ایمرجنسی کی افواہوں پر اپوزیشن کی تشویش
- جمعرات 20 / جنوری / 2022
- 3630
ملک کی بڑی اپوزیشن جماعتوں کو ملک میں کسی قسم کی ایمرجنسی کے نفاذ کی افواہوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اور کہا ہے کہ ایسی افواہوں اور صدارتی طرز حکومت کے حق میں گفتگو ایک ’منظم اور منصوبہ بندی سے کی گئی مہم‘ کا نتیجہ ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کو شبہ ہے کہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف حقیقی مسائل سے جان چھڑانے اور ہر محاذ پر ناکامی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کی مہم کے پیچھے ہے۔ تاہم وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ انہوں نے ایمرجنسی یا صدارتی طرز حکومت کے بارے میں قیاس آرائیوں کو کچھ یوٹیوبرز اور وی لاگرز کی بدولت ملک میں رائج 'جعلی خبروں کے کلچر' کا حصہ قرار دیا۔
مشترکہ اپوزیشن کے اراکین نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں ایک قرارداد جمع کرادی ہے جس میں 1973 کے آئین کے مطابق ملک میں وفاقی پارلیمانی نظام کو برقرار رکھنے اور اسے مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے ٹوئٹر پر قرارداد کی تصویر پوسٹ کی جس پر اسمبلی میں موجود تقریباً تمام اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین کے دستخط تھے۔ کیپشن میں لکھا ہے کہ 'دیکھتے ہیں کہ یہ جمعہ کو اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل ہوتی ہے یا نہیں'۔
احسن اقبال نے ٹوئٹ میں لکھا کہ 'دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے مسلط کی گئی حکومت نے ملک کو برباد کر دیا ہے تو اندرا گاندھی جیسی ایمرجنسی لگانے اور مختلف فارمولوں کے ذریعے نظام میں تبدیلی کی سرگوشیاں سنائی دے رہی ہیں'۔
اندرا گاندھی کے دور میں ایمرجنسی کو جمہوری بھارت کی تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس عرصے کے دوران وہاں شہری آزادیوں پر کریک ڈاؤن کیاگیا تھا اور اختلافی آوازوں کو دبایا گیا۔ یہ ایمرجنسی بھی اندرا گاندھی نے اس وقت لگائی تھی جب ایک عدالت نے انہیں انتخابات میں دھاندلی کے الزام میں مجرم قرار دیا تھا۔
دوسری جانب صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران پی پی پی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت خود اپوزیشن کے اعلان کردہ لانگ مارچ سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے اس مہم کے پیچھے ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ہر شعبے میں بری کارکردگی سے اس ملک کے عوام تکلیف میں ہیں۔
اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
اس سلسلے میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ روایت بن گئی ہے کہ یوٹیوب پر دو تین لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں اور وہاں سے یہ واٹس ایپ کے ذریعے وائرل ہوتی ہے اور پھر اخبارات اور ٹی وی چینلز بھی اس کی رپورٹنگ شروع کردیتے ہیں۔
انہوں نے اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم کا حکومتی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ اصل میں جعلی خبروں کا چکر ہے۔ پاکستان میں یوٹیوب اور واٹس ایپ کے ذریعے جعلی خبریں ایک کلچر بن چکی ہیں اور کوئی بھی حکومت کو اس کلچر کو ختم کرنے کے لیے قانون سازی کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔