فوجداری قانون میں اصلاحات پر حکومت اور وکلا برادری میں اختلاف
- جمعہ 28 / جنوری / 2022
- 3560
حکومت کی جانب سے فوجداری نظام میں مجوزہ اصلاحات وفاقی حکومت اور وکلا برادری کے درمیان تنازع بن گئی ہیں۔ فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے لیے سخت بیانات جاری کیے گئے ہیں۔
وزارت قانون کی جانب سے مجوزہ ترامیم کی چند روز قبل وفاقی کابینہ کی جانب سے منظوری دی گئی ہے۔ اس میں کوڈ آف کرمنل پروسیجر (سی آر پی سی)، قانون شہادت، پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) اور دیگر متعلقہ قوانین میں ترامیم شامل ہیں۔ کرمنل ٹرائلز کی تکمیل کے لیے 9 مہینے کی حد مقرر کی گئی ہے۔ پلی بارگین کا نظام متعارف کروایا گیا ہے اور تفتیشی عمل میں جدید آلات اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی تجویز دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے فوجداری قانون میں ان اصلاحات کو اس بنیاد پر مسترد کردیا ہے کہ یہ ترامیم وزارت قانون کی جانب سے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر پیش کردی گئی تھیں۔ ایس سی بی اے کے صدر محمد احسن بھون نے ایک بیان میں وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف فروغ نسیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک بار پھر قانون کے بارے میں کم علمی اور اپنی نااہلی کا مظاہرہ کیا اور اس سے ان کی ٹیم کی صلاحیت کا فقدان بھی ظاہر ہوا۔
انہوں نے قانونی اصلاحات کو مزید مؤثر، کارآمد اور فائدہ مند بنانے کے لیے وسیع بنیادوں پر مشاورت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وفاقی حکومت نے ایس سی بی اے کے مؤقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فوجداری اصلاحات سے متعلق قانون سازی کا مکمل مسودہ پاکستان بار کونسل، تمام صوبائی بار کونسلز، ایس سی بی اے اور تمام ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کے ساتھ شیئر کیا گیا تھا اور تمام اداروں کو اپنی رائے دینے کے لیے مدعو بھی کیا گیا تھا۔
وزیر قانون نے اپنے بیان میں کہا کہ آج تک ان تنظیموں میں سے کسی نے اپنی کوئی رائے نہیں دی۔ قانون کے بنیادی اصول کے مطابق اس معاملے پر خاموشی کا مطلب ہے کہ ان کے پاس اس میں اضافے کے لیے کچھ نہیں اور وہ دستاویز سے مطمئن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے مطابق مجوزہ اصلاحات کا مقصد کمزور طبقے خاص طور پر خواتین اور بچوں کو انصاف تک فوری اور آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔ جو لوگ ان اصلاحات کی مخالفت کر رہے ہیں وہ پاکستان کے لوگوں خصوصاً معاشرے کے کمزور طبقات کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔
وزارت قانون کا دعویٰ ہے کہ اصلاحات سماجی یا طبقاتی فرق سے قطع نظر انصاف تک سب کی برابر رسائی کو یقینی بنائیں گی۔