اوسلو میں طالبان کے ساتھ مذاکرات، نارویجئن حکومت کے نمائیندے وفد سے ملیں گے

  • منگل 25 / جنوری / 2022
  • 4710

اوسلو میں طالبان کے وفد نے عالمی نمائیندوں اور افغان سول سوسائیٹی سے بات چیت کی ہے۔ منگل کو ناروے کے نائب وزیر خارجہ کی سربراہی میں ملکی حکومت کے ارکان طالبان سے بات کریں گے۔ تاہم ان مذاکرات کی کامیابی کے بارے مین کچھ نہیں کہا جاسکتا

افغانستان میں انسانی صورت حال بد تر ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس سال افغانستان میں ہنگامی بنیادوں پر امداد کے لیے پانچ ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی۔ اس وقت 24 ملین لوگوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔  تقریباً دس لاکھ بچے شدید نوعیت کی ناقص غذائی صورت حال کے سبب خطرے میں ہیں۔ شدید سردی اور ملک کے کئی علاقوں میں قحط سالی کی صورت حال بھی سر پر منڈلا رہی ہے۔

طالبان چاہتے ہیں کہ انہیں افغانستان کی جائز حکومت کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے۔ دنیا کے کسی ملک نے انہیں تسلیم نہیں کیا کیونکہ  مغربی ملکوں کا کہنا ہے کہ طالبان نے اقتدار میں آنے سے پہلے ملک میں آباد تمام قومیتوں پر مشتمل حکومت بنانے، حقوق انسانی کی پاسداری کرنے، خواتین کو ان کے حقوق دینے کے جو وعدے کیے تھے، وہ پورے نہیں کیے گئے۔  طالبان کا اصرار ہے کہ انہوں نے اپنے وعدے پورے کیے ہیں اور بقول ان کے شریعت کے مطابق سب کو ان کے حقوق دیے گئے ہیں۔

امریکہ سمیت دوسرے بہت سے ممالک افغانوں کی مدد کے لیے کوشاں ہیں۔ فنڈز فراہم کر رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ عام آدمی کی مدد کی جائے۔ یورویی یونین نے بھی وہاں اپنا دفتر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ اب ناروے میں بھی افغان سول سوسائٹی اور افغان حکومت کے نمائندوں اور اتحادی ملکوں کے درمیان بات چیت ہو رہی ہے۔ ناروے نے یہ واضح کیا ہے کہ یہ اجتماع کسی بھی صورت طالبان کی کسی جائز حیثیت کو تسلیم کرنا نہیں ہے۔ لیکن اس کا کہنا ہے کہ ہمیں ان لوگوں سے بات کرنی چاہئیے جو عملًا وہاں حکومت چلا رہے ہیں۔ طالبان کا موقف  ہے کہ ناروے مذاکرات یورپ کے ساتھ مثبت تعلقات کا راستہ بن جائیں گے۔

افغان صحافی اور تجزیہ کار ڈاکٹر حسین یاسا کا وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ طالبان جو اس وقت اندرون اور بیرون ملک مشکلات کا شکار ہیں، مختلف ملکوں میں وفود بھیج کر اور ناروے میں ہونے والی کانفرنس جیسے اجتماعات میں شرکت کرکے بین لاقوامی برادری کو یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ دنیا کے ساتھ اپنے معاملات چلا سکتے ہیں۔

پاکستان کے انسی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک اسٹڈیز کے نجم رفیق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان حکومت کے جائز ہونے کے حوالے سے یقینًا دنیا کے تحفظات ہیں۔ کیونکہ وہ کسی جمہوری عمل کے نتیجے میں وہاں برسر اقتدار نہیں آئے ہیں۔ نہ کسی پر امن ذریعے سے انہیں اقتدار منتقل ہوا ہے۔ ان تحفظات کو دور کیا جانا چاہئیے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ناروے کانفرنس کا انعقاد یہ ثابت کرتا ہے کہ ناروے اور بطور مجموعی یوروپ اس حوالے سے بات چیت کے لئے تیار ہے۔ طالبان یہ جاننے کی کوشش کر رہےہیں کہ وہ اپنے عزائم کے سلسلے میں دنیا کو کتنا مطمئن کر سکتے ہیں۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ طالبان حکومت کو کسی نہ کسی انداز میں تسلیم کیے بغیر وہاں لوگوں کی صحیح طور پر مدد نہیں کی جاسکتی۔ مگر نجم رفیق اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی اداروں خاص طور سے غیر سرکاری تنظیموں یا این جی اوز کے ذریعے وہاں بڑے پیمانے پر کام کیا جاسکتا ہے جو کسی حد تک ہو بھی رہا ہے۔ اسے توسیع دی جاسکتی ہے