کرپشن میں اضافہ کیوں؟

ٹرانسپیریسی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رینکنگ کے مطابق پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہو گیا ہے۔نئی رینکنگ کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی تین سکور کم ہونے کے بعد124سے گر کر 140تک پہنچ گئی ہے۔

سالانہ بنیادوں پر اس رپورٹ کو مرتب کرنے کے لیے بدعنوانی جانچنے والے 13مختلف سروے اور کم ازکم تین مختلف ڈیٹا ذرائع کو استعمال کیا جاتا ہے اوررپورٹ میں استعمال ہونے والی معلومات ورلڈ بینک اور ورلڈ اکنامک فورم جیسے معتبر اداروں سے اکٹھی کی جاتی ہیں۔پاکستان کے اعدادوشمار جمع کرنے کے لیے ورلڈ بینک، ورلڈ اکنامک فورم اور اکنامک انٹیلیجنس یونٹ جیسے اداروں کی رپورٹس کا استعمال کیا گیاہے۔حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا اسکور100میں سے28جب کہ درجہ بندی 180میں سے 140ہے۔سکور سے مراد کسی بھی ملک کے پبلک سیکٹر میں ہونے والی کرپشن کے بارے میں عوامی تاثر ہے۔رپورٹ کے مطابق اگر کسی ملک کا سکور صفر ہے تو وہ انتہائی کرپٹ ہے اور اگر 100 ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہاں بدعنوانی بالکل نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ہر سال جاری ہونے والی بدعنوانی کی اس رپورٹ میں درجہ بندی سے زیادہ سکور کی اہمیت ہے۔سکور میں ایک درجے کی تنزلی رینکنگ میں چار سے پانچ درجے تنزلی کا باعث بنتی ہے۔حالیہ رپورٹ میں پاکستان کا اسکور31سے گر کر 28تک پہنچ گیا ہے جس کا نتیجہ رینکنگ میں 16درجے تنزلی کی صورت میں نکلا ہے۔سکور اور درجہ بندی میں تنزلی کے حوالے سے گزشتہ سال ہمارے لیے سابقہ دس سالوں سے کم ازکم دو بنیادوں پر بدترین ثابت ہوا ہے۔ایک یہ کہ2015کے بعد پہلی بار ہمارا سکور30سے کم ہوگیا ہے اور دوسرا یہ کہ حالیہ درجہ بندی گزشتہ 11برسوں کی سب سے بری درجہ بندی میں شمار ہوتی ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی نائب چئیرپرسن جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ اقبال کا کہنا ہے کہ قانون اور ریاست کی بالادستی کی عدم موجودگی پاکستان کے کم سکور کی وجہ بنی ہے جب کہ حکومتی ترجمانوں کا اصرار ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر واویلا اس لیے بلاجواز ہے کہ آٹھ میں سے سات رپورٹس میں کوئی فرق نہیں، صرف ایک رپورٹ کے باعث سی پی آئی کی ٹوٹل رینکنگ میں تنزلی ہوئی ہے اور اس رپورٹ میں حکومتی سطح پر کسی قسم کی مالی کرپشن کا ذکر نہیں ہے۔

کرپشن کے حوالے سے حکومتی ترجمان جو مرضی کہتے رہیں تاہم حالیہ کرپشن انڈیکس میں پاکستان کے اسکور اور رینکنگ میں آنے والی ریکارڈتنزلی اس لحاظ سے کچھ زیادہ ہی تشویش ناک ہے کہ موجودہ حکومت گزشتہ ساڑھے تین سالوں سے کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے عزم کا برملا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ کرپشن کے خلاف عملی کاروائیوں کی حوصلہ افزائی کی باتیں کر تی رہی ہے۔حکومتی ترجمانوں کے مطابق رپورٹ میں مالی کرپشن کا تذکرہ نہیں حالانکہ رپورٹ میں صاف کہا گیا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ میں لاپرواہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بڑھا کر جمہوریت کو نقصان پہنچاتی ہے اور انسانی حقوق اور شہری آزادیاں ختم ہونے سے آمریت میں اضافہ ہوتا ہے جس سے بدعنوانی کی سطح بھی بلند ہوتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں صرف مالی کرپشن کو ہی کرپشن سمجھا جاتا ہے حالانکہ اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے طاقت کا غلط استعمال بھی کرپشن ہے اور ہائی لیول کی حکومتی سطح پر رہتے ہوئے عوامی بھلائی کے نام پر ریاستی پالیسیوں، رولزاور پروسیجرز کو توڑ مروڑ کراور وسائل کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنی طاقت، رتبہ اور دولت بڑھانا بھی کرپشن ہے۔

 اس میں کوئی شک نہیں کہ کرپشن ایک عالمی مسئلہ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مختلف ملکوں میں حکومتی و سیاسی اور سماجی و انتظامی سطح پر پائی جانے والی کرپشن کی نوعیت اور شدت میں فرق موجود ہے۔کرپشن کے حالیہ انڈیکس کی روشنی میں عالمی سطح پر جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ دنیا کے زیادہ تر ممالک میں مالی کرپشن سمیت دیگر نوعیت کی بدعنوانیوں میں کافی حد تک کمی آ چکی ہے لیکن ہمارے ہاں صورت حال اس کے برعکس ہوتی جا رہی ہے۔کرپشن کی عالمی درجہ بندی کرتے ہوئے سیاسی، انتظامی اور ادارہ جاتی سطحوں پر مالی کرپشن کے ساتھ ساتھ ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شہری آزادیوں کی صورت حال کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔اگرکرپشن اور منی لانڈرنگ کے خلاف برسرپیکار ہونے کی دعوے دار موجودہ حکومت کے ہرگذرتے سال میں کرپشن کی عالمی درجہ بندی میں تنزلی ہو رہی ہے تو پھر کہیں نہ کہیں تو گڑ بڑ ضرور ہے۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں سیاسی مخالفین کی مبینہ کرپشن کو ہائی لائیٹ کرنے میں اتنا زیادہ وقت صرف کیا گیا کہ مجموعی طور پر ملک اور معاشرے میں مختلف سطحوں پر پائے جانے والی بدعنوانیوں کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں ہو سکے۔ایک رپورٹ کے مطابق مشیر احتساب نے صرف شریف خاندان کے خلاف ساڑھے تین سالوں میں 180 بار پریس کانفرنسیں کرکے لوگوں کو یہ باور کرایا کہ کہ اس کے پاس شریف خاندان کی کرپشن کے مکمل ثبوت ہیں لیکن چند روز قبل ثبوتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے وزیراعظم صاحب کو ان سے استعفی لینا پڑ گیا۔

 موجودہ حکومت کے ساڑھے تین سالوں میں کرپشن کے خلاف احتسابی عمل کسی بھی سیاسی حکومت سے زیادہ تیز رفتاری سے جاری رہا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس احتسابی عمل کا رخ زیادہ تراپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں اور سابقہ حکمران خاندانوں تک محدود رہا۔حال یا مستقبل میں خطرناک ثابت ہونے والے سیاسی حریفوں کو محض کرپشن کے الزامات پر ہی بار بار جیلوں میں ڈالا گیا لیکن سیاسی جماعتوں کے واویلے کے باوجود بھی حکومتی منصوبوں میں سامنے آنے والی کرپشن پر کوئی کارروائی نہ ہو سکی۔اپوزیشن جماعتوں کے مطابق حکومت نے ایک طرف فارن فنڈنگ کیس کو کئی سال غیر قانونی حربوں سے لٹکانے کی کوشش کی تو دوسری طرف مالم جبہ اور ہیلی کاپٹر کیسزاور بی آر ٹی منصوبے میں ہونے والی کرپشن کا حساب نہیں لیا گیا۔ علاوہ ازیں پاور سیکٹر، ادویات کی درآمد اور آٹا چینی سکینڈلز میں وزیراعظم صاحب کے قریبی ساتھی ملوث پائے گئے لیکن اپوزیشن رہنماؤں کے برعکس ان کے خلاف احتسابی عمل کو چیونٹی کی رفتار سے آگے بڑھایا گیا۔

تلخ حقائق یہ ہیں کہ ہمارے ہاں  ہر برسراقتدار حکومت اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہوئے سیاسی مخالفین کے احتساب پر زور دیتی رہی ہے۔ہمارے ہاں سرمایہ دارانہ نظام اور کرپشن کو لاز م و ملزوم قرار دے کرکرپشن کے سدباب کے لئے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے حالانکہ سرمایہ داری کا گڑھ امریکہ اور متعدد یورپی ممالک نے احتساب کے نظام کو موثر بناتے ہوئے کرپشن میں خاطر خواہ کمی کی ہے۔ تلخ حقائق یہ ہیں کہکرپشن زدہ ملک میں کی جانے والی سرمایہ کاری کرپشن سے پاک ملک میں سرمایہ کاری کی نسبت20فیصد سے زائدمہنگی پڑتی ہے۔کرپشن میں کمی کے لیے" سب کا احتساب" ضروری ہے لیکن ہمارے ہاں صرف سیاسی مخالفین کے احتساب پر زور رہا ہے۔