افغان طالبان کا وفد مذاکرات کے لئے اوسلو پہنچ گیا
- اتوار 23 / جنوری / 2022
- 3020
گزشتہ شب افغانستان میں طالبان حکومت کا یاک پندرہ رکنی وفد ناروے کے دارالحکومت اوسلو پہنچا ہے۔ وفد کی قیادت وزیر خارجہ عامر خان متقی کررہے ہیں اور اس میں وزیر انصاف عبدالحکیم شرائے کے علاوہ وزارت داخلہ کے معاون خصوصی انس حقانی بھی شامل ہیں۔
طالبان کا وفد تین روز تک اوسلو میں قیام کرے گا اور اس دوران ناروے کے علاوہ امریکہ، یورپئین یونین اور دیگر ملکوں کے نمائیندوں سے افغانستان میں امداد کی ضرورت اور انسانی حقوق کی صورت حال پر بات چیت ہوگی۔ نارویجئن حکومت نے افغانستان اور دنیا کے دیگر ملکوں میں مقیم افغان نمائیندوں کو بھی ان مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ انسانی حقوق اور امدادی کاموں میں حصہ لینے والی تنظیموں کے نمائیندے بھی بات چیت میں حصہ لیں گے۔ یہ پہلا موقع ہوگا کہ طالبان کی اعلیٰ قیادت موجودہ انتظام کے ناقدین سے براہ راست ملاقات کرے گی۔
طالبان کے وفد کو ناروے لانے کے لئے حکومت ناروے نے خصوصی طیارہ کابل بھیجا تھا۔ حکومت کے اس اقدام پر تنقید بھی سامنے آئی ہے تاہم وزیر خارجہ آنیکن ہیوت فیلٹ نے کہا کہ طالبان اس وقت افغانستان میں حکمران ہیں۔ وہاں پر عوام کو سہولتوں کی کمی کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامناہے۔ ناروے اس بحران میں مدد کی کوششوں کو مربوط کرنے میں معاونت کررہا ہے۔
ناروے کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ طالبان کے دورہ اوسلو کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ ناروے یا دیگر ممالک طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ ملاقات خالص انسانی بنیادوں پر امداد اور انسانی حقوق کی صورت حال بہتر بنانے کے لئے ہورہی ہے۔
پاکستانی حکومت طالبان کی حکومت کے ساتھ رابطوں اور افغانستان کے لئے مدد کی فراہمی یقینی بنانے کی اپیل کرتی رہی ہے۔ تاہم اوسلو کانفرنس میں پاکستان کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔