سیکس کس طرح زندگی کو معنی دیتی ہے؟

زندگی کو کیسے بامعنی بنایا جائے؟ اس سوال پر قدیم یونانی فلسفیوں کے زمانے سے بحث ہوتی رہی ہے۔ بحث اس سوال پر مرکوز ہے کہ ایک مکمل زندگی کے لیے کون سا زیادہ اہم ہے — جسم کی لذت یا دماغ (فکری سرگرمیوں) کی لذت۔

وہ لوگ جو لذت پسندی کو ترجیح دیتے ہیں، وہ خوشی کو مسرت کے تجربے اور دکھ یا درد کی غیرموجودگی سے تعبیر کرتے ہیں۔ ایک بامعنی زندگی، چنانچہ وہ زندگی کی معنویت کو جسم کی جنسی لذتوں سے منسوب کرتے ہیں۔ اس طرح لذیذ کھانے اور مشروبات اچھی زندگی کا ایک اہم جزو ہیں۔ لیکن اسی طرح جسمانی سرگرمیاں ہیں، جیسے کوئی کھیلوں میں حصہ لینا، رقص کرنا اور موسیقی سے لطف اندوز ہونا۔ اور پھر شدید ترین حسیاتی تجربہ یعنی جنسی سرگرمی۔ لذت پسندوں (Hedonists) کے مطابق، اعلیٰ ترین معیار زندگی کا مطلب ہے تسلسل کے ساتھ اطمینان بخش جنسی تجربے سے لطف اٹھانا۔

دوسری قسم کے لوگ جسمانی لذتوں کی نسبت دماغی سرگرمیوں کو ترجیح دیتے ہیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ کہ بامعنی زندگی جسمانی لذت سے ارفع ذہنی سرگرمیوں کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔ قدیم یونانی لوگ اس کیفیت کو یوڈیمونیا (Eudaimonia) کہتے تھے جس کا ڈھیلا ڈھالا ترجمہ جسمانی لذتوں سے اوپر اٹھ کر غور و فکر اور تخلیقی سرگرمیوں کی مدد سے زندگی کو معنی دینا تھا۔

یوڈیمونیا کو ترجیح دینے والے افراد یقینی طور پر یہ نہیں کہتے کہ زندگی کو تنہائی اور سادگی میں گزارنا چاہیے۔ تاہم ان کی رائے ہے کہ مسلسل سیکھنے رہنے اور غور و فکر سے حاصل ہونے والی مسرت زیادہ پائیدار ہوتی ہے جب کہ جنسی لذت سے حاصل ہونے والی خوشی دیرپا نہیں ہوتی۔ ایسے لوگ محبوب کے ساتھ باغ میں سیر کرنے کی بجائے ایک قابل بھروسہ دوست کے ساتھ گہری گفتگو کو زیادہ بامعنی شمار کرتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ جنسی لذتوں سے گریز کی تلقین نہیں کرتے بلکہ اپنی اپنی ترجیحات کو ازسرنو مرتب کرنے پر زور دیتے ہیں۔

گزشتہ چند دہائیوں میں مثبت نفسیات کے نام سے معروف مکتب فکر کے محققین نے سوال اٹھایا ہے کہ اچھی زندگی کیا ہے۔ یہ گروہ اس مسئلے پر زبانی بحث کے بجائے سائنسی طریقہ کار اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جارج میسن یونیورسٹی میں ماہر نفسیات ٹوڈ کاشڈن (Todd Kashdan) اور ان کے ساتھیوں کا موقف ہے کہ اب تک موضوعی فلاح و بہبود کے مطالعے میں مسرت پسندی کے بجائے یوڈیمونیا پر زیادہ توجہ دی گئی ہے، خاص طور پر جہاں روزمرہ زندگی میں جنسی معاملات کی کھوج کا تعلق تھا۔

شمالی امریکہ میں اب بھی کٹر مذہبیت (puritanism) کا ایک مضبوط دھارا موجود ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ فنڈنگ ​​ایجنسیاں جسمانی مسرت پر تحقیق کی بجائے جنس گریز رجحانات کے مطالعات کی مالی مدد کرنے پر زیادہ آسانی سے تیار ہو جاتی ہیں اور جرائد کے مدیر بھی ایسی تحقیق شائع کرنے کے لئے بے تاب رہتے ہیں۔ جنسیات پر شائع ہونے والے بیشتر مطالعات میں جنس کے بارے میں منفی پہلوؤں پر توجہ دی گئی ہے مثلاً جسمانی رشتوں میں قربت کے مسائل، جنسی استحصال اور جبر کے مضر اثرات وغیرہ۔ یقیناً یہ اہم مسائل ہیں اور ان سے نمٹنے کے مؤثر طریقے دریافت کرنے سے انسانوں کی ان کہی تکلیفوں کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے لیکن پروفیسر کاشڈن اور ان کے رفقا جنس کے مثبت پہلوؤں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا جنسی عمل میں مشغول ہونا زندگی میں معنویت کے احساس کو بڑھاتا ہے؟

انہوں نے اس تحقیق کے لیے کالج کے 152 طالب علموں کو شامل کیا جنہوں نے تین ہفتے تک ہر رات سونے سے پہلے ایک سروے کا جواب دینے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے اپنے بارے میں درج ذیل معلومات فراہم کی:

تعلق کی نوعیت: تقریباً 64 فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ وہ ایک پختہ تعلق میں ہیں، ان میں سے اکثر ڈیٹنگ کرتے ہیں لیکن کچھ ایک ساتھ رہتے ہیں یا شادی شدہ ہیں۔

تعلق کی قربت: دیرپا تعلق میں رہنے والوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے ساتھی سے کتنا قریب محسوس کرتے ہیں۔

تعلق کا دورانیہ: جواب دہندگان نے اپنے تعلق کا عرصہ بھی بتایا۔ زیادہ تر کا تعلق ایک سے پانچ سال تک محیط تھا۔

ہر رات سونے سے پہلے، شرکاء نے درج ذیل سوالات کے جوابات دیے۔

زندگی میں معنی — شرکاء نے اس سوال کا 1 ("بالکل نہیں”) سے 7 ("بہت زیادہ”) کے پیمانے پر جواب دیا: "آج آپ کو اپنی زندگی کتنی بامعنی محسوس ہوئی؟”

مثبت اور منفی اثرات – اسی 7 نکاتی پیمانے کا استعمال کرتے ہوئے، شرکاء نے اپنے چار مثبت موڈز (جوش، خوشی، اطمینان اور جوش) کے ساتھ ساتھ ان کے چار منفی موڈ (شرمندگی، مایوسی، اضطراب، اور اداسی) کا درجہ بیان کیا۔

جنسی سرگرمی – شرکاء نے بتایا کہ کیا انہوں نے اس روز جنسی تعلق قائم کیا تھا۔ اگر انہوں نے اس روز سیکس کی تھی تو اپنی خوشی اور قربت کے جذبات کی درجہ بندی بھی کی۔

توقع کے مطابق کاشڈن اور ساتھیوں نے دریافت کیا کہ جنسی سرگرمی اور جنسی پارٹنرز کے مثبت مزاج اور زندگی کے بامعنی ہونے کے احساس میں گہرا تعلق پایا گیا۔ تاہم اس ارتباط سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ جنسی سرگرمی کی وجہ سے مثبت مزاج نے جنم لیا یا اچھے موڈ کی وجہ سے دونوں ساتھی جسدمانی قربت پر مائل ہوئے۔ ہو سکتا ہے کہ سیکس کرنے سے لوگ خوش اور مطمئن محسوس کریں، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ خوش اور مطمئن لوگ زیادہ سیکس کرتے ہیں۔

اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے کہ آیا جنس زندگی کو معنی دیتی ہے، محققین نے ایک عارضی تجزیہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر غور کیا کہ آیا ایک دن کی جنسی سرگرمی کا اگلے روز کے مثبت موڈ اور تکمیل کے احساس سے کوئی تعلق تھا۔ اس سوال کا جواب اثبات میں ملا۔ واقعی ایسا ہی تھا۔ اس کے بعد انہوں نے دیکھنا چاہا کہ آیا ایک روز مثبت مزاج اور احساس معنویت سے اگلے دن جنسی سرگرمی کی پیش گوئی کی جا سکتی تھی۔ اس سوال کا جواب نفی میں ملا۔

دوسرے لفظوں میں، وقت کی تقدیم و تاخیر کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ جنسی سرگرمی ایک مثبت موڈ اور تکمیل کے احساس کو جنم دیتی ہے جو اگلے دن تک جاری رہتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج اسی نعویت کی دیگر تحقیقات کے نتائج سے مطابقت رکھتی ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ جنسی سرگرمی کے بعد ایک یا دو دن تک جنسی تعلقات میں شدت (After Glow) بڑھ جاتی ہے۔ محققین نے اس امکان سے انکار نہیں کیا کہ خوش اور مطمئن لوگ زیادہ پرجوش جنسی تعلق رکھتے ہیں تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ جنسی سرگرمی لوگوں کو خوش اور مطمئن کرتی ہے، نہ کہ ان کی خوشی اور احساس تکمیل انہیں زیادہ اچھے جنسی تعلق کی طرف مائل کرتے ہیں۔

مزید برآں، جب محققین نے پائیدار تعلقات میں رہنے والوں کا موازنہ ان لوگوں سے کیا جن کے جنسی تعلقات کا دورانیہ مختصر تھا تو ان دونوں گروہوں میں جنسی سرگرمی کے بعد زندگی کے مثبت مزاج اور معنی میں کوئی فرق نہیں پایا گیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ رائے درست نہیں کہ طویل عرصے پر محیط تعلقات پرسکون اور خوشگوار جنسی زندگی کی ضمانت دیتے ہیں۔ کاشڈن اور ساتھی اس نتیجے کی تشریح میں محتاط ہیں کیونکہ ان کے شرکاء کالج کے طالب علم تھے، جن کی عمریں زیادہ تر 18-20 کے درمیان تھیں۔ ان کا موقف ہے کہ آج کے نوجوان طالب علم، اپنے ہک اپ کلچر کے ساتھ، پچھلی نسلوں کے مقابلے میں عارضی مگر باسہولت (Casual) جنسی تعلقات کے بارے میں زیادہ مثبت رویہ رکھتے ہیں۔

ایک محقق نے بتایا کہ جب وہ 1970 کی دہائی میں کالج کے طالب علم تھے تو (Casual) جنسی تعلقات بہت عام تھے۔ فرق صرف یہ تھا کہ تب لوگ ایک رات کے جنسی تعلق کے لیے اپنے ساتھی سے اسمارٹ فون ایپ کے بجائے بار میں ملا کرتے تھے۔ ماضی میں مثبت نفسیات کے حامیوں نے اہم ترین نتیجہ یہ نکالا تھا کہ بامعنی سماجی تعلقات زندگی میں فلاح اور مقصدیت  کے لیے بے حد ضروری ہیں۔ جب دوسرے ہم میں دلچسپی اور تشویش ظاہر کرتے ہیں تو ہم خود کو درست محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح جب ہم دوسروں کے لیے اپنی دلچسپی اور تشویش کا اظہار کرتے ہیں، تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہماری زندگی معنی رکھتی ہے۔

تاہم کاشڈن اور ان کے ساتھیوں نے دریافت کیا ہے کہ جنسی شراکت داری صرف جنسی لذت تک محدود نہیں ہے۔ یہ بھی ایک سماجی عمل ہے۔ اور جب ہم اس طرح سیکس کے بارے میں سوچتے ہیں، تو اس نجی لمحات کی تسکین ہمارے مجموعی مزاج اور احساس تکمیل کو ترقی دیتی ہے۔ کسی انسان کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کیا ہو سکتی ہے کہ وہ باہم رضامندی سے عمیق ترین قربت کے انسانی تجربے میں شریک ہو کر خوشی حاصل کرے۔

(اس تحریر کے لئے پروفیسر کاشڈن اور Georgia Gwinnett College کے پروفیسر ڈاکٹر ڈیوڈ لڈن کی تحریروں سے استفادہ کیا گیا ہے)

(بشکریہ: ہم سب لاہور)