نظام کو آزادانہ چلنے دیں

آزادی کے 75برسوں بعد بھی مملکت خداداد پاکستان میں نظام کی تبدیلی کا سوال زیر بحث ہے اور اصرار بھی اس نظام کو تبدیل کرنے کا ہے جو ہمارے سوا دنیا کے75ممالک میں کامیابی سے چل رہا ہے۔75 برس کوئی تھوڑا عرصہ نہیں، 75برسوں میں ممالک اور قومیں کہیں سے کہیں پہنچ جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں پوری پون صدی میں تجربات ہی تجربات ہوتے رہے۔

زیادہ دور نہیں تو اپنے دو قریبی ہمسایوں بھارت اور چین کی ترقی کو دیکھ لیں۔بھارت ہمارے ساتھ آزاد ہوا، شروع دن سے پارلیمانی جمہوری نظام کو اختیار کیااور آج تک اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے ترقی پذیر ملک سے ترقی یافتہ ملک کی طرف پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہے جب کہ اس کے مقابلے میں ہمارے شروع دن سے پارلیمانی جمہوری نظام کو بادل نخواستہ قبول کیا گیا اور آج تک اس میں "کیڑے"نکالے جا رہے ہیں۔ملک کے پیچھے رہ جانے کا الزام پارلیمانی جمہوری نظام کو تو اس صورت میں دیا جائے جب یہاں اس نظام پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کیا گیا ہو یا اسے دو چار دہائیاں بنا کسی چھیڑ چھاڑ کے آزادانہ چلنے دیا گیا ہو۔جس ملک کی کل تاریخ کے قریبا آدھے نصف میں براہ راست آمریتیں رائج رہی ہوں اور بقیہ ماندہ نصف کے آدھے عرصے میں نظام کو"ففٹی ایٹ ٹو بی" جیسی نیم آمرانہ تلوار سے کئی بار نیم بسمل کیا جاتا رہا ہو وہاں بیچارہ پارلیمانی جمہوری نظام کیا ڈلیور کر سکتا تھا۔کہنے کو تو ہم نے شروع دن سے پارلیمانی جمہوری نظام اپنا لیا تھا لیکن عملی طور پر صورت حال یہ ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک پالیمانی نظام کا دوارنیہ بڑی مشکل سے 20 سال بنتا ہے جب کہ چار آمریتوں میں اختیار کیے گئے صدارتی نظاموں کے علاوہ بقیہ ماندہ عرصے کے قریبا نصف میں نیم صدارتی نظام رائج رہا۔47سے 56تک کے ابتدائی نو برسوں کواس وجہ سے پارلیمانی جمہوری نظام قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس عرصے میں ایک تو ملک کا اپنا آئین نہیں تھا اور دوسرا یہ کہ اس عرصے میں یکے بعد دیگرے آنے والے دو گورنر جنرلوں (ملک غلام محمد اور اسکندر مرزا)نے پارلیمانی نظام کو جوتے کی نوک پر رکھے رکھا۔پاکستان اور بھارت میں پارلیمانی جمہوری نظام پر عمل درآمد میں تسلسل اور مضبوطی میں فرق کا یہ عالم تھا کہ ہمارے ہاں ابتدائی11برسوں میں سات وزرائے اعظم تبدیل ہوئے جب کہ بھارت میں ابتدائی 16سالوں تک ایک ہی سیاسی رہنما(جواہر لال نہرو) تین بار وزیراعظم منتخب ہوا۔

ابتدائی عشرے کی اکھاڑ پچھاڑ کے بعد ہی ملک کوآئین اور نظام کے تحت چلنے دے دیا جاتا تو ہمارے ہاں اب تک نہ صرف جمہوریت مستحکم ہو چکی ہوتی بل کہ سیاسی جماعتوں کے اندرونی ڈھانچے میں جمہوری قدروں کے فقدان اور سیاسی موروثیت کا مسئلہ بھی کافی حد تک حل ہو چکا ہوتا لیکن بدقسمتی یہ ہوئی کہ دستور ساز اسمبلی کی نو سال کی محنت سے بنایا گیا پہلا ملکی آئین میجر جنرل اسکندر مرزا نے دو سال بھی نہ چلنے دیا۔ کہنے کو 56کے آئین کے تحت ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام رائج کیا گیا لیکن عملی طور پر یہ دو سال صدارتی نظام کے ہی تھے۔ اس کے علاوہ 56کے آئین کے تحت پاکستان میں رائج ہونے والے وفاقی پارلیمانی نظام کا ایک دوسرا سقم پارلیمان کے دوسرے ایوان (ایوان بالا) کی عدم موجودگی تھا۔ایوان بالا کی موجودگی وفاقی پارلیمانی نظام کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے لیکن پاکستان میں قائم ہونے والے پہلے وفاقی پارلیمانی نظام میں مقننہ کا صرف ایک ہی ایوان تھا۔ویسے تو گورنر جنرل ملک غلام محمد نے بھی پارلیمانی نظام کی دھجیاں بکھیرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لیکن اسکندر مرزا کوتو پارلیمانی نظام کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کو آمریت کی دلدل کی طرف دھکیلنے جیسے گھناؤنے جرم کا مرتکب بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔اسکندر مرزا1955میں گورنر جنرل بنے تو انہوں نے سب سے پہلے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ کو فارغ کیا اور ایک سال کے عرصے کے دوران ان کی جگہ لائے گئے وزیراعظم چودھری محمد علی کو بھی مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔56میں پہلے آئین کے نفاذ کے بعد گورنر جنرل کا عہدہ ختم ہوگیا لیکن اسکندر مرزا سے جان پھر بھی نہ چھوٹی۔موصوف نے گورنر جنرل کا عہدہ چھوڑ کر ملک کے پہلے صدر کا حلف اٹھا لیا اور پارلیمانی نظام میں طاقت ور ترین صدر رہتے ہوئے دو سال کے مختصر عرصے میں یکے بعد دیگرے تین وزرائے اعظم (حسین شہیدسہروردی، آئی آئی چندریگراورفیروز خان نون)کو چلتا کیا۔اسکندر مرزا نے گورنر جنرل کے ایک سالہ دور میں دو وزرائے اعظم جب کہ صدارت کے دو سالہ دور میں تین وزرائے اعظم کو گھر بھیجنے جیسے اینٹی پارلیمانی رول ادا کرنے کے علاوہ ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ کرنے جیسا جمہوریت دشمن فعل بھی سرانجام دیا۔واضح رہے کہ اسکندر مرزااسی میر جعفر کے پڑپوتے تھے جنہوں 1757کی جنگ پلاسی کے میدان میں بنگال کے حکمران سراج الدولہ کی انگریزوں کے ہاتھوں شکست میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

بیسویں صدی کے دوسرے نصف کی پہلی دہائی میں جب مملکت خداداد پاکستان میں پہلا مارشل لاء لگایا گیا تو ان دنوں مارشل لاء کے بارے مشہور یہ تھا کہ جہاں یہ ایک بار لگ جائے، وہاں پھر یہ لگتا رہتا ہے۔ دیگر خطوں اور ممالک کا تو پتہ نہیں لیکن ہمارے ہاں یہ بات کچھ زیادہ ہی سچ ثابت ہوئی۔قریبا تمام مارشل لاء ادوار میں ہمارے ہاں صدارتی نظام رائج رہا۔ جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے مارشل لاز کے درمیانی عرصے میں پارلیمانی نظام کو58ٹو بی کی نیم آمرانہ تلوار سے نیم بسمل کیے رکھنے کا دور بھی کافی حد تک نیم صدارتی نظام ہی کہا جا سکتا ہے۔ جنرل مشرف کے بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی بننے والی حکومتوں میں وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام کو تقویت دینے (اٹھارویں ترمیم) اور جمہوری و سول بالادستی کے فروغ (آئین سے غداری کا مقدمہ چلانے) کے اقدامات ہوئے لیکن موجودہ حکومت کے دور میں پارلیمانی نظام مضبوط ہونے کی بجائے کمزور ہوتا گیا۔یوں تو ہمارے ہاں صدارتی نظام کی صدائیں قیام پاکستان کے بعد سے ہی گاہے بگاہے بلند ہوتی رہی ہیں لیکن ایسا پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی برسراقتدار منتخب حکومت کی جانب سے صدارتی نظام کے نفاز کے مطالبے کی باز گشت سنائی دی جا رہی ہے۔اس حوالے سے کہنے کو تو بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔

 مختصر اتنا ہی عرض ہے کہ صدارتی نظام اپنانے میں کوئی حرج نہیں لیکن یہ کام تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت اور اتفاق رائے سے ہونا چاہیے۔ دوسری گذارش یہ ہے کہ 75سالہ ملکی تاریخ میں پارلیمانی نظام بڑی مشکل سے20سال چلا ہے، پارلیمانی نظام کو حتمی طور پر ناکام قرار دینے سے پہلے اسے آزادانہ طور پر چلنے کا کم از ایک بھر پور موقع ضرور فراہم کیجئے۔