کابل ہوائی اڈے کی سیکیورٹی پر ترکی اور قطر کا طالبان حکومت سے سمجھوتا ہوگیا

  • ہفتہ 29 / جنوری / 2022
  • 3890

کابل ایئرپورٹ کی سیکیورٹی کے لیے ترکی اور قطر نے طالبان حکومت کے ساتھ ایک سمجھوتاکرلیا ہے۔ ترک سفارتی ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ اگر انہیں باضابطہ طور پر یہ ذمہ داری دی جاتی ہے تو وہ مستعدی کے ساتھ کام کرکے دکھائیں گے۔

کابل کا بین الاقوامی ہوائی اڈا چاروں طرف سے خشکی سے گھرا ہوا ہے۔ اگست طالبان کی جانب سے افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد ترکی نے کہا تھا کہ قطر سے مل کر ہوائی اڈے کی نقل و حرکت کا کام پھر سے شروع کیا جا سکتا ہے، لیکن اس سلسلے میں سیکیورٹی کے متعلق اس کے مطالبات مانے جائیں۔

خبررساں ادارے رائٹرز نے خبر دی ہے کہ ایئرپورٹ کو قابل استعمال بنانے کے لیے متحدہ عرب امارات بھی طالبان کے ساتھ مذاکرات کرتا رہا ہے۔ ذرائع نے جمعرات کو اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ہوائی اڈے کا انتظامی طریقہ کار سنبھالنے کے لیے، ترکی اور قطر نے سیکیورٹی کےمرتب کردہ فریم ورک پرآمادگی کا اظہار کیا ہے۔ مالی اخراجات سے منسلک دیگر معاملات کو طے کرنے کے لیے مزید مذاکرات جاری ہیں۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اہل کار نے بتایا کہ  ایئرپورٹ کے بیرونی علاقے کی سیکیورٹی کا کام طالبان کے حوالے ہوگا، جب کہ ہوائی اڈے کے اندرونی رقبے کے معاملات چلانا ہمارا ذمہ ہوگا۔ اسی ذریعے نےمزید بتایا کہ اس تجویز پر تعمیری انداز سے گفتگو کا عمل جاری ہے۔

اس معاملے پر ترک اور قطری وفود اس ہفتے کابل میں مزید بات چیت کریں گے۔ قطر کے سرکاری نگرانی میں کام کرنے والے خبررساں ادارے، 'کیو این اے' نے بتایا ہے کہ طالبان حکومت کے اہل کار آئندہ ہفتے دوحہ کا دورہ کریں گے جس میں ہوائی اڈے کے انتظام اور نقل و حرکت کے کام پر قطر اور ترکی کے ساتھ بات چیت کو آخری شکل دی جائے گی۔