افغان شہریوں کی مدد کے لیے امریکہ و یورپ کا اتفاق
- جمعرات 27 / جنوری / 2022
- 4470
اوسلو میں طالبان اور سول سوسائٹی کے کارکنان کے ساتھ بات چیت کی دو روزہ نشستوں کے بعد یورپی یونین، فرانس، جرمنی، اٹلی، ناروے، برطانیہ اور امریکہ کے خصوصی نمائندوں اور ایلچیوں کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔
اس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان میں انسان بحران سے نبردآزما ہونے کے لیے اقدامات ہونے چاہئیں تاکہ مشکلات کا شکار افغانوں کی تکالیف دور کی جاسکیں۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شرکا نے دشواریوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اشیائے ضروری کی رسد فوری طور پرمشکل میں پھنسے افغانوں کو فراہم کی جائے۔
یورپی یونین اور دیگر ملکوں کے شرکا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انسانی حقوق کی حرمت کا خاص خیال رکھا جائے، اور یہ کہ اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ افغانستان میں ایک جامع اور نمائندہ سیاسی نظام قائم کیا جائے، تاکہ افغانستان میں استحکام لایا جاسکے اور ملک کا مستقبل پرامن خطوط پر استوار ہوسکے۔
شرکا نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کی تشویش ناک خلاف ورزیاں بند کرنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائیں۔ حراست میں لینے کے یک طرفہ اقدامات بند کیے جائیں (جن میں حالیہ دنوں کے دوران انسانی حقوق کے لیے سرگرم خواتین کارکنان کی گرفتاری کا عمل بھی شامل ہے) جبری لاپتا کیے جانے کے حربے بند کیے جائیں، ذرائع ابلاغ کے خلاف سخت کارروائیاں، ماورائے عدالت ہلاکتیں، اذیت کے ہتھکنڈے اور خواتین اور لڑکیوں کے تعلیم، روزگار اور محرم کے بغیر سفر کی اجازت نہ دینے جیسے اقدامات واپس لیے جائیں۔
اس سے قبل اقوام متحدہ نے افغانستان کے لئے عبوری رابطے کےایک وسیع طریقہ کار کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد سال 2022 کے دوران افغان عوام کو درپیش مشکلات میں کمی لانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اس پروگرام پر فوری عمل درآمد کیا جائے گا۔اعلان کے مطابق، بہتر نتائج کے حصول کے لیے، وضع کردہ اس طریقہ کار کے ذریعے اقوام متحدہ کے نظام کو فعال اور مربوط بنایا جائے گا۔
عالمی ادارے نےبدھ کو ایک اعلان میں بتایا ہے کہ 'ٹرانزیشنل انگیج منٹ فریم ورک (ٹی اِی ایف)' حکمت عملی پر مبنی ایک دستاویز ہے، جس کے ذریعے اقوام متحدہ کی پوری ٹیم کی کوششوں کو مربوط انداز میں ترتیب د یا جائے گا تاکہ پریشان حال افغان عوام کی زندگیاں بچائی جاسکیں، انھیں درکار ضروری اشیا میسر آتی رہیں، جس میں صحت اورتعلیم کی سہولیات بھی شامل ہیں۔