امریکہ نے پوتن پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دے دی
- بدھ 26 / جنوری / 2022
- 3360
امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو وہ روسی صدر ولادمیر پوتن کے خلاف ذاتی پابندیاں لگانے پر غور کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر روس نے یوکرین پر چڑھائی کی تو اس اقدام کے دنیا پر ’انتہائی سنگین نتائج‘ مرتب ہوں گے۔ صدر بائیڈن کا بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب مختلف مغربی رہنماؤں نے متعدد بار تنبیہ کی ہے یوکرین پر حملے کی صورت میں روس کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
ادھر روس کا الزام ہے کہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کشیدگی میں اضافہ کر رہے ہیں کیونکہ روس نے یوکرین کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کی مبینہ منصوبہ بندی کے دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔ تاہم یوکرین کے ساتھ سرحد پر روس نے ایک لاکھ کے قریب فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔
کریملن کا کہنا ہے کہ وہ نیٹو کو سکیورٹی کے لیے ایک خطرہ تصور کرتا ہے۔ اس نے نیٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹو اتحاد مشرق کی طرف مزید نہ بڑھے، جس میں اس کا پڑوسی یوکرین شامل ہے۔ تاہم امریکہ نے کہا ہے کہ اس وقت مسئلہ روسی جارحیت کا ہے، نہ کہ نیٹو کے پھیلاؤ کا۔
صدر بائیڈن کے بیان سے قبل پینٹاگون کا کہنا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار امریکی فوجیوں پر مشتمل دستے کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ ہنگامی بنیادوں پر اُن کی تعیناتی عمل میں لائی جا سکے۔
پیر کو امریکی صدر جو بائیڈن نے یورپی اتحادیوں کے ساتھ ویڈیو کال پر رابطہ قائم کیا تھا۔ مغربی قوتیں یوکرین کے خلاف ممکنہ روسی جارحیت کے پیش نظر ایک متفقہ حکمت عملی بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
پینٹاگون کہہ چکا ہے کہ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ آیا امریکی فوجیوں کو تعینات کیا جائے گا یا نہیں۔
پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جان کربی نے کہا تھا کہ یہ (امریکی فوجیوں کی تعیناتی) صرف اسی صورت ہو گی اگر نیٹو روسی فوجیوں کی موجودگی کے خلاف فوری ردعمل دینے والی ایکشن فورس فعال کرنے کا فیصلہ کرے یا ’اگر کوئی دوسری ہنگامی صورتحال سامنے آتی ہے۔‘