حکومت سے نکل کر زیادہ خطرناک ہوں گا: عمران خان
- سوموار 24 / جنوری / 2022
- 3460
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری پارٹی کی حکومت اس مدت کے علاوہ اور آئندہ مدت بھی پوری کرے گی۔ انہوں نے ’آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ‘ سلسلہ میں عوام کے سوالات کے جواب کے دوران یہ بات کہی۔
انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں حکومت سے نکل گیا تو میں اس سے زیادہ خطرناک ہوں گا۔ میں سڑکوں پر نکلوں گا تو آپ کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ اپوزیشن کو لگتا ہے کہ میں بھی مشرف کی طرح انہیں این آر او دے دوں گا، ایسا کرنا ملک سے غداری ہوگی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ڈاکوؤں کے ساتھ کوئی مفاہمت نہیں ہوگی۔ ہم کوئی ایشین ٹائیگر نہیں بننے جارہے ہیں اور نہ ہی لاہور کو پیرس بنانے جارہے ہیں۔ کوشش تھی کہ ہر ماہ لوگوں کے سامنے آکر جواب دوں، صبح اٹھ کر 1 گھنٹے میں مجھے ساری معلومات مل جاتی ہے کہ کس طبقے پر کیا گزر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ہم اپنے مقصد پر نہیں چلیں گے ہم کامیاب نہیں ہوں گے۔ ہم نے کووڈ پر 8 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں، مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہے۔ میڈیا بتاتا ہے کہ مہنگائی ہے، کیا صرف پاکستان میں مہنگائی ہے؟ میڈیا اعتدال کرے، کورونا کی وجہ سے دنیا میں سپلائی کی کمی کی وجہ سے مہنگائی کی لہر آئی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ امریکا میں کھانے کی چیزیں لینے کے لیے لائنیں لگی ہوئی ہیں، وہاں 40 سال میں سب سے زیادہ مہنگائی ہے۔ کینیڈا کے 40 فیصد لوگ کھانے پینے کی فکر میں مبتلا ہیں، یورپ میں 30 سال کی سب سے زیادہ مہنگائی ریکارڈ کی گئی۔
عمران خان نے کہا کہ ساری دنیا میں غربت بڑھی ہے، تیل کی قیمت دگنی ہوگئی ہے۔ میں دیکھ رہا تھا شاید اور اوپر جائے، ملک میں سب سے زیادہ مہنگائی کا اثر تنخواہ دار طبقے پر پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا گروتھ ریٹ بڑھا ہے، صنعت سب سے زیادہ پر فارم کر رہی ہے۔ مزدوروں کے حالات بہتر ہوئے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں تنخواہ دار طبقہ مشکل میں ہے، کارپوریٹ سیکٹر میں ریکارڈ منافع آیا ہے۔ بڑے صنعتکاروں کو بلا کر کہوں گا کہ تنخواہ دار طبقے کی تنخواہیں بڑھائیں۔ ہمارے کسانوں کی انکم میں 73 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ کارپوریٹ سیکٹر میں 980 ارب کا منافع ہوا۔
عمران خان نے کہا کہ جب سے حکومت میں آئے، چار بحران کا سامنا رہا ہے۔ ہمیں تاریخی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملا، ہمیں ایکسپورٹ اور امپورٹ میں بہت بڑا خسارا بھی ملا۔ ہم پر بوجھ پڑا تو روپیہ نیچے گرا، روپیہ نیچے گرا تو مہنگائی آئی۔ ہمارے پاس ڈالر ہی نہیں تھے کہ ہم مارکیٹ میں پھینک کر ڈالر کی قیمت کنٹرول کرتے۔