یوکرین پر روسی جارحیت کا خدشہ، امریکی تیاریاں

  • منگل 25 / جنوری / 2022
  • 4050

صدر جو بائیڈن کی ہدایت پر پینٹگان تقریباً 8 ہزار پانچ سو فوجیوں کو  ہائی الرٹ پر رکھ رہا ہے جن کو ممکنہ طور پر یورپ میں تعیناتی کے لیے بھجوایا جا سکتا ہے۔

یہ اقدام اتحادیوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے ایسے وقت میں اٹھایا جا رہا ہے جب یوکرین پر روس کی طرف سے فوجی جارحیت کا خطرہ ہے اور اس ضمن میں یورپی یونین روس کو متنبہ کرتی رہی ہے۔ فوجی اتحاد نیٹو نے ایسی صورتحال میں دفاعی منصوبے کو آخری شکل دے دی ہے۔

پینٹاگان کے پریس سیکیریٹری جان کربی نے پیر کے روز کہا کہ امریکی فوجیوں کی یورپ میں تعیناتی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ تاہم اس پر عمل درآمد اسی صورت میں ہو گا جب نیٹو اس کا فیصلہ کرے گی۔یا پھر ایسی صورت میں یہ فوجی یورپ بھجوائے جائیں گے جب یوکرین کی سرحد کے نزدیک روسی فوج کے اضافے سے متعلق کوئی نئی صورتحال جنم لیتی ہے۔

جان کربی کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نیٹو اتحادیوں کے ساتھ ہمارے عزم کا اعادہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوجی یوکرین کی سرحد پر تعینات نہیں ہوں گے۔

وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے صدر جو بائیڈن کو مشورہ دیا تھا کہ ساڑھے آٹھ ہزار فوجیوں کو ایسی صورت میں یورپ میں ممکنہ تعیناتی کے لیے تیار رکھا جائے جب یہ اشارے مل رہے ہیں کہ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن یوکرین پر فوجی دباؤ کم نہیں کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاوس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے بتایا ہے کہ صدر بائیڈن پیر کی رات دیر گئے اتحادی یورپی راہنماؤں کے ساتھ ایک ویڈیو کال پر یوکرین کی سرحد پر تعنیات روسی فوج میں اضافے اور کسی ممکنہ حملے کی صورت میں ممکنہ ردعمل پر تبادلہ خیال کریں گے۔

یوکرین کے خلاف روس کی فوجی جارحیت کے خدشے کے پیش نظر ماسکو اور مغرب کے درمیان تناؤ میں متواتر اضافہ ہورہا ہے۔ نیٹو نے فوج تعینات کرنے کی حکمت عملی کو آخری شکل دے دی ہے اورساتھ ہی اسلحے کی کھیپ سے بھرے بحری جہاز یوکرین روانہ کردیے گئے ہیں۔