لانگ مارچ اورتحریک عدم اعتماد
- تحریر سلمان عابد
- ہفتہ 29 / جنوری / 2022
- 4610
حزب اختلاف کی سیاست کے تناظر میں تین بنیادی نوعیت کے سوالات ہیں۔ اول کیا تقسیم شدہ حزب اختلاف یا یا داخلی محاذ پر عدم اعتماد کی بنیاد پر یہ جماعتیں حکومت کے لیے کوئی بڑی مشکل پیدا کرسکتی ہیں۔ دوئم کیا واقعی حزب اختلاف میں موجود تمام جماعتوں کا سیاسی ٹارگٹ ایک ہے یا یہ واقعی حکومت کا خاتمہ چاہتی ہیں۔ سوئم کیا موجودہ صورتحال میں حزب اختلاف کے پاس کوئی مضبوط صلاحیت موجود ہے کہ وہ واقعی حکومت کو گھر بھیج سکتی ہے۔
کیونکہ 2018کے بعد بننے والی تحریک انصاف کی حکومت کو فوری طور پر گھر بھیجنا حزب اختلاف کی حکمت عملی کا بنیادی نقطہ تھا۔لیکن حکومت بننے سے لے کر اب تک کی حزب اختلاف کی مجموعی سیاست کو دیکھیں تو اس میں ہمیں تضادات، ٹکراؤ اور باہمی داخلی کشمکش کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔بظاہر یہ ہی لگتا ہے کہ حکومت کو حزب اختلاف سے بڑا خطرہ نہیں او رجو خطرہ حکومت کو موجود ہے وہ اس کا اپنا داخلی حکمرانی کا بحران ہے۔اگرچہ ایک موقع حزب اختلاف کے اتحاد پی ڈی ایم کی صورت میں ایسا آیا تھا جو واقعی حکومت کے لیے کسی مشکل کا سبب بن سکتا تھا مگر اتحاد کی یہ شکل جلد ہی ہمیں ایک سیاسی تقسیم کی شکل میں دیکھنے کو ملی۔ کیونکہ پیپلزپارٹی او رعوامی نیشنل پارٹی کی پی ڈی ایم سے جبری یاسیاسی بنیاد پر علیحدگی نے حزب اختلاف کی سیاست کو کمزور کیا۔حزب اختلاف کی قیادت جس میں نواز شریف، مریم نواز، آصف زرداری، بلاول بھٹو، شہباز شریف سب نے اس اتحاد کو بھی او راس اتحاد میں شامل چھوٹی یا علاقائی جماعتوں کو مجموعی اتحاد کے ایجنڈے کے مقابلے میں ذاتیات پر مبنی ایجنڈے کے طو رپر استعمال کیا یا یہ سب ایک دوسرے کا کندھا استعمال کرکے خود کو طاقت ور طبقات میں متبادل قیادت کے طو رپر پیش کررہے تھے۔ اسی طرز عمل کی بنیاد پر چھوٹی جماعتوں جن میں اسفند یار ولی خان، محمود خان اچکزئی، آفتاب شیر پاو، عطا اللہ مینگل، انس نورانی کی جماعتوں کا کردار بھی محدود ہوا اور ان کی حالیہ دلچسپی او رگرم جوشی بھی کم دیکھنے کو ملتی ہے۔
حزب اختلاف کی تین بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی او رجے یو آئی کی جانب سے ساڑھے تین برسوں میں حکومت گراؤ مہم کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ حزب اختلاف کا یہ دعوی بھی غلط ثابت ہوا کہ حکومتی جماعت تحریک انصاف میں داخلی تقسیم اور ان کی اتحادی جماعتوں کی ناراضگی یا اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کے خرا ب تعلقات کی بنیاد پر حکومتی تبدیلی ناگزیر ہوگئی ہے۔ بلکہ دلچسپ پہلو یہ دیکھنے کو ملا کے پارلیمانی سیاسی جنگ کے مختلف مراحل میں حکومتی ارکان کے مقابلے میں حزب ارکان کی تعداد کم ہوئی او ران کو مختلف محاذپر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔حزب اختلاف میں بیانیہ کی لٹرائی یا اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراؤ یا محاذ آرائی یا مفاہمت کے ایجنڈے پر لڑائی دیکھنے کو ملی۔
مسلم لیگ ن کے اندر شہباز شریف فیکٹر او ربالخصوص ان کے ارکان اسمبلی کی سطح پر ٹکراؤکے ایجنڈے کی بنیاد پر مفاہمت کا ایجنڈا غالب ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کی سیاست او ربالخصوص آصف زرداری کی سیاسی حکمت عملی میں کسی بھی سطح پر اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراؤ پیدا کرنا یا نواز شریف کو سیاسی سہارا فراہم کرنا یا اداروں سے ٹکراؤ کے ایجنڈے پر نواز شریف مخالف رویہ تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مسلسل پیپلزپارٹی نے نواز شریف، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن کے ٹکراؤ کے ایجنڈے سے سیاسی فاصلہ رکھا اور طاقت ور حلقوں کو یہ ہی پیغام دیا کہ ہم نہ تونواز شریف کے ساتھ ہیں او رنہ ہی ٹکراؤ کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔
اب حزب اختلاف لانگ مارچ کی سیاست کو بنیاد بنا رہی ہے۔ پی ڈی ایم 23 مارچ کو جبکہ پیپلز پارٹی نے 27فروری کو لانگ مارچ کے اعلان کرکے خود ہی ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ بازی کا ماحول پیدا کردیا ہے۔ جو لانگ مارچ حکومت کے خلاف ہونا تھا وہ لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی او رمسلم لیگ ن یا پی ڈی ایم ایک دوسرے کے خلاف کرنا چاہتے ہیں یا ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اصل طاقت ہم ہی ہیں اور ہم کو ہی متبادل قیادت کے طو رپر لیا جائے۔جو کوشش مشترکہ لانگ مارچ کی تھی وہ عملی طو رپر ناکام ہوگئی ہے۔ دونوں جماعتوں کی سطح پر لانگ مارچ کے بارے میں وہ سیاسی گرم جوشی نہیں دیکھنے کو مل رہی جو نظر آنی چاہیے تھی۔مولانا فضل الرحمن، نواز شریف او رمریم نواز کی حالیہ سیاست میں بھی ٹکراؤ کی سیاست کا عنصر کمزور نظر آرہا ہے اور پارٹی کے سربراہ شہباز شریف پہلے ہی اس لانگ مارچ کے حامی نہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لانگ مارچ کا حربہ ان کے لیے مسائل پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ مولانا فضل الرحمن خیبر پختونخواہ کے مقامی انتخابات کے بعد اقتدار کی سیاست کا حصہ بن کر طاقت کے مراکز پر دستک دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ جبکہ پیپلز پارٹی کی حکمت عملی حکومت گرانے سے زیادہ حکومت پر دباؤ ڈال کر طاقت ور حلقوں کی حمایت کا حصول ہے۔ کیونکہ ان کو ڈر ہے کہ اگر وفاقی حکومت گرے گی تو اس کا عملی نتیجہ سندھ حکومت پر پڑے گا جو ان کو قبول نہیں۔
حزب اختلاف کی ایک حکمت عملی ہمیں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی صورت میں نظر آتی ہے۔ ابتدا میں اس کام میں پیپلزپارٹی کی گرم جوشی او راب مسلم لیگ ن کی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ لیکن یہ سب جانتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی کنجی اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ زیادہ دباؤ حکومت سے زیادہ اسٹیبلیشمنٹ پر ڈالا جارہا ہے کہ وہ حکومت کی حمایت سے دست بردار ہو اور اپنی حمایت یا شفقت کا ہاتھ ہم پر رکھے۔ایک مسئلہ تحریک عدم اعتماد کی صورت میں کون وزیر اعظم بنے گا او رکون اس بات کی ضمانت دے گا کہ وزیر اعظم کی تبدیلی کے بعد نیا وزیر اعظم فوری طور پر نئے انتخابات کا اعلان کرے گا۔ یہ سوچ کہ تبدیلی تحریک انصاف کے اندر سے آئے یعنی عمران خان کے مقابلے میں اسی جماعت کسی او ر کو وزیر اعظم کے طور پرپیش کیا جائے، بھی ممکن نہیں۔کیونکہ عمران خان ہی سیاسی حقیقت ہیں او رکوئی ان کا فی الحال متبادل نہیں یا تو وہ ہی حکومت میں رہیں گے یا ان کی حکومت کو ہی بھیجنا پڑے گا۔اصل میں لانگ مارچ کی سیاست ہو یا تحریک عدم اعتماد یا حکومت گراؤ ایجنڈا بنیادی مقصد حکومت کو دباو میں لانا اور ان کو سیاسی طور پرکھڑا نہ ہونے کی حکمت عملی ہے۔کیونکہ حزب اختلاف کو اندازہ ہے کہ اس وقت جو سیاسی مہم جوئی ہے اس کے ایجنڈے میں حکومت گرانے سے زیادہ خود کو متبادل قوت کے طور پر 2023کے انتخابات میں پیش کرنا ہے۔
اس وقت حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کی مجموئی سیاست 2023کے انتخابات او راس کی حکمت عملی سے جڑی نظر آتی ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ اگر ہم نے عمران خان کی حکومت کے مقابلے میں خود کو متبادل قوت کے طور پر پیش کرنا ہے تو اس کا بڑا طریقہ کار طاقت کے مراکز کے ساتھ کچھ لو او رکچھ دو کی بنیاد پر معاملات کو طے کرنا ہے۔لانگ مارچ یا عدم اعتماد کی تحریک بنیادی طور پر حکومت کے خلاف مستقبل کی سیاسی حکمت عملی میں ایک ہتھیار کے طور پر ایجنڈا ہے۔عوام کو باہر لانا او رایک بڑی تحریک کا ماحول پیدا کرنا فی الحال حزب اختلاف کے لیے ممکن نظر نہیں آرہا۔ اس حوالے سے جو مہنگائی مارچ کیے گئے اس میں بھی حزب اختلاف کوئی بڑا پاور شو نہیں کرسکے۔ اگر لوگ حکومت سے نالاں ہیں تو ان کی امید حزب اختلاف بھی نہیں ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ حزب اختلاف بھی سمجھتی ہے کہ لوگوں کو سڑکوں پرلانا ان کے لیے ممکن نہیں ہوگا اور جو سیاست ہورہی ہے اسے میڈیا کے محاذ پر گرم کرکے عمران خان کو بھی کمزور کیا جائے اور اسٹیبلیشمنٹ سے بھی کوئی مفاہمت کا راستہ نکالا جائے۔
اس لیے بیانیہ کی جنگ یا قانون و پارلیمان کی بالادستی یا ووٹ کو عزت دو سمیت جمہوریت کے جو نعرے ہمیں حزب اختلاف کی سیاست میں دیکھنے کو ملتے ہیں اس کے پیچھے محض سیاسی طاقت کا کھیل ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ حزب اختلاف کی سیاست سے وہ لوگ جو کل تک نواز شریف او رپیپلزپارٹی کی سیاست کو ایک بڑی سیاسی جمہوری جنگ کے طور پر پیش کررہے تھے۔ اب ان کا سیاسی بیانیہ بھی کمزور ہوگیا ہے اوروہ یہ اعتراف کررہے ہیں کہ حزب اختلاف بھی جمہوریت کی جنگ میں سنجیدہ نہیں۔