رویت ہلال کے نظام کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی قائم

  • جمعہ 21 / جنوری / 2022
  • 4540

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے نیا طریقہ کار تشکیل دیتے ہوئے رویت ہلال کمیٹی کے نظام کی بے ضابطگیوں کو ختم کرنے کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کمیٹی میں جامعہ منہاج الحسین کے پرنسپل علامہ محمد حسین، جمیعت الرشید کے مفتی فضل جمیل رضوی، اور مفتی فیصل احمد شامل ہیں۔ جبکہ خلائی و بالائے تحقیقاتی ماموریہ (سپارکو) کے سینئر عہدیدار بھی اس کمیٹی کے رکن ہیں۔ یہ کمیٹی علمائے کرام اور اسلامی نظریاتی کونسل، محکمہ موسمیات پاکستان اور سپارکو جیسے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ایک ماہ میں حتمی فریم ورک تشکیل دے گی۔

ایس او پیز کی تیاری کے حوالے سے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو ہوا۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور امین الحق قادری نے کہا کہ رویت ہلال کے طریقے کار کے حوالے سے تیار کردہ بل 'پاکستان رویت ہلال ایکٹ 2021' قومی اسمبلی میں جمع کروایا دیا گیا ہے۔ امید ہے کہ یہ قانون مارچ کے اختتام تک منظور کرلیا جائے گا۔

اپریل کے پہلے ہفتے سے رمضان المبارک آغاز متوقع ہے۔ وزارتِ مذہبی امور کے سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں رویت ہلال متنازع مسئلہ بن چکا ہے۔ رویتِ ہلال کمیٹی بل کے ڈرافٹ میں یہ بات لازمی قرار دی گئی ہے کہ صوبائی و ضلعی سطح پر کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، جس کی مدد سے شہادتیں موصول ہونے پر مقامی سطح پر عہدیداران سے رابطہ کیا جاسکے گا۔

مجوزہ قانون کے تحت چاند دیکھنے والی غیر سرکاری اور نجی کمیٹیاں غیرقانونی ہوں گی اور متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ ان کے خلاف کارروائی کی اہل ہوگی۔ چاند دکھنے کے جھوٹے شواہد فراہم کرنے پر 3 سال قید یا 50 ہزار جرمانے یا پھر دونوں سزائیں دی جائیں گی۔