ڈاکٹر معید یوسف سے مکالمہ
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 21 / جنوری / 2022
- 4360
ڈاکٹر معید یوسف بین الااقوامی تعلقات عامہ، پاک امریکہ تعلقات اور سیکورٹی امو رپر دسترس رکھتے ہیں۔ اس وقت وہ پاکستان میں ”قومی سلامتی کے مشیر“ کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
وہ مختلف بین الااقوامی تھنک ٹینک کے رکن بھی رہے ہیں اور سیکورٹی سے جڑے معاملات پر ان کی سمجھ بوجھ بھی قابل قدر ہے۔اس سے قبل وہ سیکورٹی امو رپر وزیر اعظم کے معاون خصوصی بھی رہے ہیں۔ وہ واشنگٹن میں امریکی ادارہ برائے امن میں ایشائی امور پرایسوسی ایٹ وائس سربراہ تھے۔و ہ بین الااقوامی سطح پر مختلف جامعات میں بھی پڑھانے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں او رکئی اہم کتابو ں کی مصنف بھی ہیں۔ حال ہی میں قومی سلامتی پالیسی کی ایک اہم دستاویز سامنے آئی ہے اس میں ڈاکٹر معید یوسف کا کردار کافی نمایاں ہے۔وہ اس وقت وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ قومی سلامتی پالیسی کی نہ صرف قیادت کررہے ہیں بلکہ ہر فورم پر اس پالیسی سے جڑے معاملات یا سوالات پر مکالمہ کا حصہ ہیں۔ حکومت پاکستان نے قومی سلامتی پالیسی کا ایک حصہ عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔اس پالیسی پرمجموعی طور پر مختلف فریقین اپنی اپنی سوچ اور فکر کو بنیاد بنا کر اس پر تبصرہ یا تجزیہ یا اس کی خوبی او رخامیوں کی نشاندہی کررہے ہیں۔
مجھ سمیت کچھ دوستوں کو قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف سے اسی قومی سلامتی پالیسی پر ایک مکالمہ کا موقع ملا۔ڈاکٹر معید یوسف کے بقول کسی بھی پالیسی کو حتمی پالیسی نہیں کہا جاسکتا او رنہ ہی کوئی پالیسی جامد ہوتی ہے۔ یہ پالیسیاں وقت، حالات، تجربات اور رونما ہونے والے واقعات کی بنیاد پر تبدیل ہوتی ہیں اور آگے بھی تبدیل ہوتی رہیں گی۔لیکن ان کے بقول یہ تاثر درست نہیں کہ اول یہ پالیسی کسی ایک خاص فریق یعنی اسٹیبلیشمنٹ کی ہے اور اس دیگر فریقین سے کوئی براہ راست تعلق نہیں۔حالانکہ یہ پالیسی ریاست پاکستان کی ہے اور اس میں جو بھی مسائل کا ادراک کیا گیا ہے یا اس میں جن نکات کو ترجیحی بنیادوں پر فوقیت دی گئی ہے وہ وہی مسائل ہیں جو ہمیں داخلی او رخارجی محاذ پر بطور ریاست درپیش ہیں۔دوئم یہ پالیسی پہلی بار خود کو محض سیکورٹی مسائل تک محدود نہیں رکھتی بلکہ اس پالیسی کا احاطہ قومی مسائل کو مدنظر رکھ کر ایک بڑے فریم ورک میں کیا گیا ہے۔اس پالیسی میں کوشش کی گئی ہے کہ ہماری سلامتی پر اثر انداز ہونے والے تمام روائتی اور غیر روائتی مسائل کا وسیع تناظر میں غور بھی کیا گیا ہے اور اس سے نمٹنے کی حکمت عملی کو بھی بنیاد بنایا گیا ہے۔
یہ تاثر جو دیا جارہا ہے کہ اس پالیسی کی تشکیل میں پارلیمنٹ سمیت تمام فورمز کو نظرانداز کیا گیا ہے اس پر ڈاکٹر معید یوسف کے بقول یہ تاثر سیاست کے سوا کچھ نہیں۔ کیونکہ اس کی حتمی منظوری حکومت نے دی ہے جو اس کا صوابدیدی حق ہے۔لیکن اس کی منظوری سے قبل قومی سلامتی کمیٹی جس میں سول او رملٹری قیادت موجود ہے اس پر سیر حاصل گفتگو اور بہت زیاد ہ مباحث کے بعد حتمی شکل دی گئی۔ اسی طرح فوجی اور حکومتی قیادت نے وقتاً فوقتاً تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا۔اسلام آباد میں منعقد کیے جانے والی سیکورٹی ڈائیلاگ کانفرنس بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔قومی اسمبلی اور سینٹ کی دفاعی کمیٹی کو بھی اس پر اعتماد میں لیا گیا۔البتہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ہونے والی پارلیمانی کمیٹی میں حزب اختلاف کے کچھ لوگوں کی عدم شرکت ہوئی تھی،لیکن اب بھی حکومت ہر سطح پر پارلیمانی سطح پر موجود تمام فورمز کو اعتماد میں لینے کے لیے تیار ہے۔
اس سوال پر کیا وجہ ہے کہ اس پالیسی کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جارہا تو اس پر ان کے بقول دنیا میں اس طرز کی سیکورٹی پالیسی پارلیمنٹ کی کمیٹیوں میں ہی پیش کی جاتی ہے او ریہ ہی طریقہ کار یہاں اختیار کیا گیا ہے۔ ان کمیٹیوں میں جہاں حکومت ہے وہیں حزب اختلاف کے لوگ بھی موجود ہیں۔البتہ کوشش کی جارہی ہے کہ اس طرح کے حساس معاملات پر حزب اختلاف کو تواتر سے اعتماد میں لینے کے لیے تمام جماعتوں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کی مستقل بنیادوں پر تشکیل کو یقینی بنایا جائے۔ ان کے بقول اس پالیسی کا مستقبل موجود رہے گا او رجو بھی نئی حکومت آئے گی وہ اس میں کچھ ردوبدل کرسکتی ہے۔لیکن اس کو حتمی طور پر اول تو ختم نہیں کیا جائے گا اور اگر کیا گیا تو جونئی پالیسی بنے گی وہ بھی اسی پالیسی سے مختلف نہیں ہوگی۔اس لیے مسئلہ اس پالیسی کو متنازعہ بنانے سے حل نہیں ہوگا بلکہ کوشش کرنی ہوگی کہ اس پالیسی پر مکالمہ کو آگے بڑھایا جائے۔ یہ پالیسی فوری طور پر کوئی بڑے نتائج نہیں دے سکے گی یہ ایک مستقل پالیسی ہے او راس کے نتائج بھی آگے جاکر نکلیں گے۔ کیونکہ ہم نے نتائج کے حصول کے لیے مختلف ٹارگٹ یا اشاریے ترتیب دیے ہیں او ران کی مدد سے ہی وہ تمام اہداف کا حصول کو یقینی بنایا جائے گا۔
ایک سوال پر کہ ہم جیو اسٹرٹیجک سے جیو معیشت کی طرف بڑھ رہے ہیں جس میں بھارت سمیت علاقائی ممالک سے بہتر تعلقات کی بات کی گئی ہے یہ کیسے ممکن ہوگا۔ اس پر ڈاکٹر معید یوسف کے بقول ہم نے ایک جامع فریم ورک میں یہ بات رکھی ہے کہ ہمیں ماضی سے باہر نکل کر مستقبل کی طرف پیش قدمی کرنی ہے۔ لیکن اس وقت سب سے بڑا چیلنج بھارت کی موجودہ قیادت ہے جو بات چیت یا ڈائیلاگ کے لیے یا بہتر تعلقات کے لیے آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں۔ پاکستان او ربھارت میں جو بھی ڈیڈ لاک ہے وہ اس وقت بھارت کا ہی پیدا کردہ ہے۔کشمیر اس قومی سلامتی پالیسی کا اہم نقطہ ہے ا ور اس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔بھارت سے جو بھی پیش رفت ہوگی اسی قومی سلامتی پالیسی کے فریم ورک میں ہی ہوگی۔اس پالیسی میں باہمی تجارت، ملکوں سے بہتر تعلقات، عوام کا تحفظ، سلامتی، وقار، خوشحالی اور گورننس کو بہتر بنانے، تعلیم کو قومی سلامتی پالیسی سے جوڑنے کو فوقیت دی گئی ہے۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس پالیسی میں کچھ نیا نہیں اس پر ڈاکٹر معید یوسف کا نقطہ نظر تھا کہ جو کچھ اس پالیسی کی دستاویز میں شامل ہے ماضی کی کسی پالیسی میں نہیں تھا۔ پہلی بار بہت سے داخلی نوعیت سے مسائل کو اس پالیسی سے جوڑ کر آگے چلنے کی بات کی گئی ہے کیونکہ ہمیں انداز ہ ہے کہ جب تک داخلی مسائل کا خاتمہ نہیں ہوگا او رہم معاشی، سیاسی اور ادارہ جاتی سطح پر کمزور ہوں گے، تو اپنے دفاع کو کیسے مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔اسی طرح پاک امریکہ تعلقات او رپاک چین تعلقات میں ڈاکٹر معید یوسف کے بقول ہم دونوں ممالک سے توازن کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں او رکسی ایک سے تعلقات کی بنیاد کسی دوسرے سے خرابی یا بگاڑ کی بنیاد پر نہیں ہوں گے۔
بنیادی بات یہ ہے کہ جو کچھ ڈاکٹر معید یوسف کہہ رہے ہیں یا جو کچھ اس قومی سلامتی پالیسی کے دستاویز میں شامل ہے اہم بات ان تمام امور سے نمٹنے کی حکمت عملی ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے یقینی طور پر ہمیں ایک بڑے فریم ورک یا روز میپ سمیت ایک جامع او رمربوط سیاسی، سماجی، انتظامی، قانونی اور سیکورٹی حکمت عملی سمیت عملدرآمد کا مربوط نظام درکار ہے۔یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے جب ہم اپنے داخلی مسائل کا بہتر ادراک او راس کے حل کی طرف بڑھ سکیں۔ یہ عمل ایک بڑی جامع اصلاحات چاہتا ہے اور بدقسمتی سے ہمارا روائتی نظام اصلاحات کے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ہم کڑوی اور سخت اصلاحات کے مقابلے میں مصنوعی انداز میں نظام کا پیچ ورک کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو ہمیں کسی بھی شکل میں مطلوبہ نتائج نہیں دے سکیں گے۔
اس لیے پالیسی اہم لیکن اس سے بڑا کام ٹھوس بنیادوں پر اپنے داخلی مسائل کا پوسٹ مارٹم کرنا اور اس سے نمٹنا ہوگا۔ لیکن یہ کام محض حکومت تن تنہا نہیں کرسکتی۔اس کے لیے ریاست، حکومت سمیت تمام اداروں بشمول اہم معاشرے کے فریقین کو شامل کیے بغیر قومی سلامتی کی یہ جنگ کو جیتنا آسان نہیں ہوگا۔ہمیں شارٹ ٹرم، مڈٹرم اور لانگ ٹرم بنیادوں پر منصوبہ بندی کرکے تمام فریقین کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ اس لیے اس جنگ میں ہمیں سیاسی سطح پر سفارتی اور ڈپلومیسی کی جنگ میں بھی لیڈ کرنا ہوگا۔بالخصوص ہمیں سیکورٹی اور قومی سلامتی کے معاملات میں ایک دوسرے پر سیاسی اسکورنگ یا سیاسی مقابلہ بازی کو ختم کرکے مشترکہ جدوجہد کو آگے بڑھانا ہوگا۔