ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی فہرست میں پاکستان کی تنزلی سمجھ سے بالاتر ہے: شوکت ترین

  • بدھ 26 / جنوری / 2022
  • 3040

وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ حکومت نے 4 مختلف بحرانوں کا کامیابی سے سامنا کیا ہے۔ ملکی معیشت درست سمت میں جارہی ہے، ہر شعبے میں آمدن بھی بڑھ رہی ہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی فہرست میں پاکستان کی تنزلی سمجھ سے بالاتر ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ شکوت ترین نے کہا کہ موجودہ حکومت نے 4 مختلف قسم کے بحران کا سامنا کیا۔ پہلا مسئلہ حکومت سنبھالتے ہی 20 ارب کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تھا، تقریباً 8 سے 9 ارب کی ادائیگیاں بھی کرنی تھیں۔ دوست ممالک سے مدد مانگنے کی کوشش کی لیکن اندازہ ہوا کے اس طرح کام نہیں چلے گا لہٰذا ہم آئی ایم ایف کے پاس گئے۔

اس صورت حال سے نمٹ ہی رہے تھے کہ دوسرا بڑا مسئلہ کورونا آگیا، جو صدیوں میں ایک بار آنے والا بحران تھا۔ ہم نے لوگوں کو ریلیف دینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس دوران برآمدات میں اضافے کے لیے مراعات دیتے رہے، زراعت کے شعبے میں بھی پیسے ڈالے کیونکہ ہم ایک فوڈ ڈیفیسٹ کنٹری بن چکے تھے اور کنسٹرکشن کو بھی بڑھاوا دیا جس سے پہلی بار مورگیج فنانس شروع ہوئی۔

کورونا کو جس انداز میں حکومت پاکستان نے ہینڈل کیا اس کی تعریف معاشی ماہرین نے بھی کی۔ اور 3 بار نارملسی انڈیکس میں پاکستان کو سرفہرست رکھا، اس وقت لوگ شور مچارہے تھے لیکن آج برطانوی ویزراعظم بھی وہی بات کر رہے ہیں جو اس وقت وزیراعظم عمران خان نے کی تھی۔ اس حکمت عملی سے ہمیں یہ فائدہ ہوا کہ سال 2020-21 میں شرح نمو 5.37 فیصد ہوگئی اور تمام شعبوں میں غیرمتوقع شرح نمو نظر آئی۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ تیسرا مسئلہ کموڈوٹی پرائس سائیکل کا تھا جو 20 سال کی بلند ترین سطح پر آیا، یہ 20 سال بعد ایک عالمی مسئلے کے طور پر سامنے آیا ہے، قیمتیں 85 سے 90 فیصد تک بڑھیں، تیل، کوئلہ، لوہا، خوردنی تیل، دالیں ان سب کی قیمتیں بڑھ گئیں، کئی چیزوں کی قیمتیں دگنی سے بھی زیادہ بڑھ گئیں۔ ہم پر مہنگائی کا دباؤ بڑھا کیونکہ ہم یہ ساری چیزیں درآمد کرتے ہیں، نتیجتاً ہمارا تجارتی خسارہ بھی بڑھا لیکن اس دوران ہماری برآمدات بھی 25 فیصد سے 29 فیصد بڑھیں، ریمٹنسز اور آئی ٹی ایکسپورٹس بھی بڑھیں جس سے ہمیں سہارا ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ چوتھا مسئلہ افغانستان کی صورت حال تھی۔ امریکا نے افغانستان کے اثاثے منجمد کیے تو افغانستان کا انحصار پاکستان پر بڑھ گیا، افغانستان نے ہماری مارکیٹ سے ڈالر اٹھانا شروع کردیے اور اسی سے درآمد اور برآمد کرنے لگے، شروع میں ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ یہ نوبت 2 کروڑ ڈالر یومیہ تک پہنچ گئی تھی۔  ہم نے فوری طور پر سی ڈی کو لازمی کیا اور افغانستان کو سمجھایا کہ آپ ہم سے چیزیں روپے میں خرید لیں تاکہ ہمارے روپے پر پریشر کم ہو، اس طرح ہم اس صورت حال کو ہینڈل کرنے میں بھی کامیاب رہے۔ اب ہم افغانستان کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کرنے کا بھی سوچ رہے ہیں تاکہ ہم پر بھی ڈالر کا پریشر کم ہو۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ایسکپورٹس ماہانہ 2 ارب ڈالر تک ہوتی تھیں، جوکہ اب تقریباً 3 ارب ڈالر ماہانہ ہورہی ہیں۔ ہمارا اندازہ ہے کہ 31 ارب ڈالر کی گڈز ایکسپورٹ اور ساڑھے 3 ارب ڈالر کی آئی ٹی ایکسپورٹ سے ہم ٹریک پر آجائیں گے۔ 2019 سے ہم نے اسٹیٹ بینک سے کوئی مالی مدد نہیں لی، بلکہ 1.5 ٹریلین اسٹیٹ بینک کو واپس کیا ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ تنخوادہ دار طبقہ واقعی اس وقت تکلیف میں ہے۔ سب کی آمدنی بڑھی ہے لیکن تنخواہ دار طبقہ اس وقت مشکل حالات کا سامنا کر رہا ہے۔ اگلے چند دنوں میں ہم خصوصاً تنخواہ دار طبقے کے لیے پروگرام لے کر آرہے ہیں جس سے ان کی آمدن میں بھی اضافہ ہوگا۔  ہمیں نہیں معلوم کہ مہنگائی کا عالمی دباؤ کب کم ہوگا کیونکہ یہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ ہوسکتاہے اگلے 2 سے 3 مہینوں میں بھی صورتحال یہی رہے، اس لیے ہماری کوشش ہے کہ ہمارے تمام طبقوں کی آمدن بڑھائیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنینشل رپورٹ میں کرپشن اور رول آف لا کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سب کے سامنے ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے تین برسوں میں کتنی کرپشن کرلی، کتنے ارب کا بزنس کرلیا۔ اور کتنی فیصد ان کی نان ٹیکس انکم بڑھی ہے، اس کا موازنہ پچھلے 10 برسوں سے کریں تو سب واضح ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا وزیراعظم نے جب بھی کوئی اسکینڈل پیدا ہوتے دیکھا تو انہوں نے اس کی آزادانہ تحقیقات کروائی اور اپنے ہی لوگوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ قانون کی بالادستی کی بات کریں تو وزیر اعظم ہمیشہ یہی کہتے رہے ہیں کہ پاکستان میں امیر اور غریب کے لیے علیحدہ قانون ہے۔ اس سب کے باوجود سمجھ نہیں آتی کے 3 برسوں میں ٹراسپرنسی انٹرنیشنل کی فہرست میں پاکستان کی تنزلی کیوں ہوئی؟ جب تفصیلات آئیں گی تو ہم اس پر بات کریں گے۔