صدارتی نظام کی خبریں قیاس آرائیاں ہیں: شاہ محمود قریشی
- ہفتہ 22 / جنوری / 2022
- 3840
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے صدارتی نظام کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں قیاس آرائیاں قرار دیا۔
ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ صدارتی نظام کے نفاذ کی خبریں قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں یہ پتنگ اڑتی رہتی ہے پتنگ نہ اڑائیں تو کام کیسے چلے گا۔ انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ( آئی ایم ایف) سے قرض لینے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمیں آئی ایم ایف کی شرائط اس لیے ماننی پڑیں کیونکہ معیشت میں سکت نہیں تھی کہ گزشتہ حکومت کا چھوڑا گیا 20 ارب روپے کا خسارہ پورا کیا جاسکے۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے چین، سعودی عرب سمیت اپنے دوست ممالک سے مدد لی، لیکن اس کے باوجود ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ ہمیں لوگوں کی مشکلات اور بڑھتی مہنگائی کا پورا احساس ہے ہم اس سے غافل نہیں ہیں لیکن گزشتہ دو سالوں میں ایسے اقدامات لیے گئے جس سے معاشی استحکام کی کوشش کی گئی، اللہ کے کرم سے معاشی استحکام پیدا ہوا ہے، اور اب معیشت بحالی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ عالمی بینک کے جاری کردہ سروے کے مطابق پاکستان کی معاشی ترقی آج 5.37 فیصد پر ہے۔ کورونا وائرس کے دوران ہماری جی ڈی پی کی شرح بڑھتی جارہی تھی اور ابھی بھی ہمارے فیسکل ریسپونسیبلیٹی ایکٹ سے زیادہ ہے لیکن فی الحال اس میں 83 فیصد سے کمی آئی ہے اور ہماری کوشش ہوگی کہ آئندہ چند سالوں میں ہم اسے فیسکل ایکٹ کے مطابق ڈھال لیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسلم لیگ کے دور میں ہماری فی کس آمدنی 547 ڈالر فی کس تھی جو آج بڑھ کر ایک ہزار 666 ڈالر فی کس ہوگئی ہے۔ میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ بے شک حالات مشکل ہیں لیکن ہمارا یہ سال معاشی بحالی جبکہ اگلا سال معاشی ترقی کا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک دہشتگردی کا سوال ہے تو پاکستان نے ہمت سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا۔ ہماری مسلح افواج نے، پولیس نے اور ہمارے شہریوں نے ایک نیشنل پلان پر اتفاق رائے پیدا کیا اور اس میں ہمیں بہت کامیابی ہوئی۔ حال ہی میں دہشت گردی کے ایک دو واقعات سامنے آئے ہیں لیکن اس کے سامنے ہم نے ہتھیار ڈالے ہیں نہ ڈالیں گے، اور وہ لوگ جو پاکستان میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں ان کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائیں گے۔