نری پالیسیوں سے کام نہیں چلے گا
- تحریر خالد محمود رسول
- اتوار 23 / جنوری / 2022
- 4920
نیا سال شروع ہوا ہے تو اپنے دامن میں کئی نئی پالیسیاں لے کر آیا ہے۔ پچھلے ہفتے ملک کی پہلی با ضابطہ نیشنل سیکیورٹی پالیسی منظور کی گئی۔
ان ہی دنوں کئی مہنیوں کے التوا کے بعد سٹریجک ٹریڈ پالیسی فرہم ورک 2020-25 کو اپنی ایک تہائی مدت کے بعد منظوری ہونا نصیب ہوا۔ تازہ ترین پالیسی ایسی ایم ای یعنی سما اینڈ میڈیم انٹرپرائز کی لانچ ہوئی ہے۔ وزیر اعظم کے بقول ہم نے اس پالیسی میں ہر طرح کی ترغیبات یعنی دیے ہیں۔ پاکستان میں ایک سال کے دوران نئے سٹارٹ اپ پروجیکٹس نے 500 میلن ڈالرز کی سرمایہ کاری حاصل کی۔ یہ تما م پروجیکٹس ٹیک پروجیکٹس ہیں، ان کے پیچھے نوجوان لوگوں کا جذبہ ہے، نئے خیالات ہیں۔ اسی لئے وزیر اعظم نے ان سٹارت اپ کاروبار کو امریکی کی مشہور سلیکون ویلی سے مشا بہت دی۔ ان کے بقول بھارت نے جس تیزی نے اس میدان میں ترقی کی ہے، کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان بھی اس میدان میں تاخیر سے سٹارٹ کے باوجود ایک نمایاں مقام بنا لے۔
اچھی خواہش ہے، اسی لئے نیک تمنائیں رکھنی چاہئیں مگر اس موقعے پر ہیں پاکستان میں انڈسٹریل بنیادیں کھڑی ہونے اور ڈھے جانے اور دنیا کے ساتھ موازنہ بھی ذہن میں آیا۔ بقول مختار مسعود جن قوموں کو یہ معلوم نہ ہو کہ پچھلی دیوار کیوں گری تھی، وہ مضبوط نئی دیوار کیسے کھڑی کر لیں گے۔ بسلسلہ ملازمت ہمیں دنیا کے بیشتر ممالک میں جانے کا موقع ملا۔ مشرق بعید کے کچھ ممالک میں تو گزشتیہ چند دِہائیوں میں درجنوں بار جانے کا اتفاق ہوا۔ اس زمانے میں ایشیا کے کئی ممالک کے لیے ہر گزرتے سال ترقی کے نئے باب رقم کر رہے تھے۔ کوریا، ہانگ کانگ، سنگاپور، ملائیشیاء، تائیوان اور چین کی مثالی ترقی کی ہیبت اس قدر تھی کہ امریکہ اور یورپ میں ایسی کتابوں کا اور رسائل میں ایسے مضامین کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا جس میں اکیسویں صدی ایشیاء کے نام موسوم کی جا رہی تھی۔ ان ممالک کے لیے ایشین ٹائیگر کی اصطلاح استعما ل کی جانے لگی۔
ان ممالک کے علاوہ تھائی لینڈ، انڈونیشیاء اور فلپائین بھی ان کے نقش قدم پر چل رہے تھے۔ ان ممالک کی ترقی کے رازوں میں سے ایک راز تھا انٹرپرونرشپ۔۔ یعنی کاروباری ادارے قائم کرنے والے با صلاحیت سرمایہ کار۔ بہت سے لوگوں کو شاید یہ معلوم بھی نہ ہو کہ کس طرح صنعتی ترقی سے تہی دامن اس نئے ملک میں پچاس کی دِہائی میں صنعتوں کی داغ بیل ڈالی۔ آزادی کے وقت اس نئے ملک کا صنعتی اور تجارتی ڈھانچہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ وہ ایک عجیب دور تھا، بے سروسامانی ایسی کہ آج بھی سوچ کر وحشت طاری ہو جائے لیکن اسی عالم میں دھیرے دھیرے اس وقت کی حکومت، باہمت بیورو کریٹس اور کاروباری لوگوں نے اس ملک میں صنعتی دور کا آغاز کیا۔
آزادی کے وقت متحدہ ہندوستان میں موجود 921 صنعتی یونٹس میں سے پاکستان کے حصے میں صرف 34 آئے۔ یہ صنعتی ادارے نہایت بنیادی نوعیت کے تھے مثلا ٌ کاٹن ٹیکسٹائیلز، سگریٹ، چینی، چاول چھڑائی، کاٹن جننگ، فلور ملز، اللہ اللہ خیر صلا۔ یہ تھی وہ صنعتی بنیاد جس کے ساتھ ایک نئے ملک کا چودہ اگست 1947 کو آغاز ہوا۔ تجارت کا یہ عالم کہ مشرقی سے مغربی پاکستان تجارت کا حجم فقط دو کروڑ روپے تھا، مغربی سے مشرقی پاکستان تجارت کا حجم چودہ کروڑ روپے تھا۔یوں دونوں حصوں کے درمیان کل تجارت کا حجم فقط سولہ کروڑ روپے تھا۔
عالمی تجارت کا نقشہ بھی کچھ زیادہ مختلف نہ تھا۔ 1947-8 میں برآمدات کا حجم چوالیس کروڑ اور درآمدات کا سائز بتیس کروڑ روپے تھا، یوں بارہ کروڑ روپے کا فاضل تجارتی بیلنس تھا۔ 1948-9 میں برآمدات کا حجم بڑھ کر چون کروڑ جبکہ نوزائیدہ ملک کی قسم ہا قسم کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات 117 کروڑ روپے تک بڑھ گئیں۔ یوں آزادی کے دوسرے سال تجارتی خسارہ تریسٹھ کروڑ تک جا پہنچا۔ ایک نئے ملک کے لیے یہ صورت حال اچھا شگون نہ تھا۔ حکومت نے درآمدات کا بوجھ کم کرنے کے لیے متبادل اشیا کی پیداوار بڑھانے پر توجہ کا فیصلہ کیا۔ صنعتوں کے قیام کے لیے سرمایہ فراہم کرنے لیے 1948 میں دو سرمایہ کاری ادارے قائم کیے گئے۔ پی آئی ایف سی اور پی آئی سی آئی سی۔ بعد ازاں 1950 میں پاکستان انڈسٹریل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن قائم کی گئی۔
طریقہ کار یہ طے ہوا کہ پی آئی ڈی سی صنعتیں لگائے، انہیں کچھ عرصہ کامیابی سے چلا کر نجی شعبے کے حوالے کر دے اور پھر سے نئی صنعتیں لگائے۔ نیا نیا ملک، سرکاری اور نجی افراد جذبے سے معمور، لگن میں سرشار۔ یوں دیکھتے دیکھتے ابتدائی دس سالوں میں یعنی 1952-62 تک پی آئی ڈی سی نے مغربی پاکستان میں چھیالیس اور مشرقی پاکستان میں اکیس صنعتی ادارے قائم کیے۔ اس سے اگلے بارہ سالوں میں یعنی 1962-74 کے دوران صرف مغربی پاکستان میں پی آئی ڈی سی نے پچیس صنعتی ادارے قائم کیے۔ اسی دوران پرائیویٹ سیکٹر نے ساٹھ کے عشرے میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہوتے ہی صنعتوں کا جال پھیلا دیا۔
ستر کی دہائی میں کئی شعبوں کی صنعتوں کو قومیانے کے فیصلے نے نجی سرمایہ کاروں کی نہ صرف کمر توڑ دی بلکہ سیاسی بیانیے اور انتظامی و پالیسی اقدامات کی حد تک انہیں سفاک اور حرص سے بھرپور کردار کے طور پر پیش کیا گیا۔ سرمایہ کاروں کو اپنی جان کے لالے بھی پڑے اور اپنے کاروبارکے بھی۔ سرمائے کی افزودگی کا عمل رک سا گیا۔ اسّی کی دہائی میں سیاسی بے یقینی اور نئے سیاسی تجربات کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا۔ صنعتوں کے لیے بعد ازاں کئی پالیسیاں بنیں لیکن ساٹھ کے عشرے کا سا زور شور پھر پیدا نہ ہو سکا۔
دور رس اور تسلسل سے ترقی کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں نئے تجارتی تصورات کی حوصلہ افزائی ہو۔ ہمارے مجموعی سماجی، حکومتی و سیاسی رویے، ٹیکس سسٹم اور پالیسی معاملات حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی کا باعث بن رہی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان انٹروپرینرز کی کساد بازاری کے چنگل سے آزاد ہو۔ کرپشن اور بوسیدہ نظام تیزی سے بدلتی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ نری پالیسیاں بنانے سے کام نہیں چلے گا۔