عسکریت اور ملائیت کی قبضہ گیری؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 21 / جنوری / 2022
- 5090
ہماری قومی تاریخ میں جوڈیشری کا رول بالعموم متنازع رہا ہے جس پر تنقید کے ایک سو ایک حوالہ جات موجود ہیں۔ دانشورانہ نقطہ نظر سے ہی نہیں، عوامی سطًح پر بھی یہ تاثر نمایاں تر رہا ہے کہ ہماری جوڈیشری نہ صرف یہ کہ طاقتوروں کے زیر اثر رہی ہے بلکہ اس میں مفاداتی چمک یا جھلک سے بھی سرموانکار نہیں کیا جا سکتا۔
اگر اس کی تفصیلات یا حوالہ جات میں جائیں گے تو یہ کالم ناقابل اشاعت قرار پائے گا سو اس پہلو کو تشنہ چھوڑتے ہوئے ہم بڑی سرکار کی بتائی ہوئی مثبت رپورٹنگ کے تحت اس کے حالیہ چند قابل قدر فیصلوں پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ اور سوسائٹی پر ان کے انطباق کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہماری اعلیٰ و سپریم جوڈیشری نے حالیہ دنوں قبضہ گروپوں یا ناجائز تجاوزات کے خلاف جو چند قابل قدر فیصلے کئے ہیں ان کی بدولت یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ آئندہ کیلئے قبضہ گروپ کمزور پڑ جائیں گے یا ناجائز تجاوزات رک جائیں گی البتہ ان سے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ضرور ہو گی۔ بچوں کے پارک کی جگہ پر مسجد کی تعمیر سے متعلقہ فیصلے کا جائزہ لینے سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کی تحسین کی جانی چاہئے جس میں طاقتوروں کے ہزاروں ایکڑ زمین پر دعوے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا گیا ہے۔ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ راول ڈیم کنارے بنائے گئے بحریہ کے کشتی رانی کلب کو گرا دیا جائے۔ اسی طرح مونال ریسٹورنٹ اور مارگلہ گرینز گالف کلب کی غیر قانونی تعمیرات کو مسمارکرتے ہوئے نیشنل پارک کی زمین کو بحال کر دیا جائے۔
آج اگر کوئی محکمہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کی طاقتور حیثیت انگریز دور کے تسلسل سے جوں کی توں ہے تو اسے یہ ضرور ملاحظہ فرما لینا چاہئے کہ بیچ میں آزادی نام کا کوئی ‘سانحہ’ بھی پیش آیا تھا۔ آج ملک کو انہی استعماری سوچ اور ضابطوں کی مطابقت میں چلانے پر اسرار درست نہیں ہے۔ اب پاکستان بہرحال آئینی اور قانونی طور پر ایک جمہوری مملکت ہونے کی دعویدار ہے جس کے مالکان کوئی ادارہ یا محکمہ نہیں اس ملک میں بسنے والے بائیس کروڑ عوام ہیں۔ جو اپنی منشا کا اظہار منتخب پارلیمینٹ کے ذریعے کرتے ہیں جو آئین کی ماں اور قانون کا منبع ہے۔
اس آئینی ریاست میں سپریم جوڈیشری کا رول آئین و قانون کی چوکیدار ی کا ہے جو بھی قانون یا قانونی شقوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا، عدالتیں اس کے خلاف ایکشن لینے کی پابند ہوں گی۔ 1947 میں آزادی کے ساتھ ہی مختلف النوع قبضہ گروپوں نے سب سے پہلے ہندوؤں اور سکھوں کی چھوڑی ہوئی جائیدادوں پر جس بے رحمی اور شتابی سے قبضے جمائے اور مابعد کلیمز اور الاٹمنٹوں کے ذریعے جس کرپشن اور لوٹ مار کا آغاز کیا۔ اس کی کوئی حدود نہ تھیں جو جتنا طاقتور تھا اس نے اتنا ہی حصہ بقدر جثہ حاصل کرنے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ ان لوگوں کی قبضہ گیری دیکھتے ہوئے یوں محسوس ہوا کہ گویا انہوں نے پارٹیشن کروائی ہی اسی چھینا جھپٹی کیلئے تھی۔ عسکریت تو رہی ایک طرف پبلک پراپرٹی کو نوچنے میں مذہبیت کے نام لیواؤں نے بھی کسی اصول ضابطے کو جوتی کی نوک پر رکھا۔
درویش نے طویل برسوں تک مختلف اضلاع میں ناجائز تجاوزات کے خلاف کام کیا ہے اور سچائی یہ ہے کہ پبلک لینڈ کو ہڑپ کرنے کا سب سے مجرب اور کامیاب نسخہ یہ ہے کہ کسی ایک سرے پر مسجد، مزار یا دینی مدرسہ تعمیر کر دو طاقتور ہیں تو چاہے دن کی روشنی میں، ذرا کم طاقتور ہیں تو رات گئے، پھر ڈرپوک انتظامیہ کی ہمت نہیں ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے تقدس کو انگلی لگا سکے۔ حتیٰ کہ ایک ناجائز بورڈ لگا ہے جس پر چند مقدس الفاظ تحریر ہیں۔ اگر ہمت و حوصلے کے کسی دعویدار نے اس کو اکھیڑا یا چھیڑا تو وہ توہین مذہب کے الزامات کی زد میں آ سکتا ہے۔ لوگ بالعموم اس نوع کے تناؤ میں پڑنے یا الجھنے سے گریز کرتے ہیں اس طرح قبضہ گیر طاقت پکڑتے جاتے ہیں۔
اگر کسی کو ان حوالوں سے شبہات ہیں تو وہ قیام پاکستان کے وقت موجود مدارس، مساجد اور مزارات کی تفصیلات اکٹھی کرے اور بڑھتی ہوئی آبادی کی مطابقت میں آج جو ریشو بن رہی ہے اس سے ان تفصیلات کا تقابل کرلے۔ واضح ہوجائے گا کہ آبادی جتنی بھی زیادہ بڑھی ہے دیگر مقدسات اس سے کہیں زیادہ آگے رہے ہیں۔ اس کے بعد دوسری فہرست بنائیں کہ ان مقدسات میں کتنے ہیں جو قانونی طور پرزمینیں خریدتے ہوئے تعمیر ہوئے ہیں اور کتنے ہیں جو قبضہ گیری کی اپروچ کے تحت تعمیر ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے شہروں میں ہزاروں اور چھوٹے شہروں یا قصبات میں سینکڑوں اور بیسیوں مقامات قبضہ گیری کی زد میں آتے دکھائی دیں گے۔ اس کے بعد جب آپ یہ سوچیں گے کہ ان ناجائز تجاوزات کو ختم کرنے کیلئے آپ نے قانون کی مدد لینی ہے تو مایوسیوں کے سائے مزید بڑھتے دکھائی دیں گے۔ اگر قانون میں جان ہے تو اسی شہر لاہور کے ایک سرے سے شروع ہو جائیں، سروے کروا لیں۔ ایسے ایسے طاقتور اور مقدس نام سامنے آئیں گے کہ آپ خاموشی میں ہی عافیت خیال کریں گے۔
یہ تو صرف مذہبیت والوں کی بات ہے جو بہت ہی شریف کہلاتے ہیں۔ رہ گئے عسکریت والے ان کا تو نام ہی کافی ہے۔ ظاہری طور پر آپ بات کسی سے بھی کریں کوئی یہ نہیں کہے گا کہ قبضہ گیری کوئی اچھی چیز ہے ہر کوئی فتویٰ یہی دے گا کہ چھینی گئی یا ناجائز طور پر حاصل کردہ زمین پر مسجد یا مزار کی تعمیر ناجائز ہے۔ لیکن ساتھ ہی ارشاد یہ ہو گا کہ اگر کسی جگہ ایک مرتبہ مسجد بن گئی تو پھر وہ مسجد ہی رہے گی اگر باامر مجبوری اسے مسمار کرنا پڑے تو کسی اور جگہ اتنی ہی زمین پر مسجد تعمیر کرنا لازم ہو گی۔ بچوں کے تفریحی پارک کی بات آئے گی تو کہا جائے گا کہ نعوذ باللہ آپ یہ پاک جگہ کیا خرافات اور لہو ولعب کیلئے مختص کرنا چاہتے ہیں ؟
نسلہ ٹاور پر آپ نے جیسی چاہی من مانی کر لی حالانکہ جن غریب لوگوں نے اپنی جمع پونجی جھونک کر وہ گھر خریدے تھے، انہیں یوں بے گھر کرنا انسانی حقوق کے کسی ضابطے کی روشنی میں بھی درست نہ تھا۔ مگر اب آپ نے صریح بے انصافی کے خلاف مسجد کے حوالے سے جو فیصلہ صادر فرمایا ہے، اسی جوش جذبےاور شتابی کے ساتھ ذرا اس پر عملدرآمد کروا کے دیکھیں۔ جاندار ریاستی قانون مقدس ’’کتاب حیلہ‘‘ کے سامنے سرنگوں ہو جائے گا۔ ابھی سے ’’حضرت مولانا ‘‘ نے سندھ حکومت کو کھری کھری سنانا شروع بھی کر دی ہیں۔ ثابت ہو جائے گا کہ مملکت پاکستان میں دو طرح کے قوانین ہیں ایک کمزوروں کیلئے دوسرا طاقتوروں کیلئے۔
اس حوالے سے بھی کسی کو شک ہے تو وہ بابا رحمتا کہلوانے والے درباری کے فیصلوں پر ایک نظر ڈال لے۔ جہاں چاہتا تھا قانون کی بندوق لئے کھڑے ہو جاتا تھا، جہاں چاہتا تھا منڈا منڈا ڈالتے ہوئے لم لیٹ ہو جاتا تھا۔ اندھے کی ریوڑیاں تو سب نے سنی ہیں مگر اس نے ستم ظریفی و چاپلوسی میں صادق و امین کے جو تغمات بانٹے امید ہے صاحبان بصیرت ججز ان بے انصافیوں کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے انہیں کالعدم قرار دیں گے کون اہل ہے اور کون تاحیات نااہل ہے ؟ اس کا فیصلہ چند افراد کو نہیں بائیس کروڑ عوام کوکرنے دیں۔