کیا آپ واقعی خطرناک آدمی ہیں؟

بچپن میں کہیں یہ جملہ پڑھا تھا کہ سادہ لوح لوگ اکثر دھوکا دے جاتے ہیں یایہ کہ دھوکا کھاجاتےہیں ۔ چرب زبان ، چالاک ، مکار یا فراڈیے اکثر سیدھے سادھے لوگوں کو جھوٹے، سہانے، سپنے دکھاتے اوربیوقوف بناتے ہوئے اپناا لو سیدھا کر لیتے ہیں۔

تھرڈ ورلڈ کے اکثر ممالک میں اگر جمہوریتیں کمزور ہیں تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ اسی لیے جہالت اور سادہ لوحی میں باریک فرق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تعلیم و شعورکے بڑھاوے پر زور دیا جاتاہے۔ سرسید کو اپنی قوم کی اس کمزوری کا ادراک و احساس تھااس لئے خرد مندوں کے امام نے سب سے زیادہ زور تعلیم ، شعور اورآگہی کے بڑھاو یا پھیلاؤ پر دیا لیکن افسوس اس کی قوم ہنوز جذباتیت و جنونیت سے نکل نہیں پائی۔  ایک سےایک کرسی اقتدارکا بھوکا وحریص چرب زبان و تعلی باز آسمان سے تارے توڑ لانے کے نعرے لگاتے اورلچھےدارتقاریر کرتےہوئے عام آدمی کا استحصال کرتا ہے۔ وہ خود پسند خود تو اپنا من پسند عہدہ حاصل کرتے ہوئے اپنے تئیں ناصرف تاریخ میں نام لکھوا لیتا ہے بلکہ اپنی جے جے کےنعرے لگواتے ہوئے نئی نسلوں تک اپنے حصے کے بیوقوف چھوڑ جاتاہے البتہ حقائق کی کسوٹی پر تاریخ جب اس کے کردار کوپرکھتی ہے تو معلوم ہوتاہے کہ وہ میکیاولی کا شاگرد تو قومی استحصال و تباہی کااصل مجرم تھا۔

یہ تو سب جانتےاور مانتے ہیں کہ تاریخ خود کو دہراتی ہےچہرےضرور بدلتے ہیں مگرگھناؤنے کردار وہی رہتے ہیں یہ کہہ دینے سے کیافرق پڑتا ہے کہ خدانے مجھے سب کچھ دے رکھا تھا، میرےپاس اتنی خوشحالی تھی کہ میں انگلینڈ میں بیٹھ کر موج مستی یاعیاشی کی زندگی گزارسکتا تھا مگر میں قوم کے عشق میں ا یسے گرفتار ہوا کہ خدمت کے لئے وزا رت عظمیٰ سے کم تر کوئی عہدہ لینا نہیں چاہتا تھا۔ بندہ پوچھےاے زیادہ ہوشیارو خطرناک آدمی تیرے پاس ایسی کونسی گیڈرسنگھی تھی کہ تجھے کسی چیز کی کمی نہ تھی؟ تیرے پاس جتنی بھی دولت یا خوشحالی تھی کیا یہ کسی اور کے پاس نہ تھی؟ ہمارے جناح صاحب کے پاس اس سےزیادہ دولت تھی ہمارے قائد عوام کے پاس وراثتی جائیداد اس سے کہیں زیادہ تھی لیکن بڑے عہدے اور بڑے نام کے لئے لوگ ملکوں کو تڑوا دیتے ہیں لاکھوں بندوں کو مروا دیتے ہیں خود کو پھانسیوں پرچڑھا دیتے ہیں۔ وسائل و دولت کےچاہے انبار لگے ہوں عہدے واقتدار کی ہوس میں لوگ پاگل ہو جاتے ہیں۔

شاہ ایران کے پاس جتنی دولت تھی کیا تم اس سے تقابل کر سکتے ہو لیکن کرسی اقتدار سے محرومی اسے کھا گئی موت کے منہ میں لے گئی یہ ہوس جسے لگ جاتی ہے اس سے محرومی اسے واقعی خطرناک آدمی بنا دیتی ہے جو مسولینی و ہٹلر کی طرح ہر چیز کو جلا کرخاکستر بنا دیناچاہتا ہے۔ آپ کے پاس کتنی زیادہ دولت ہے؟ اور وہ کہاں سے آئی ہے؟ جدی پشتی آپ کتنے بڑے رئیس ہیں؟ شنید ہےکہ ابا جی تو معمولی ملازم پیشہ تھے ان کا تو پھر بھی کوئی پیشہ تھا اور آپ کون سے پیشہ ور ہیں؟ لوگ پوچھتے ہیں کہ آنجناب کا ذریعہ آمدن کیا ہے؟ ایک یا دو سال میں ایسا کون سا الہ دین کاچراغ ہاتھ لگ گیا ہے کہ آمدن پر ٹیکس پانچ لاکھ سے اٹھانوےلاکھ تک پہنچ گیا ہے؟ پاکستان میں جو جتنا بڑا کرپٹ ہوتا ہے، اپنی ایمانداری و پارسائی کےاتنے ہی قصے سناتا اورباربار دہراتا ہے۔ دوسروں کو چور چور کہہ کراپنی صداقت و امانت کے ڈھول پیٹتا ہے نامی گرامی مسخروں سے اس نوع کے خطابات بھی لےلیتا ہے۔ لیکن ہماری پنجابی زبان میں لوگ اسے ’’گلاں داگالہڑ‘‘ کہتے ہیں۔ پارسائی کی تسبیح پڑھنے سے کوئی پارسا نہیں بن جاتا اور نہ دوسروں پر گند اچھالنے سے کسی کے اپنے کرتوت چھپ جاتے ہیں۔ کوئی اگرپارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر کے متعلق اس نوع کی الزام بازی کرے کہ میں اسے کریمنل سمجھتا ہوں اور اس کی پارٹی کو مافیا کہتا ہوں دہشت گردوں اور قاتلوں سے مذاکرات اور معاہدے کر سکتا ہوں لیکن اپنے اپوزیشن لیڈر سے بات نہیں کر سکتا تو اسے سیاست کی بجائے کرکٹ کھیلنی چاہیے۔ سیاست تو حوصلے اور برداشت کا دوسرا نام ہے، سب کو ساتھ لے کر چلنے کا نام لیڈرشپ ہے ایسے خود پسند آدمی کو کسی تھیٹر میں نو کری کر لینی چاہیے یا کسی ٹیم کاکوچ بن جانا چاہیے۔ آپ اپنے مشیر احتساب کو اس کے عہدے سے ہٹاتے ہوئے یہ جلی کٹی سنانا نہیں بھولتے ہیں کہ یہ شخص اس ذمہ داری کے لائق نہیں تھا کیا انسان کو اپنے گریبان میں جھانکتے ہوئے یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ میں جس ذمہ دار پر براجمان ہوں۔ خدا لگتی کہوں کہ کیا میں خود اس کے لائق ہوں؟ بلاشبہ انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اس کےاندر صلاحیت ہو جس کے وہ اہل ہو اگر وہ شخص آپ کو مقدمات کی نامکمل تفصیلات دیتا رہا اگر وہ آپ کے سیاسی مخالفین کو آپ کی خواہش کے عین مطابق پھانسنےکے لئے بلند بانگ دعوے کرتارہا۔ یا ثبوتوں کے بغیر محض کاغذ لہرا کر جھوٹی کہانیاں گھڑتارہا تو اس میں اصل قصور وار وہ نہیں خود آپ ہیں؟

آپ اپنے سیاسی مخالفین کو جس طرح گرے ہوئے الفاظ اور لب و لہجے سے کریمنل اور چور چورکہتے چلےآ رہے ہیں کیا ان کےپاس سیٹا وائٹ سے لےکر لندن کےجوا خانوں میں خیراتی رقوم ہرانے تک آٹا اور شوگرمافیا سے لےکر اے ٹی ایم مشینوں تک ایسا مواد نہیں ہے جس کی بنیاد پر اس نوع کے ایک سو ایک حروف آپ پر بھیج سکیں۔ اب تو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ بھی پوری دنیا کے سامنے آ گئی ہے جس کے مطابق آپ کی بیڈ گورننس کرپشن کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ گئی ہے ۔ کرپشن میں موجودہ حکومت نے پرویز مشرف کی حکومت کوبھی مات دے دی ہے۔ تب دنیا کے 180 ممالک میں پاکستان کرپشن کےحوالےسے 138 کے رینک تک پہنچا تھا۔ پیپلز پارٹی کے پنج سالہ دور میں اتارچڑھاؤ آتارہا لیکن جب پی پی کی حکومت گئی تو تمامتر غیر ذمہ دارانہ رویوں کے باوجود پاکستان کا نمبر 127 پر آ گیا اورپھر ن لیگ کی حکومت میں جس پر گند اچھالنے میں آپ نے کوئی کسر اٹھائے نہ رکھی کرپشن کم ہوتے ہوئے پاکستان کا رینک 117 ویں نمبر پر آ گیا مگر جب ریاست مدینہ کی نام لیوا تبدیلی سرکار براجمان ہوئی تو2020 میں دوبارہ کرپشن بڑھی اور پاکستان 124 کے رینک پر پہنچ گیا اور آج الحمدللہ مشرف کی کرپشن کاریکارڈ توڑتے ہوئے 16درجے گراوٹ کے ساتھ پاکستان 140 ویں نمبر تک پہنچ چکاہے۔

آج آپ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پر انگلیاں اٹھانےسےقبل یہ مت بھولیں کہ یہی وہ ادارہ اور رپورٹس ہیں جن کو بنیاد بناکرآپ کبھی عوامی جلسوں میں لوٹ مارکا واویلا کیا کرتے تھے۔ آج اگر لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ مصنوعی ایمانداری کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ گیا ہے یا دوسروں کو چورچورکہنے والے خود بڑے چور ثابت ہوئے ہیں یایہ کہ تبدیلی سرکار کرپشن کا جوبیانیہ لے کر آئی تھی وہ شہزاد اکبر کا استعفیٰ لینے کے ساتھ ہی بنی گالہ کے محل میں دفن ہو گیا ہے تو غیرجانبدار حلقے اسے کس طرح جھٹلا سکتے ہیں؟ ن لیگی حکومت میں آپ سڑکوں پر یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ 12 ارب کی کرپشن یومیہ ہو رہی ہے، اسی وجہ سے مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ آج غصے سے پاگل ہو کر یہ کسے سنارہے ہیں کہ اگر مجھے اقتدار سے نکالا تو میں سماج کےلئے زیادہ خطرناک آدمی ثابت ہوں گا۔ سچائی تو یہ ہےکہ آپ کے ممبران اسمبلی پریشان ہیں کہ وہ اپنے حلقوں میں کیسے جائیں؟ مہنگائی اور کرپشن سے کچلے ہوئے عوام کا سامنا کیسے کریں انتخابی مہم کا سوچتے ہوئے انکےکلیجے منہ کو آرہے ہیں؟ وہ ن لیگ کے ٹکٹ کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے ہیں ۔ بصورت دیگر آزاد لڑنےکا سوچ رہے ہیں ایسے میں گیڈربھبھکیوں کا خوف کس کو دلا رہے ہیں؟ تاشقند کےکون سے راز ہیں جن سےطاقتوروں کو دھمکا رہے ہیں؟