اسٹیٹ بینک ترمیمی بل سینیٹ سے منظور ہوگیا

  • جمعہ 28 / جنوری / 2022
  • 3670

اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود ایوان بالا میں اسٹیٹ بینک ترمیمی بل صرف ایک ووٹ کی اکثریت سے منظور ہوگیا۔ یوں حکومت ضمنی مالیاتی بل سمیت عالمی مالیاتی فنڈ کے جائزے کے لیے درکار دونوں بلز منظور کرانے میں کامیاب رہی۔

سینیٹ میں مذکورہ بل وزیر خزانہ شوکت ترین نے پیش کیا جس کے حق میں 43 جبکہ مخالفت میں 42 ووٹ آئے جس پر چیئرمین سینیٹ نے بل کو منظور قرار دیا۔ ایوانِ بالا کے اجلاس میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب رات گئے سینیٹ کے ایجنڈے میں شامل کیے جانے کے باوجود حکومت نے اپنے اراکین کی تعداد کم ہونے کے باعث اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پیش نہیں کیا۔

اجلاس میں حاضر ہونے کے باوجود وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین ایوان سے باہر چلے گئے۔ جس پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ حکومت بل پیش ہی نہ کرے تو میں کیا کرسکتا ہوں۔ بل پیش کرنا میری ڈیوٹی نہیں، وزیر خزانہ ایوان میں آئیں۔

اس دوران اپوزیشن اراکین کی جانب سے احتجاج اور نعرے بازی کی گئی ساتھ ہی ایجنڈے کے مطابق بل پیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا اور کہا گیا کہ اگر حکومت بل نہیں پیش کرنا چاہتی تو اسے ودڈرا قرار دیا جائے۔ بعدازاں بل پیش کیے جانے پر چیئرمین سینیٹ نے گنتی کروائی اور ایک ووٹ کی اکثریت سے بل کو منظور قرار دے دیا اور اجلاس پیر کے روز تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

خیال رہے کہ سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن ارکان کی تعداد 57 ہے جبکہ حکومت ارکان کی تعداد 42 ہے۔ اپوزیشن ارکان میں دلاور خان گروپ کے 6 اراکین شامل ہیں۔ نزہت صادق کینیڈا میں تھیں اور مشاہد حسین سید کورونا سے متاثر ہونے کی وجہ سے اجلاس میں نہیں آسکے۔

تحریک کی منظوری کے بعد اے این پی کے سینیٹر عمر فاروق کاسی ایوان سے چلے گئے تھے، انہوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی ایوان میں موجود نہیں تھے۔  اس سے قبل حکومت کو اسٹیٹ بینک کا بل بدھ کو سینیٹ سے منظور کروانا تھا تاکہ آئی ایم ایف بورڈ 28 جنوری کو ہونے والے اپنے اجلاس میں چھٹے جائزے کی تکمیل پر غور کر سکے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

وزیر اطلاعات فواد   چوہدری  نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کی منظوری کے بعد کہا ہے کہ  اس کام  میں ساتھ دینے پر یوسف رضا گیلانی اور پیپلز پارٹی کے شکر گزار ہیں۔ امید ہے اس شکست کے بعد اپوزیشن کے کچھ دن آرام سے گزریں گے۔ٹویٹ میں  فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت نے ثابت کیا ہے کہ تمام جماعتیں مل کر بھی ایک عمران خان کے آگے ڈھیر ہیں، اللہ کی مدد شامل حال رہی تو انشاللہ کامیابیوں کا سفر رکنے والا نہیں۔

فواد چوہدری نے  کہا کہ اس بل کی منظوری میں بالخصوص یوسف رضا گیلانی اور پیپلز پارٹی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اسے منظور کرانے اور ملک کی بہتری میں ساتھ دیا۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کے ارکان کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں ان کا شکر گزار ہوں کہ وہ نواز شریف کو پارٹی سے ہٹانے میں کامیاب ہوگئے۔