلانا چاہتا ہے۔چہارم ہم اس ملک میں موجود لوگوں کے ہجوم کو ایک قوم بنانے میں ناکام ہوئے ہیں۔ لوگوں کا بھی اپنا سیاسی، سماجی او رمعاشرتی مزاج یا رویے بھی قابل گرفت ہیں اور وہ بھی ماضی کی غلطیوں سے کچھ سیکھنے کے لیے تیار نہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے نظام  کی سیاسی، انتظامی اور معاشرتی خرابیاں یا خامیاں ہیں اس کو دور کرنے کا کوئی بڑا روڈمیپ رکھتے ہیں۔ اگر جواب ہاں میں ہے تو وہ روڈ میپ کہاں ہے۔کیونکہ یہاں ریاستی او رحکومتی سطح پر جو حکمرانی کا نظام ہے وہ تسلسل کے ساتھ ایک بڑی تجربہ گاہ کے طور پر کام کررہی ہے۔ تسلسل کے ساتھ نظام کو چلانا، اداروں کو مضبوط کرنا، قانون کی حکمرانی کو یقینی بناکر اپنی ترجیحات کا اہم حصہ بنانا او ربار بار حکومتی تبدیلی کے ساتھ نظام کو تبدیل کرنا ہمارا مجموعی فیشن بن گیا ہے۔یہ مزاج اور اطوار ظاہر کرتے ہیں کہ ہم نظام کی حقیقی اصلاح سے زیادہ اپنی مرضی او رمنشا کے مطابق نظام کو چلانا چاہتے ہیں جو خاص طو رپر عوام کے مفادات سے زیادہ ان کے ذاتیات پر مبنی مفادات کو تقویت دے سکے۔مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں جو کمزور سیاسی نظام ہے وہ جب بھی کبھی یہاں بڑی سیاسی، انتظامی، قانونی اور دیگر شعبوں میں اصلاحات کرنا چاہے بھی تو اس کو ان ہی ادارہ جاتی سطح ایک بڑے سیاسی گٹھ جوڑ یا مافیا کا مقابلہ درپیش ہوتا ہے۔جب ہم نے سیاست سمیت تمام اداروں میں سیاسی مداخلتیں کرکے نظام کو مفلوج بنادیا ہے تو پھر اسی نظام سے خیر کے پہلوؤں کو تلاش کرنا محض ایک بڑی خوش فہمی کے کچھ نہیں۔بظاہر یہ ہی لگتا ہے کہ اس نظام میں ریاست اور حکومت کے مقابلے میں مافیازپر مبنی حکمرانی کا غلبہ ہے او ریہ ہی وہ طاقت ور طبقہ ہے جو مافیا کی شکل اختیار کرکے ریاستی وحکومتی نظام سے جڑ کر اسے یرغمال بناچکا ہے۔

جمہوریت، سیاست او رگورننس کا نظام کی کامیابی کی بنیادی کنجی اصلاحات کے عمل سے جڑا ہوتا ہے۔ جمہوریت انقلاب سے زیادہ اپنی توجہ اصلاحات کے نظام میں دیتی ہے تاکہ اصلاحات کی مدد سے وہ نظام میں شفافیت کے عمل کو ایک بڑی سیاسی طاقت فراہم کرسکیں۔لیکن اول تو یہاں اصلاحات کا ایجنڈا ہی عدم ترجیحات کا حصہ ہے اور اگر کہیں ہم اصلاحات کا سہارا لیتے ہیں تو اس کی وجہ بھی ہماری سیاسی کمٹمنٹ سے زیادہ سیاسی مجبوریاں یا عالمی سمیت کچھ طاقتوں کا دباؤ ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں اصلاحات کا عمل ایک نمائشی کھیل بن گیا ہے او رسب سے بڑا سوال یہ ہی ہے کہ پالیسیاں، قانون سازی اور اصلاحات کرنے کے باوجو د شفاف عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔جس جمہوریت او رپارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ کو اصلاحات کا بڑا مرکز ہونا چاہیے وہ بدقسمتی سے محاز آرائی، مار کٹائی یا الزامات کی سیاست سمیت غیر اہم مسائل پر مباحث کا سیاسی میدان بن گیا ہے۔ سانحہ مری پر جو کچھ حکومت اور حزب اختلاف میں ہمیں پارلیمنٹ میں دیکھنے کو ملا وہ یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ ہم کس حد تک نظام کی اصلاح میں سنجیدہ ہیں۔

جمہوری نظام کی ایک بڑی کامیابی شفافیت او رجوابدہی کے نظام سے جڑی ہوتی ہے۔لیکن یہاں ہم احتساب یا جوابدہی کے نظام کے بغیر جمہوری نظام چلانا چاہتے ہیں۔ جمہوریت بھی ان طاقت ور طبقات کے لیے ایک سیاسی کھلونا یا سیاسی ہتھیار بن کر رہ گیا ہے او راس نظام کو دیکھیں تو عملی طور پر عام آدمی اور زیادہ کمزور جبکہ طاقت ور طبقہ اور زیادہ طاقت ور ہوگیا ہے۔عمران خان کی حکومت بھی بنیادی طو رپر نظام میں اصلاحات کے تناظر میں سامنے آئی تھی لیکن وہ بھی اس نظام کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ اس کا اظہار خود وزیر اعظم کی گفتگو میں نظر آتا ہے کہ وہ نظام کی تبدیلی میں کافی مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم واقعی عام لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف یا ان کو واقعی سیاسی او رمعاشی طور مستحکم کرنا چاہتے ہیں یا نظام کو درستگی کے انداز میں چلانا چاہتے ہیں تو اس کا واحد حل صوبائی او رمقامی نظام حکومت کو زیادہ سے زیادہ مضبوط او رمربوط بنانے سے جڑا ہوا ہے۔ مقامی حکومتوں کا مضبوط نظام ہی ہماری حکمرانی کے بحران کو حل کرنے میں ایک کلیدی کردار کے طور پر نمایاں ہوسکتا ہے۔ کیونکہ جب آپ کا مقامی انتظامی ڈھانچہ مضبوط ہوگا اور اس میں سول بیوروکریسی اور عوامی نمائندوں سمیت عام طبقات فیصلہ سازی یا عملدرآمد کے نظام میں حصہ دار ہونگے تو ان میں ملکیت کا احساس بڑھے گا۔

اس وقت  ریاست، حکومت اور عوام کے درمیان حکمرانی کے نظام میں عدم اعتماد کا ماحول ہے اور یہ ماحول ایک دوسرے کے بارے میں ایک بڑی سیاسی خلیج پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔اس خلیج کو کم کرنا اور لوگوں میں سیاست، جمہوریت اور حکمرانی کے نظام کے بارے میں اعتماد سازی کو پیدا کرنا یا اس کا ماحول بنانا عملی بنیادوں پرہماری ریاستی و حکومتی ترجیحات کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔