پیپلز پارٹی اور اے این پی کا خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات میں تعاون کریں گی
- سوموار 24 / جنوری / 2022
- 3680
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے خیبرپختونخوا کے باقی اضلاع میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
پی پی پی کے سیکریٹری جنرل نیئر بخاری نے اتوار کو اے این پی خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی خان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ انہوں نے ڈان کو بتایا کہ ایمل ولی خان نے انہیں یقین دلایا ہے کہ ان کی پارٹی ڈیرہ اسمٰعیل خان کے میئر کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کے فیصل کریم کنڈی کی حمایت کرے گی جس کے لیے پولنگ 13 فروری کو ہونے والی ہے۔
پی پی پی رہنما نے کہا کہ ایمل ولی خان نے انہیں یقین دلایا ہے کہ اے این پی فیصل کریم کنڈی کے لیے انتخابی مہم چلائے گی۔ قبل ازیں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گزشتہ ماہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران ڈیرہ اسمٰعیل خان میں الیکشن اس وقت ملتوی کر دیا تھا جب اے این پی کے میئر کے امیدوار عمر خطاب شیرانی کو پولنگ سے ایک روز قبل گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
نیئر بخاری نے کہا کہ انہوں نے اپنی پارٹی قیادت کی ہدایت پر اے این پی رہنما سے بات کی اور دونوں فریقوں نے کے پی میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے مواقع دیکھنے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
یاد رہے کہ اے این پی کے رہنما ایمل ولی خان اور امیر حیدر ہوتی نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے دوران پیپلز پارٹی نے باضابطہ طور پر اے این پی کی قیادت سے اپنے امیدوار کے لیے حمایت طلب کی تھی۔
نیئر بخاری نے کہا کہ چونکہ پی پی پی اور اے این پی دونوں ترقی پسند جماعتیں ہیں، ان کے ایک دوسرے کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں، جب پیپلز پارٹی ملک میں حکومت کر رہی تھی تو دونوں جماعتیں اس وقت بھی اتحادی تھیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان بات چیت اب تک ڈیرہ اسمٰعیل خان کے الیکشن پر مرکوز تھی البتہ وہ کے پی میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں تعاون کی راہوں پر بات کرنے پر بھی رضامند ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کچھ حلقوں میں دونوں جماعتوں کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو سکتی ہے۔ رابطہ کرنے پر اے این پی کے سیکریٹری اطلاعات زاہد خان نے ہمیشہ کی طرح اس پیش رفت کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ کسی 'افہام و تفہیم' سے آگاہ نہیں۔