ایغور اور کشمیر پر مغرب کا دوہر معیار ہے: عمران خان
- ہفتہ 29 / جنوری / 2022
- 3470
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مغرب سنکیانگ میں ایغور کے ساتھ چین کے رویے پر تنقید کرتا ہے جو زمینی حقائق کے خلاف ہے لیکن کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔
اسلام آباد میں چینی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ چین میں ایغور کے ساتھ ہونے برتاؤ پر مغرب کی جانب سے چین کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ہم نے اپنے سفیر معین الحق کو وہاں بھیجا، انہوں نے معلومات حاصل کیں تو پتا چلا کہ زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں۔ مغرب، ایغور کے حوالے سے تو بات کرتا ہے لیکن کشمیر کے حوالے سے بات نہیں کرتا۔
کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ 90 لاکھ لوگوں کو بھارت نے کھلی جیل کی طرح قیدی بنایا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری دونوں معاملات پر دوہرا معیار اپنا رہی ہے۔
افغانستان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان 40 سال سے جنگ کا شکار تھا لیکن اب بین الاقوامی افواج کا انخلا ہوچکا ہے تو عالمی برادری کو ان کی مدد کرنی چاہیے۔ چاہے طالبان حکومت آپ کو پسند ہے یا نہیں لیکن 4 کروڑ افغانیوں کے لیے ہمیں ان کی مدد کرنی پڑے گی، ورنہ افغانستان دوبارہ جنگ کے دہانے پر آجائے گا۔
انہوں نے چینی صحافیوں کو بتایا کہ وقت کے ساتھ پاک چین تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں، چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا اور ہم پڑوسی بھی ہیں۔ جب قراقرم ہائی وے تعمیر کیا گیا تو میں اسکول میں تھا، وقت کے ساتھ ساتھ یہ تعلقات گہرے ہوئے اور اب مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ دورہ چین پر پہلا اولمپکس دیکھیں گے، چین کے لوگ کرکٹ نہیں کھیلتے لیکن بطور کھلاڑی چین میں اولمپکس دیکھنا میرے لیے بہت دلچسپ ہوگا۔ وزیر اعظم نے کورونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد حالات سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ عالمی وبا کے باعث تمام شعبوں کے ساتھ کھیل بھی متاثر ہوئے ہیں۔
چین میں کھیلوں کی سرگرمیوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ چین میں جہاں ایک طرف معیشت کی ترقی ہوئی ہے وہیں گزشتہ ایک دو سالوں میں ہم نے اس کی کھیلوں میں موجودگی بھی دیکھی ہے۔ اس سے قبل چین کھیلوں میں کبھی اتنا آگے نہیں تھا اور یہ قابل تعریف ہے۔ اس پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ چین میں کھیلوں اور فٹنس کی طرف بھی توجہ مبذول کی جارہی ہے۔
جمہوری منصوبہ بندی سے متعلق چینی صحافی کے سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ساری دنیا نے تسلیم کیا ہے کہ چین نے 35 سے 40 سال میں اپنے ملک کو غربت سے نکالا ہے۔ یہ انسانی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا اور یہی اقدام چین کے حوالے سے ساری دنیا کو متاثر کرتا ہے۔
میرا مقصد بھی لوگوں کو غربت سے نکالنا ہے۔ جب میں چین گیا تو میں نے غربت ختم کرنے کا طریقہ جاننے کی کوشش کی اور یہی وجہ ہے کہ ہم پاکستان میں چین کے ترقیاتی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اس کے ذریعے چین نے ترقی میں وسیع حصہ شامل کیا ہے۔
سی پیک اور چینی تعاون کے حوالے سے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دراصل سی پیک کے پہلے مرحلے میں روابط بڑھانے اور توانائی کی پیداوار پر توجہ دی گئی۔ اب سی پیک دوسرے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے جس کے تحت صنعتوں کو منتقل کرتے ہوئے زونز بنائے جارہے ہیں۔ ہم خاص طور پر زرعی شعبے کی پیداوار میں اضافے کے لیے مدد چاہتے ہیں کیونکہ چین میں زرعی پیداوار پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی ہمیں چین کی معاونت کی ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی کا انقلاب دنیا کا مستقبل ہے اور اس تناظر میں چین نے بہت ترقی کی ہے، اس لیے اس شعبے میں ہم چین کی مدد چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ ہم سلامتی پر توجہ نہیں دے رہے لیکن ہماری خاص توجہ معیشت پر ہے تاکہ ہماری دولت میں اضافہ ہو اور ہم لوگوں کو غربت سے نکال سکیں۔